سرسید احمد خان نے مسلمانان ہند کو جدید تعلیم سے روشناس کرایا: سید عابد حسین

19 اکتوبر 2016

لاہور(خصوصی رپورٹر) سر سید احمد خان نے مسلمانان ہند کو جدید تعلیم سے روشناس کرایا۔ وہ علی گڑھ تحریک کے بانی تھے جس کے فارغ التحصیل طلبہ نے تحریک پاکستان میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد مایوسی میں مبتلا مسلمانوں کو اپنی تحریر و تقریر سے ہمت و حوصلہ عطا کیا اور تعلیم کے ہتھیار سے مسلح ہو کر انگریزوں اور متعصب ہندو اکثریت کے مقابلے کی ترغیب دی۔ ان خیالات کا اظہار نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے پاکستان آگہی پروگرام کے انچارج سید عابد حسین شاہ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں تحریک علی گڑھ کے بانی‘ مصلح اور ماہر تعلیم سر سید احمد خان کی یاد میں منعقدہ ایک خصوصی لیکچر کے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید عابد حسین شاہ نے کہا کہ آپ ہندوستان میں مسلمانوں کے جداگانہ تشخص‘ دو قومی نظریے اور علی گڑھ کالج کے بانی تھے۔ آپ17اپریل 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا ایک قابل ذکر رسالہ ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ ہے جو 1859ء میں شائع ہوا جس میں آپ نے بڑی جرات اور صاف گوئی سے ہنگامۂ ستاون کے حقیقی اسباب و وجوہ کا تفصیل سے تجزیہ کیا ہے۔ 1869ء میں آپ انگلستان گئے۔ آپ نے سرولیم میور کی کتاب ’’لائف آف محمدؐ‘‘ کے جواب میں محققانہ مقالات لکھ کر انگریزی میں چھپوائے جو بعد میں زیادہ تفصیل سے اردو میں ’’خطبات احمدیہ‘‘ کے نام سے چھپے۔ انہوں نے کہا کہ 1870ء میں وطن واپس آکر پوری تن دہی سے اصلاح قوم اور جدید سائنسی علوم کی ایک اقامتی اسلامی درس گاہ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کی طرز پر بنانے کی تیاریاں کیں۔ رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ جاری کیا۔ کالج کی بنیاد کے چند سال بعد ’’آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس‘‘ قائم کرکے سید صاحب ہر سال مختلف بڑے شہروں میں جلسے کرکے مسلمانوں میں تعلیم کی تبلیغ کرتے رہے۔ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے مل جل کر رہنے کا امکان ختم ہو گیا ہے اور ہندو اپنی اکثریت اور انگریزوں سے ملی بھگت کے بل بوتے مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔27 مئی 1898ء کو انتقال فرمایا اور علی گڑھ کالج کی مسجد کے گوشے میں دفن کئے گئے۔