اراضی قبضہ کیس: جن کو پلاٹ مل گئے ان پر تعمیرات شروع کی جائیں: سندھ ہائیکورٹ

19 اکتوبر 2016

کراچی (صباح نیوز) سندھ ہائی کورٹ میں گلستان جوہر بلاک چھ کے 404 رہائشی پلاٹوں پر قبضہ کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی عدالتی حکم کے باوجود قبضہ نہ دینے پر عدالت میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا ہے کہ جن کو پلاٹ مل گئے ہیں ان پر تعمیرات شروع کی جائیں خالی پلاٹوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے سب کو معلوم ہے ۔درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ چائنہ کٹنگ اور قبضہ مافیا نے لیز شدہ پلاٹوں پر قبضہ کر رکھا ہے لہٰذا خالی کروایا جائے۔ تاہم درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جن پلاٹوں کو خالی کرنے کے لیے مارکنگ کی گئی ہے اور انہیں خالی قرار دیا گیا ہے ان پر قبضہ مافیا نے نشانات مٹا دیئے ہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ جن کو پلاٹ کا قبضہ دے دیا گیا ہے ان درخواست گزاروں کو چاہیے کہ وہ تعمیرات شروع کر یں کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خالی پلاٹوں پر قبضہ مافیا دوبارہ قبضہ کر لیتا ہے۔ کے ایم سی کی جانب سے عدالت میں بتایا گیا کہ کچرا اٹھانے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے تھے اس حوالے سے ڈی ایم سیز کی ذمہ داری ہے۔