سانڈ کے گھر سے لسی

19 اکتوبر 2016

کالم لکھتے وقت میرے ادارے نوائے وقت اور اس کے بانی میرے مرشد محترم مجید نظامی کی تربیت کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ تلخ سے تلخ حقیقت کو بھی ضبطِ تحریر میں لاتے ہوئے الفاظ کے چناؤ میں انتہائی احتیاط اور حلیمی کا عنصر ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ لیکن اسکے ساتھ اپنے مرشد نظامی صاحب کے متعلق ایک بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہو کہ نظم اور ضبط کے اس فلسفے کے ساتھ ساتھ انکے ایمان کا ایک جزو یہ بھی تھا کہ وطن کی محبت میں کسی بھی حد یہاں تک کہ جان سے گزرنا پڑے تو گزر جاؤ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ محب وطن انسان کے ایمان کی معراج کا سب سے بڑا زیور ہی یہی وصف ہوتا ہے۔ گو کہ کالم لکھتے وقت راقم کی یہ اولین ترجیح ہوتی ہے کہ میری تحریر جب الفاظ کا رزق اْگلے تو ضابطے سے انحراف کا امکانی شائبہ تک بھی نہ گزر پائے لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ اگر اج یہ کالم لکھتے وقت ضبط کا پیمانہ چھلک جائے تو مرشد اور قارئین دونوں سے پیشگی معافی کی درخواست اس یقین کے ساتھ کہ وطن کی محبت ایسی کئی گستاخیوں کی اجازت دیتی ہے انتہائی دکھ کے ساتھ عرض کروں کے پچھلے دو ہفتوں سے اپنے کالموں میں ان خطرات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ بیرونی سرحدوں پر جارحیت کے ارتکاب سے پہلے دشمن ہماری اندرونی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ہمیں ایسے اندرونی خلفشار میں مبتلا کریگا کہ ہم خود ہی ایک دوسرے کا گلہ کاٹنے کے درپے ہونگے۔ خدشات تو یہ تھے کہ اس ضمن میں کراچی اور بلوچستان کی صورتحال کو exploit کیا جائیگا اور کچھ بیرون ملک بیٹھے استین کے سانپ اس آگ کو بھڑکانے میں دشمنوں کا ساتھ دینگے لیکن خبر کیا تھی کہ اس گھر کو آگ لگے گی گھر کے چراغوں سے۔ وقت کی پکار تھی کہ اس نازک موڑ پر ملک کی سیاسی اشرافیہ عسکری طاقت کے شانہ بشانہ اپنے بیانیئے اور عمل کے ذریعے پوری دنیا کی توجہ دشمن کی اس ریاستی دہشت گردی کی طرف مبذول کراتی جسکا ارتکاب اور اعتراف دشمن ملک کا منتخب وزیراعظم بین الاقوامی سطح پر کر چکا ہے اور مستقبل میں بھی ایسے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کا اظہار کھلے عام کر رہا ہے لیکن اللہ بھلا کرے ہمارے ملک کے اُن تمام سیاستدانوں کا جنہوں نے اس ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے فرائض منصبی سے پہلو تہی کرتے ہوئے اپنی گفتار اور کردار کے ذریعے قومی وحدت کے بخئیے کچھ اسطرح ادھیڑے ہیں کہ خوف آتا ہے کہ کہیں ان کا یہ کردار سیاست کے نام کو اس قدر پراگندہ نہ کر دے کہ آنیوالی نسلوں کیلئے سیاست ایک گالی بن جائے۔ ذرا سوچیئے دشمن سرجیکل سٹرائیکس کی باتیں ہی نہیں دعوے کر رہا ہے۔ وقت کی پکار ہے کہ دشمن کے اگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں لیکن بدقسمتی کی انتہا دیکھیں ایسے میں ایک ایسی جماعت جو حب الوطنی کی سب سے بڑی دعویدار بنی پھر رہی ہے وہ اس اہم مسئلے پر بلائے گئے پارلیمنٹ کے اجلاس میں عدم شرکت کا فیصلہ صرف اس لئے کرتی ہے کہ اسے وہاں اس قائد ایوان کی موجودگی منظور نہیں جسے وہ جائز وزیراعظم نہیں مانتی حالانکہ اسی وزیراعظم کی زیر صدارت ہوئے اجلاس میں وہ ایک دن پہلے شرکت کرتی ہے۔ اسے وقت کا ستم کہیں یا جبر دوغلا پن کا عنصر ہمارے معاشرے کی رگوں میں اسقدر سرائیت کر چکا ہے کہ یہ کسی مخصوص ٹولے کی میراث نہیں رہا لیکن سیاست کا میدان شاید اس کیلئے بہت زرخیز ثابت ہو رہا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جب اپوزیشن کی یہی جماعت شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس جماعت پر حکومتی طبرے بازی ایک قومی فریضہ تصورکی جاتی ہے لیکن جب اسی حکومتی پارٹی کے بیشتر ارکان اس اجلاس میں عدم شرکت کے ذریعے غیر دلچسپی کا ثبوت دیتے ہیں تو پھر اس سلسلے میں ان حکومتی اکابرین کی زبانیں کنگ ہو جاتی ہیں۔ اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا دیکھیں اجلاس بلایا جاتا ہے دشمن کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کرنے کیلئے اور اسے ہدفِ تنقید بنانے کیلئے لیکن ہوتا کیا ہے کوئی دشمن کے جاسوس کا صحیح نام لینے پر شرط لگاتا ہے تو کوئی سکھوں کی لسٹیں لیک کرنا کا الزام لگاتا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہماری سیاسی اشرافیہ اتنی سادہ اور بھولی ہے کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کس آگ کا ایندھن بننے جا رہی ہے۔ غور طلب بات ہے کہ یہ کرپشن سکینڈلز کی پکار کوئی نئی نہیں پاکستان کی تاریخ کے ابتدائی چند سال چھوڑ کر باقی کا عرصہ ایسے الزامات سے بھرا پڑا ہے۔ اس چارج پر بینظیر اور نواز حکومتوں کی برخواستگی کی سمجھ تو آتی ہے لیکن محمد خان جونیجو کی حکومت کی معزولی کو اپ کس طرح اس زمرے میں لائیں گے۔ پانامہ لیکس اور اس سے جڑے حقائق کی سچائی سے کوئی ذی عقل اور ذی شعور انکاری نہیں ہو سکتا لیکن اگر چھ مہینے سے صبرکے گھونٹ اس سلسلے میں لگی آگ کی شدت کو قابو کیئے ہوئے ہیں تو وہ کونسی قیامت ہے جو اس صبر کو نومبر کے مہینے سے تجاوز کرنے سے روک رہی ہے۔ بس یہی ایک سوال ہے جو انگنت سوالات اور خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ یاد رہے نہ کبھی کوئی چھلنی میں پانی جمع کر سکا ہے اور نہ کوئی سانڈ کے گھر سے لسی حاصل کر سکا ہے۔ نقطہ اگر سمجھ ا جائے تو ٹھیک ورنہ یاد دہانی کیلئے 1956ء 1977ء اور 1999ء کی تاریخ بہت کچھ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس سے اگے عرض کروں کہ ان تاریخی حوالوں سے کسی ایک مخصوص گروہ کیلئے سبق تو ہے ہی لیکن اسکے ساتھ پچھلی ایک دہائی کی احتجاجی تحریکوں کا انجام ہر خاص و عام اور ہر ساقی و خاکی کیلئے اس سے بھی بڑھکر سبق سمیٹے ہوئے ہے۔ عراق، مصر، تیونس، لیبیا اور شام کی مثالیں چیخ چیخ کر وطن سے محبت رکھنے والے ہر شخص کو فکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ کہ ایسی تحریکوں کا انجام نان اسٹیٹ ایکٹرز کا فعال اور مضبوط ہونا ہوتا ہے جس سے وہ ملک داخلی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اور وہاں کی طاقتور فوج بھی اپنے ملک کے دفاع کے قابل نہیں رہتی مشتری ہوشیار باش فی زمانہ ہمارے خلاف برسر پیکار سامراجی قوتوں کا یہی حاصل مقصود ہے بس یہی ایک نقطہ ہے جو اگر سمجھ آ گیا تو ست خیراں ورنہ سر دی پگڑی ہتھ غیراں۔