تحریک انصاف کا دھرنا ۔نمٹنے کیلئے بھرپور حکومتی تیاری

19 اکتوبر 2016

عمران خان 2013ء کے انتخابات کے بعد سے آج تک تحریک انصاف نے دھرنوں اور جلسوں کی جو سیاست جاری رکھی ہوئی ہے، اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ شریف برادران اورمسلم لیگ کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں جوکچھ کریں وہ سب غلط ہے اور ان کے ہر اقدام کے خلاف لوگوں کو سڑکوں پر لانا ضروری ہے۔ عمران خان کے اس موقف سے اب تک ملک میں خیر کا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا بلکہ ان کے ایک سو چھبیس دنوں کے اسلام آباد دھرنے کا قومی معیشت کو شدید نقصان ضرور پہنچا۔ فیشن ایبل اور دولت مند لڑکوں اور لڑکیوں کے گھروں سے نکلنے اور راتوں کو بھی باہر رہنے کے جو اخلاقی نتائج مرتب ہوئے وہ بحث کا ایک علیحدہ موضوع ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما کبھی سنجیدگی سے بیٹھ کر اور ایک سر سری حساب لگا کر قوم کو یہ بتائیں کہ 2013ء کے انتخابات سے پہلے اور ان کے بعد احتجاجی تحریک میں انہوں نے کتنے کروڑ یا ارب روپے پھونک دیئے ہیں۔ یہ سوال کرنا تو بے کار ہے کہ اتنی خطیر رقوم انہیں کہاں سے ملیں؟ البتہ یہ پوچھنا ہر پاکستانی شہری کا حق ہے کہ اتنے سرمائے سے کتنے گھروںکے چولہے کب تک جل سکتے تھے۔ بلکہ ملک بھر میں دفتر روزگار قائم کرکے کتنے نوجوانوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام ہوسکتا تھا اس سے زیادہ کچھ کہنا فضول ہے کہ عمران خان شدید مایوسی کا شکار ہیں اور اپنی انا کی تسکین کیلئے وہ ملک کی دولت اور نوجوان نسل کا وقت ضائع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ہم قارئین کو بتاتے چلیں کہ خیبر پختونخواہ میں اچھی حکمرانی کے دعویدارعمران خان کی تحریک انصاف برسر اقتدار ہے لیکن وہ لوگوں کو سہولتیں دینے اور اپنے وعدوں کے مطابق خدمت کی مثالیں قائم کرنے کے بجائے اب تک انتخابات اور دھاندلی کی بھول بھلیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور اپنے دولت مند کارکنوں کا پیسہ بے دریغ لٹا رہے ہیں کاش وہ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کریں اور پارٹی کے پرجوش نوجوانوں کو تعمیری کاموں پر لگائیں۔عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ نواز شریف کو ان کی کرسی سے ہٹا کر عنان اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔ عمران خان اس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ پاکستان کو مثالی ریاست بنا دیں گے۔ عمران خان خیبر پختونخواہ کیلئے تو کچھ نہیں کرسکے وہ پورے پاکستان کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔
عمران خان نے اب 30 اکتوبر کے بجائے 2 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے یہ دھرنا 20 سالہ سیاسی جدوجہد کا فیصلہ کن دن ہو گا۔ دھرنا نہیں دھرنا ملیس ہوگا۔ اسلام آباد مفلوج ہو جائیگا۔ اس کو روکنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ وزیراعظم استعفیٰ دے دیں۔ یا مشترکہ اپوزیشن کے ٹی او آرز کے تحت احتساب دیں۔ کرپٹ مافیا ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ کرپشن کیخلاف اگر ابھی بھی نہ نکلے تو پھر تباہی کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔ عمران خان نے بتایا کہ تحریک انصاف پہلے مرحلے میں 7 سے 10 دن تک اسلام آباد میں مختلف مقامات پر دھرنا دے گی‘ پلان بی اور سی کے آخری مرحلے میں 10 دن کیلئے حکومت کو مفلوج کر دیا جائے گا‘ نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی نے اسلام آباد بند کرنے کے حوالے سے منصوبہ سازی کر لی ہے جسکے مطابق پہلے مرحلے میں دیا جائیگا‘ پلا ن بی اور سی کے آخری مرحلے میں حکومت کو 10 دن کیلئے مفلوج کر دیا جائیگا ‘ دھرنے کے دوران شرکاء کیلئے کھانا‘ رہائش اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ہوگا۔مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے کی ہوس میں ملکی مفاد سے کھیل رہے ہیں ‘ کسی کو اسلام آباد بند نہیںکرنے دینگے۔ وزیراعظم بننے کیلئے عوام کے دلوں میں جگہ بنانی پڑتی ہے ‘ عمران خان سڑکوں پر دھول اڑا کر ہرگز وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ ایسے حالات میں جب ملک کو اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے عمران خان ملک کو انتشار اور انارکی کی طرف لے جا نے پر تلے ہوئے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ دھرنے والے ملک کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن دھرنا ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔
سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف جہاں سے مرضی استعفیٰ دے ضمنی انتخابات ہی ہوں گے۔ عمران خان نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف کو بند گلی میں ’’بند‘‘ کردیا‘ ان کی وزیراعظم بننے اور (ن) لیگ کی حکومت کے خاتمے کی خواہش پوری نہیں ہوگی‘ پیپلز پارٹی نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے‘ (ن) لیگ کا کسی کے ساتھ کوئی مک مکاؤ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی شہروں کو بند کرنے کی سیاست کا حشر بھی دھرنوں جیسا ہی ہوگا‘ عمران خان کا ایجنڈا صرف ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا اور وزیراعظم بننا ہے‘ ملک میں عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے الزامات کا جواب اپنے ووٹرز اور عوام مطمئن کرنے کیلئے دیتے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ اسلام آباد بند کرنے کی دھمکیاں دینے والوں کی سیاست کو عوام 2018ء میں مکمل بند کردیں گے‘ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی علامت ہیں۔ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے دھرنے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے بھرپور تیاری کا عزم ظاہرکیا ہے، ذرائع کے مطابق اس بار تحریک انصاف کو فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا ۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعظم نے عوام اور اہم ملکی تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اسلام آباد کے ایک بہت بڑے پولیس آفیسر نے راقم کو بتایا کہ اسلام آباد میں پوری دنیا کے سفارت خانے ہیں ان سفارت خانوں کی وجہ سے عمران خان اسلام آباد کو بند نہیں کر سکیں گے۔ حکومت نے اسلام آباد بند کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں۔ملک اس وقت نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ قومی اتحاد کا بھرپور مظاہرہ کیا جائے۔اس نازک ترین موقع پر بھی تحریک انصاف کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا قابل افسوس ہی نہیں قابل فکر بھی ہے۔