مودی کے ’’بلوچ کاز‘‘ کو نائلہ قادری بلوچ کا جواب

19 اکتوبر 2016

یہ کالم باقاعدگی سے پڑھنے والوں کو شاید یاد آجائے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے جب 15اگست 2016ء کو اپنے ملک کی یومِ آزادی کے دن دلّی کے لال قلعہ کی چھت پر کھڑے ہوکر بلوچستان کے بارے میں بڑھکیں لگائی تھیں تو میرا پنجابی والا ’’ہاساچھوٹ گیا تھا‘‘۔ مودی کی لن ترانی سے کہیں زیادہ حیرت مجھے RAWکی صلاحیتوں کے بارے میں بھی ہوئی تھی۔
بھارت کا یہ جاسوسی ادارہ خود کو ’’تحقیق اور تجزیہ‘‘ میں مصروف رکھنے کا دعوے دار ہے۔اس کے لئے کام کرنے والے ’’مفکروں‘‘ کو مگر خبر ہی نہیں تھی کہ بلوچستان کو جب ’’آزاد‘‘ کرنے کی بات ہوتی ہے تو پاکستان سے کہیں زیادہ تکلیف ایران کو بھی ہوتی ہے۔ ایران کے ممکنہ ردعمل ہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ براہمداغ بگتی کو بھارتی شہریت دینا شاید ممکن نہیں ہوگا۔ دہلی میں بلوچستان کی ’’جلاوطن‘‘ حکومت کا قیام تو ویسے ہی دیوانے کی بڑتھی۔
بلوچ تاریخ اور روایت سے قطعاََ نابلد بھارتی بڑھک بازوں نے پاکستان کے خلاف احمقانہ Point Scoringکے ذریعے حاصل کیا تو صرف اتنا کہ پاکستان کے آئین میں لکھ کر دئیے حقوق کی بات کرنے والے میرے بلوچ بھائیوں کو بھی ہماری ریاست کے چند دائمی اداروں کی نظر میں مزید ’’مشکوک‘‘ بناڈالا۔ پنجاب کے کئی صحافی جو ریاست کے کئی طاقت ور اداروں کے غصے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی بلوچستان میں ہوئی زیادتی کا تواتر سے ذکر کیا کرتے تھے،مودی کی جانب سے ’’بلوچ کاز‘‘ کو اپنانے کے بعد محتاط ہوگئے۔ چند ایک یہ سوچنے پر مجبور بھی کہ بلوچستان کے ساتھ اپنی خلوص بھری محبت کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہیں بھارت کا کھیل تو نہیں کھیل رہے۔
بھارتی میڈیا میں بلوچستان کی محبت میں مبتلا ہوئے ’’انسانی حقوق کے علمبرداروں‘‘ نے شاید اب نائلہ قادری نام کی اس خاتون کا انٹرویو پڑھ لیا ہوگا جو اتوار کے دن وہاں کے DNAاخبار میں چھپاہے۔ بلوچستان کی سیاسی جدوجہد سے میں 1970ء کی دہائی کے آغاز ہی سے واقف ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ کئی بار گھنٹوں غوث بخش بزنجو مرحوم کے روبرو بیٹھ کر میں نے اس جدوجہد کی تاریخ اور امکانات کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت سے اب تک بلوچستان کے کئی سیاسی کارکنوں سے رابطے بنانے اور انہیں برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا ہوں۔ اس پورے عرصے میں نائلہ قادری بلوچ کا نام میں نے کبھی نہیں سنا۔ بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں لیکن اسے بلوچ حقوق کی چمپیئن بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ون آن ون انٹرویوز ہوتے ہیں۔ اخبارات میں اسے صفحہ اوّل پر جگہ دی جاتی ہے۔
بہرحال بھارت کو اس کے میڈیا کے توسط سے ’’بلوچستان سمجھانے والی‘‘اس ’’دانشور‘‘ نے روزنامہ DNAکے ذریعے مودی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ چاہ بہار کی بندرگاہ کی تعمیر وترقی میں حصہ ڈالنے سے گریز کرے۔ چاہ بہار، اس نے یاد دلایا ہے، سیستان -بلوچستان کا ہے۔ایران نے اس علاقے پر’’قبضہ‘‘ کررکھا ہے۔ ’’بلوچوں کے چاہ بہار‘‘ میں اگر بھارتی صنعت کار اور ہنرمند ’’ایرانی قابضوں‘‘کی مدد کرتے پائے گئے تو ’’بلوچ حریت پسند‘‘ ان پر حملے کریں گے۔ مختصر لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ نائلہ قادری بلوچ نے مودی سرکار کو واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ اگر وہ واقعتا بلوچوں کو ان کی ایک ’’آزادریاست‘‘ کے قیام میں مدد دینے کو تیار ہے تو معاملہ صرف پاکستان ہی سے نہیں ایران سے بھی نمٹانا ہوگا۔
مجھے یقین ہے کہ ’’تحقیق وتجزیے‘‘ کے دعوے دارRAWوالوں نے نائلہ بلوچ قادری کا تفصیلی انٹرویو غور سے پڑھ لیا ہوگا۔ مودی کو پڑھے لکھنے سے زیادہ شغف نہیں۔فرصت کے اوقات میں وہ پوجا پاٹ کرتا ہے۔ تقاریر کے ذریعے زہر اُگلتا ہے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ سے بھارت کے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنے کے بعد البتہ وہ خود کوایک ایسے سیلزمین کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے جو بھارت ہی نہیں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو اپنے ملک کی صنعتی ترقی میں حصہ ڈالنے کو آمادہ کرنا چاہ رہا ہے۔ صنعتی ترقی میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے کے لئے مگر اپنے ملک میں جنگی جنون کو ہوا نہیں دی جاتی۔
بھارت کے مودی سے پہلے اس کی جماعت BJPسے آیا اٹل بہاری واجپائی بھی سیاسی حوالوں سے ایک ہندو انتہاپسند تھا۔ نہرو کے ’’سیکولرازم‘‘ کا مخالف واجپائی مگر درحقیقت اس جمود کو توڑنا چاہ رہا تھا جو نہرو کے ’’سوشلزم‘‘ نے اس کے ملک پر مسلط کئے رکھا۔ ’’سوشلزم‘‘ کی جو شکل نہرو نے اپنے ملک میں متعارف کروائی تھی اس نے محض بھارتی ریاست کو مضبوط بنایا۔ اس کی افسر شاہی نے ’’پرمٹ اور لائسنس راج‘‘ کے ذریعے بھارتی سرمایہ کاروں کی راہ میں بلکہ بے تحاشہ رکاوٹیں کھڑی کیں۔ رشوت ستانی کو فروغ دیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھارت سے دور رکھا۔
نہرو کے متعارف کردہ سوشلزم نے بھارتی معیشت میں جمود کی جو کیفیت پیدا کی تھی وہ 1994سے 1996ء کے درمیان اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی نظر آئی۔بھارت کو سرکاری طورپر اپنا سوناگروی رکھ کر ورلڈ بینک جیسے اداروں سے قرضے لینا پڑے۔ اسی لئے نرسمہارائوکی حکومت مجبور ہوئی کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ جیسے ٹیکنوکریٹ کو اپنا وزیر خزانہ مقرر کرے۔ من موہن سنگھ نے بڑی محنت اور لگن کے ساتھ بھارتی معیشت کو سوشلزم کے نام پرمسلط ہوئی افسر شاہی کے چنگل سے آزاد کروانے کی راہیں تلاش کرنا شروع کردیں۔واجپائی نے اس کی دریافت شدہ راہوں پر چل کر بھارت کو "India Shining"والی بڑھک لگانے کے قابل بنایا تھا۔
واجپائی معاشی رونق لگاہی نہیں سکتا تھا اگر وہ پاکستان کے ساتھ جنگی تنائو میں اضافے کا ماحول بنائے رکھتا۔ اس تنائو میں کمی لانے کے لئے اس نے کارگل کو فراموش کرتے ہوئے جنرل مشرف کو باقاعدہ خط لکھ کر آگرہ بلوایا تھا۔ مذاکرات ناکام ہوگئے۔ دیرپاامن کی کوئی صورت نہ بن پائی۔بھارتی پارلیمان پر ہوئے ایک حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کی افواج سرحدوں پر حالتِ جنگ میں ایک سال تک متعین بھی رہیں۔ 2004ء میں بالآخر ایک سمجھوتہ مگر کرنا پڑا۔اس کے بعد آئے من موہن سنگھ نے بھی پاکستان کے ساتھ جنگی جنون کو ممبئی پر ہوئے حملے کے باوجود بڑھنے نہ دیا۔
مودی کو مگر اپنی چھاتی کی چوڑائی پربہت نازرہا ہے۔ برہان وانی کی وحشیانہ ہلاکت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کی جو لہر اُبھری ہے اس کا ریاستِ پاکستان سے قطعاََ کوئی تعلق نہیں۔ نام نہاد Non State Actorsکا بھی اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مودی نے بجائے مقبوضہ کشمیر میں خالصتاََ مقامی وجوہات پر اُٹھی اس لہر کو سمجھ کر سمجھوتوں سے انکار کردیا۔ سارا الزام پاکستان پر لگادیا اور جواب آں غزل کے طورپر گلگت-بلتستان اور بلوچستان کو ’’آزاد‘‘ کروانے کی بڑھکیں لگانا شروع کردیں۔ بالآخر دعوےSurgical Strikesکے بھی ہوئے۔
نائلہ قادری بلوچ کا ایک حوالے سے میں شکر گزار ہوں کہ اس نے بھارت کو یاد دلاڈالا ہے کہ ذکر جب بلوچستان کا ہوگا تو مشکلات صرف پاکستان ہی کے لئے نہیں ایران کے لئے بھی پیدا ہوں گی۔ چاہ بہار کو جدید بندرگاہ بنانا ایران کی ترجیح نہیں ہے۔ افغانستان تک پہنچنے کے لئے اس کے پاس مشہد سے ہرات کا تاریخی راستہ موجود ہے۔ چاہ بہار فی الوقت بھارت کے لئے زیادہ اہم ہے۔ نائلہ قادری بلوچ نے مگر یاد دلایا ہے کہ وہ ایران کا ’’مقبوضہ علاقہ‘‘ ہے جسے بلوچ ’’حریت پسند‘‘ آزاد کروانا چاہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں بلوچستان کی محبت میں اچانک مبتلا ہوا مودی اب چاہ بہار کی ’’آزادی‘‘ کے لئے کس حد تک جانے کو تیار ہوگا!!