پنجابی کتابیات اور ڈاکٹرشہباز ملک

19 اکتوبر 2016

ڈاکٹرشہباز ملک ایک شخص نہیں بلکہ ایک ادارے کا نام ہے ڈاکٹر صاحب سے میرا تعارف اس وقت ہوا جب میں اسلامیہ کالج میں زیر تعلیم تھا اور ریڈیو پاکستان لاہور میں یونیو رسٹی پروگرام میں حصہ لیا کرتا تھا۔ ڈاکٹر شہباز ملک ان دنوں جزو وقتی براڈ کاسٹر تھے اور ریڈیو پاکستان لاہور میں زراعتی پروگرام کے کمپیئر تھے۔ پنجابی زبان و ادب سے محبت کی وجہ سے ان سے قرب حاصل ہوا۔ جو 45برس گزرنے کے بعد آج تک قائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا۔ میں انہیں اپنے استاد کا درجہ دیتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنی مادری زبان سے عشق ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فضیلت کا انحصار تین چیزوں پر ہے۔ علم، حلم اور عبادت۔ ڈاکٹر شہباز ملک نے تخلیق سے آغاز کیا اور تحقیق تک پہنچے۔ ابتدا میں انہوں نے ڈرامے، افسانے لکھے اور شاعری کی۔ پھر انتہائی خشک موضوع یعنی تحقیق اور تنقید کی طرف آ گئے۔ حال ہی میں ان کی مرتب کردہ ’’پنجابی کتابیات‘‘ شائع ہوئی ہے۔ جسے انگریزی میں BIBLIOGRAPHY کہتے ہیں۔ یہ جلد دوم ہے جسے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر نے شائع کیا ہے۔ پنجابی کتابیات جلد دوم ان کی 22 سال کی مسلسل محنت کا ثمر ہے جس میں فارسی عربی رسم الخط میں شائع شدہ پنجابی کی 13273 کتب کی کتابی معلومات درج کی گئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ زندگی کی سہولتیں اور آسانیاں حاصل کرنا چاہتے ہو تو مشکلات کا سامنا کرو۔ کامیابی کی تو بنیاد ہی ’’کام‘‘ ہے۔ پیرانہ سالی (اس وقت ان کی عمر ماشاء اللہ 79 برس ہے) کے باوجود وہ یہ مشکل کام کر رہے ہیں کہ یہ وقت بہت بڑی نعمت ہے، وہ اسے ضائع نہیں کرتے۔ وقت ضائع کرنا نا شکری ہے۔ ڈاکٹر شہباز ملک نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’میں خوشحال ان معنوں میں ہوں کہ اپنے حال پر خوش ہوں۔ حلال رزق کمایا، خود کھایا اور بیوی بچوں کو حلال کا لقمہ کھلایا‘‘ صوفی دانشور واصف علی واصف سے کسی نے پوچھا خوش نصیب کون ہے؟ جو اپنے نصیب پر خوش ہے۔ واصف علی واصف کا جواب تھا۔ ڈاکٹر شہباز ملک کی پنجابی کتابیات جلد اول 1991ء میں شائع ہوئی۔ یہ 12506 پنجابی کتب کی ببلیو گرافی ہے۔ دونوں جلدوں کو ملائیں تو پنجابی ادب کے پاس اب فارسی، عربی رسم الخط میں شائع شدہ 25779 پنجابی کتب کی ببلیو گرافی دستیاب ہو گئی ہے۔ ان دونوں جلدوں کے مکمل کرنے میں ڈاکٹر شہباز ملک صاحب کی زندگی کے 50 سال (آدھی صدی) صرف ہوئے۔ یہ ادارے کا کام تھا جو ایک شخص (ڈاکٹر شہباز ملک) نے تنہا کیا اور کر رہے ہیں۔ پنجابی کتابیات جلد دوم میں ان پنجابی کتابوں کا ذکر ہے جو 2012ء تک شائع ہوئیں۔ پنجابی کی یہ کتاب قومی جذبے کے تحت اردو میں پیش کی گئی۔ ڈاکٹر شہباز ملک 1997ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بطور چیئرمین شعبہ پنجابی ریٹائر ہوئے۔ انہیں مارچ 2010ء میں یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطس پنجابی (تاحیات) مقرر کیا گیا ۔ آپ کو 2003ء میں صدارتی اعزاز برئے حسن کارکردگی (پرائڈ آف پرفارمنس) سے نوازا گیا۔ ببلیو گرافی کے سلسلے میں سارا سارا دن بلکہ کئی کئی ہفتے ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے ڈاکٹر شہباز ملک کے دونوں کندھے Freez ہو گئے۔ چنانچہ ڈاکٹر کے مشورے سے ادارہ بحالی معذوراں میں زیر علاج رہے۔ ڈاکٹر شہباز ملک نے تحریک پاکستان میں بھی حصہ لیا۔ وہ دو قومی نظریے کے بہت بڑے حامی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے کتاب بھی لکھی۔
پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ دو قومی نظریہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان بنانے میں ہر شخص نے حصہ لیا۔ چاہے وہ سیاست دان تھا، تاجر، وکیل یا کسی بھی شعبے میں۔ پنجابی نے جو حصہ ڈالا، اس کا تذکرہ میں نے کتاب لکھ کر کیا۔ ان کی کتاب ’’آزادی دے مجاہد لکھاری‘‘ 1980 ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ’’تحریک پاکستان اور پنجابی ادب‘‘ 1983ء میں اور پھر ’’پنجابی ادب تے منزل پاکستان‘‘ 1995ء میں شائع ہوئی۔
ریڈیو پاکستان لاہور کے پنجابی مذاکروں میں بھی ڈاکٹر شہباز ملک اس موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ کشمیر کا مسئلہ اور پنجابی ادب کے حوالے سے بھی مذاکروں میں حصہ لیا۔ انہوں نے 1962ء میں کشمیر کے حوالے سے تین ڈرامے لکھے۔ جو ریڈیو سے نشر ہوئے۔ ایک ڈرامہ اردو اور دو پنجابی زبان میں تھے۔ ڈاکٹر شہباز ملک کا کہنا ہے کہ کشمیر کے مسئلے، کشمیری ادب اور کشمیر کے حوالے سے پنجابی زبان میں پچاس ساٹھ کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ڈاکٹر شہباز ملک کی اردو زبان میں ایک کتاب ہے ’’تحریک پاکستان اور پنجابی ادب‘‘ یہ بہت بڑا کام تھا جو انہوں نے کیا۔ اس کتاب میںپاکستان کی کہانی، جدوجہد اور تحریک کو بیان کیا گیا ہے۔ 1857ء سے شروع کیا اسکے بعد مسلم تشخص کی تحریکوں، 1930ء میں خطبہ الہ آباد، 1940ء میں قرارداد پاکستان اور 1947ء تک جو کچھ پنجابی میں لکھا گیا وہ سارا مواد اکٹھا کیا اور ساری کہانی بیان کر دی۔ ڈاکٹر شہباز ملک نیک خیالات کے مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز کرے تاکہ صحت مندی کے ساتھ پنجابی زبان و ادب کی خدمت سرانجام دیتے رہیں اور پنجابی زبان و ادب کو اسی طرح سرمایہ اسمائے کتب فراہم کرتے رہیں۔