مجلس قائمہ نے پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ترمیمی بل پر غور مؤخر کردیا

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے خزانہ نے فارن کرنسی اکاؤنٹس کے قانون میں ترمیم کے لئے ’’پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز(ترمیمی) بل 2016ئ‘‘ پر غور مؤخر کردیا۔ ترمیمی بل کے محرک سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کو بتایا 1992ء کے ایکٹ کے تحت فارن کرنسی اکاؤنٹ کھول کر کوئی بھی شخص بیرون ملک رقم منتقل کرسکتا ہے۔اس میں کاروبار کی شرط بھی نہیں ہے۔ اس سے پوچھ گچھ کرنا بھی ممکن نہیں۔اتنی آزادی بھارت سمیت کسی ملک میں نہیں۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے ان کا ادارہ کسی ایمنسٹی سکیم کی حمایت نہیں کررہا ہے۔ پراپرٹی حقیقی ولیو کے بارے میں مشاورت کے بعد نیا ریٹ لایا گیا ہے جو اب بھی اصل ریٹ سے کم ہے۔ انہوں نے معلومات کے تبادلہ کے لئے او ای سی ڈی کنونشن پر دستخط کے حوالے سے کہا کہ کنونشن میں 103 ممالک شامل ہیں۔ تمام رکن ممالک معلومات فراہم کرنے کے لئے پابند ہیں۔ سوئٹزرلینڈ بھی اس کا حصہ ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کرنسی کا حجم بڑھنے کی وجہ سے سٹیٹ بنک کے ذیلی ادارے کے کچھ آپریشنز لاہور کے دفتر سے چلائے جائیں گے۔اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود‘ سینیٹر مشاہد اﷲ خان‘ سینیٹر فتح محمد حسنی نے چیئرمین ایف بی آر پر 25کروڑ روپے ہر ماہ باہر بھیجنے کے الزام کی مذمت کی۔