کراچی میں دکانیں سات بجے بند کرنے کا فیصلہ،وزیراعلیٰ تاجر برادری کو اعتماد میں لیں

19 اکتوبر 2016

حکومت سندھ کی جانب سے شام سات بجے مارکیٹیں بند کرنے اوررات 10بجے تک شادی ہال بند کرنے کا فیصلہ تاجربرادری نے مجموعی طورپر رد کردیا ہے جبکہ چند چھوٹے گروپ اورکنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے حمایت کی جارہی ہے۔ یوں یہ فیصلہ متنازعہ بن گیا ہے اوردونوں جانب سے اپنے حق میں دلائل دیئے جارہے ہیں اس میں شک نہیں کہ بظاہر حکومتی فیصلہ مثبت ہے لیکن کراچی کے حالات اوریہاں کی روزمرہ زندگی کے معمولات ملک کے دیگر شہروں سے قطعی مختلف ہیں یہ شہر ویسے بھی ’’روشنی کاشہر‘‘ کہلاتا تھا کیونکہ اس کے شہریوں کا مزاج ہی شام کو شاپنگ کرنا اوردیگر تفریحی پروگرام کرنا ہے ۔ اس سے قبل بھی کئی بار دکانیں سات بجے بند کرنے اور شادی ہال دس بجے کرنے کے احکامات تاجروں اورعوام کی جانب سے رد کئے جاچکے ہیں اور اب بھی معاملہ متنازعہ ہے۔ لہٰذا حکومت کوچاہیے کہ باقاعدہ طورپر تاجر برادری اورکاروباری طبقہ کوا عتماد میں لے کرکوئی فیصلہ کرے۔ معاملہ اگرافہام وتفہیم سے حل ہوتو بہتر ہے ورنہ محض محاذ آرائی سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا افراتفری پھیلے گی حالات خراب ہوں گے اورسب سے بڑھ کر حکومتی ساکھ پرحرف آئے گا لہٰذا وزیراعلیٰ سندھ پر اس سلسلہ میں بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہیں سارے فیصلے افہام وتفہیم سے کرنے ہوں گے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...