کربھلا

19 اکتوبر 2016

خلافت و ملوکیت ’’بادشاہی نظام‘‘ کی بحث سے صرف نظر کرتے ہوئے فرمان نبی آخر پر غور کریں کہ میں اپنی امت کا باپ ہوں اور تمام ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اس میں مسلمانوں کا حسب نسب‘ ذات برادری اور قبیلے کی درجہ بندی کی شرط نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر مومن کا رشتہ براہ راست حضورؐ سے جڑ جاتا ہے‘ باپ کو اگر صدق دل سے باپ مانا۔ تو انکی آل یعنی بیت سے بھی ایک تعلق ایک احترام اور باہمی و دائمی رشتہ قائم ہو جاتا ہے‘ جس کا حکم آقائے دوجہاں نے کئی بار دہرایا ہے۔ کسی مسلمان کو بغض معاویہ کی گنجائش اور شک کی رعایت دینا شرعی طور پر ہی غلط ہے۔ ہمیں احترام و آداب نبیؐ کے تقاضوں کے پیش نظر اپنی آواز پست کرنے کا حکم ہمارے مالک و خالق نے زور دیکر دیا ہے اور اس ضمن میں بے شمار آیات میں تاکید کی گئی ہے کہ نبی محترمؐ کی محبت فرض ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے سوا ہر کسی کی محبت پر مقدم ہے‘ ورنہ انسان غضب قہار و جبار کی گرفت میں آجاتا ہے۔ اور خود خدا نے کہا کہ اے محبوب اپنی امت سے فرما دیجئے کہ مسلمانوں میں تم سے صرف اپنی قربت کیساتھ محبت کا سلوک کرتا ہوں صحابہ نے عرض کی آقاؐ کن کی محبت ہم پہ واجب کی گئی ہے فرمایا علی کرم اللہ وجہہ‘ حضرت فاطمہؓ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ‘ سید الانبیاء سید البشر‘ سید السادات‘ سید المرسلین کی لخت جگر سیدہ النساء حصرت بی بی فاطمہؓ سیدہ الشہدا حضرت امام عالی مقام کی والدہ محترمہ کی اولاد سید کہلاتی ہے جس کا مطلب ہے سردار‘ امام‘ پیشوا‘ اللہ اپنے بندوں سے عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔ حتیٰ کہ ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرنے والا رحیم و کریم ہے۔ وہ رب العالمین بغیر کسی تخصیص کے ہر ایک کو کافروں کو بھی رزق دیتا ہے اور یہی صفات حضورؐ میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں‘ سیدوں کی نشانی‘ سخاوت بھلا کرنا اور عفو و درگزر ہے۔ اگر کسی سید میں یہ وصف نہیں تو اسکا سید ہونا مشکوک ہے۔ حضرت علی ہجویری لکھتے ہیں ایک دفعہ جگر بند مصطفیٰؐ ریحان دل مرتضی نورؓ چشم زہرہؓ محمد ابوالحسن بن علی کوفے میں اپنے گھرکے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے‘ ایک بدو نے آکر آپکو گالی دی اور آپکے والدین کو بھی برا بھلا کہا (معاذ اللہ) آپ اٹھے اور کہا تم بھوکے پیاسے ہو یا تمہیں کوئی تکلیف درپیش ہے‘ اس نے پھر گالیاں دیں۔ آپکے حکم پر آپکے غلام نے ایک تھیلی چاندی کی بدو کے سامنے ڈال دی۔ حضرت حسنؓ نے فرمایا میری مجبوری ہے گھر میں اور کچھ نہیں ورنہ دریغ نہ کرتا۔ یہ سن کر بدو پکار اٹھا۔ میں تو آپکے درگزر اور حلم طبع کا امتحان لے رہا تھا‘ واللہ آپ فرزند رسولؐ ہیں محقق اہل صف کے مطابق سید مدح سے متاثر نہیں ہوتے اور سخت کلامی انہیں متغیر نہیں کرتی۔حضرت حسینؓ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی میں درویش ہوں۔ میرے اہل و عیال ہیں۔ آج رات کیلئے میں کھانا مانگنے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ میرا رزق آرہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت امیر معاویہؓ کی طرف سے پانچ ہزار دینار آگئے۔ حضرت معاویہؓ حکومت دینے کی بجائے دینار دیا کرتے تھے‘ حضرت حسینؓ نے ساری تھیلیاں سائل کو دے دیں۔ اور فرمایا تمہیں انتظار کی زحمت پر معذرت جو کچھ تھا وہ پیش کر دیا۔ ہم مبتلائے بلا ہیں۔ دنیا کی راحتوں کو ترک کر چکے ہیں۔ اپنے مقاصد کھو چکے ہیں۔ زندگی تو اوروں کی خاطر بسر کرنی چاہئے ہشام بن عبدالملک (امیر المومنین) حج پہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا‘ ہجوم کی وجہ سے حجر اسود کو بوسہ نہ دے سکا‘ اسی وقت دہکتے رخساروں‘ ماہ کامل کی طرح روشن چہرے خوشبو سے معطر لباس والے حضرت زین العابدینؓ بھی جب حجر اسود کے پاس آئے تو لوگ تعظیمناً ایک طرف ہٹ گئے‘ آپ نے بڑھ کر پتھر کو بوسہ دیا۔ کسی نے ہشام کو طعنہ دیا کہ آپ حکمران ہیں‘ لوگوں نے آپکو وہاں تک راستہ نہ دیا۔ وہ جوان رعنا آیا توسب لوگ ہٹ گئے‘ ہشام امیر المومنین نے کہا میں اسکو نہیں جانتا‘ دراصل وہ اس خوف میں مبتلا ہو گیا کہ لوگ حضرت زین العابدین کو پہچان کر انکی بیعت کرکے انہیں امیر نہ بنا لیں۔ فرذوق شاعر بھی وہاں موجود تھا اس نے کہا میں جانتا ہوں وہ کون ہے۔ اس نے اشعار پڑھے یہ وہ شخص ہے جس کے نقش قدم اہل مکہ پہچانتے ہیں حتیٰ کہ خانہ کعبہ اور حرم بھی انہیں جانتے ہیں۔ یہ خلق خدا میں سب سے اچھے آدمی کا بیٹا ہے۔ یہ متقی پرہیزگار اور مشہور ہے یہ فاطمۃ الزہرا کا لال ہے۔ اسکے نانا پر نبوت ختم ہوئی تُو جہالت سے اسے نہیں جانتا۔ ہشام ناراض ہو گیا اور شاعر کو قید کر دیا۔ یہ خبر حضرت زین العابدین تک پہنچی تو انہوں نے بارہ ہزار درہم شاعر کو بھجوا دئیے۔ اور کہلا بھیجا کہ ہم مجبور ہیں اس سے زیادہ درہم ہمارے پاس نہیں ہیں۔ سانحہ شام غریباں کے بعد جب لعین ابولہب ثانی شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار مردود مکار و عیار ابن زیاد و شمر و یزید‘ جیسے انسان نما جانوروں سے رحمت العالمین اور رب العالمین کی رحمت سے شہزادیاں اپنی عصمت بچا کر مدینہ منورہ یزید کیطرف سے حفاظت کیلئے بھیجے گئے معتبر شخص کے اچھے سلوک کیساتھ پہنچیں تو حضرت زینبؓ بنت علیؓ اور بنت حسینؓ نے اپنی چوڑیاں اور کنگن اسے بھیجے تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ واللہ میرا اچھا برتاؤ احترام نبیؐ کی وجہ سے تھا۔ یزید کے حق میں نرم خیال رکھنے والے کہ یزید شہادت حسینؓ کا خواہاں نہیں تھا۔ اسکے کمینے پن‘ دوغلے اور اس کدورت بھرے خیالات کے بارے میں کیا کہیں گے۔ نجانے کیوں قافلہ حسینیؓ پہ شب خون مارنے کے بعد وہ تاسف سے کہتا کہ خدا کی لعنت ابن زیاد پر جس نے حسینؓ کو لڑائی پر مجبور کیا لیکن ہمارے خیال میں لعنت تو یزید پلید پر ہے جو کبھی سانحہ کربلا کو حضرت حسینؓ کی اجتہادی غلطی کہتا‘ کبھی لب حسینؓ پہ چھڑی مارتا۔