مولانا جعفر قاسمیؒ کی یاد میں

19 اکتوبر 2016

مولانا جعفر قاسمی ایک معروف مذہبی سکالر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زندہ دل شگفتہ مزاج شخصیت تھے وہ ایک طویل عرصہ بی بی سی لندن کی اردو سروس سے وابستہ رہے اور 1965ء میں برطانیہ کو چھوڑ کر پاکستان واپس آگئے انہوں نے یورپ میں اپنے طویل قیام کے دوران 27سے زیادہ ممالک کی سیاحت کی اور مصر کی جامعہ الازہر سے لیکر دنیائے اسلام کی معروف یونیورسٹیوں اور دینی مدارس سے انکا رابطہ رہا۔ وہ فارسی زبان کے معروف شاعر اور ادیب شیخ سعدی کی طرح مسلسل ہر طبقے کے لوگوں سے رابطے رکھتے تھے اور ان روابط کے دوران انہیں اپنی قوت مشاہدہ سے کام لینے کا موقعہ ملتا رہا جسے وہ اپنے انگریزی اور اردو مضامین میں شائع کرواتے رہے۔ کسی زمانے میں انہوں نے روزنامہ پاکستان ٹائمز میں ایڈیٹر کے نام خطوط میں مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کے اظہار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ان کالموں میں بعض دفعہ علمی بحثوں کا آغاز ہوجاتا تھا اور بڑی بڑی علمی شخصیات ان بحثوں میں حصہ لیا کرتی تھیں۔
مولانا جعفر قاسمی دسمبر 1927ء میں چنیوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم قاضی غلام حسین مرحوم چنیوٹ کے ایک بڑے زمیندار تھے۔ 1948ء میں اُنکے والد محترم کا انتقال ہوگیا۔ مولانا جعفر قاسمی نے میٹرک اسلامیہ ہائی سکول چنیوٹ سے اعزاز کے ساتھ پاس کیا اور بعد ازاںگورنمنٹ کالج لائل پور (فیصل آباد) چلے گئے جہاں سے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی جس کا باقاعدہ تذکرہ کالج میگزین میں شائع شدہ پرنسپل کی اُس رپورٹ میں کیا گیا جو انہوں نے کالج کے سالانہ کانووکیشن میں پیش کی تھی جس کی صدارت گورنر پنجاب نے کی تھی۔ گورنمنٹ کالج لائل پور سے انٹرمیڈیٹ کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ جہاں انہیں صوفی تبسم اور خاں صاحب قاضی فضل حق جیسے اساتذہ کرام سے کسب فیض کا موقعہ ملا۔ اس زمانے میں جناب مجید نظامی بھی گورنمنٹ کالج میں زیرتعلیم تھے ۔ مولانا جعفر قاسمی کا زمانۂ طالب علمی ہی سے جناب مجید نظامی سے تعلق رہا اور بعد میں جب وہ لنکن اِن لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کررہے تھے تو اُس وقت بھی جناب مجید نظامی اُن کے ساتھ تھے۔ اس دوران اپنے تعلیمی و رہائشی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مولانا جعفر قاسمی بی بی سی کی اردو سروس سے وابستہ ہوگئے اور ’’صدائے عام‘‘ جیسے کئی مقبول پروگراموں کا آغاز کیا وہ بی بی سی لندن کی اردو سروس کے معماروں میں سے تھے اس دوران انہوں نے اردو سروس کے پروگراموں میں ہمیشہ عالم اسلام اور پاکستان کے قومی و ملی مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے بعض رفقائے کار کو اس چیز سے کوئی غرض نہ تھی کہ پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران اور بعد ازاں بی بی سی لندن کی اردو سروس سے وابستگی کے دوران مولانا جعفر قاسمی کا رابطہ جناب محمد حسین صوفی سے ہمیشہ رہا جو کہ پاکستان کی سول سروس کے ایک ممتاز رکن تھے۔ 1962ء میں مولانا کچھ عرصہ کے لئے پاکستان آئے اور یہاں اُن کی شادی بیگم قیصرہ قاسمی سے ہوئی جو قائداعظم کے سٹاف میں شامل میجر (ر) محمد افضل خان کی صاحبزادی تھیں۔ شادی کے بعد وہ دوبارہ انگلستان چلے گئے جہاں انکے بڑے صاحبزادے مدثر حسن قاسمی کی پیدائش ہوئی۔ 1965ء میں مولانا جعفر قاسمی نے پاکستان واپسی کا فیصلہ کرلیا اور اُنہی دنوں میں جب میں سکول کا طالب علم تھا مولانا جعفر قاسمی سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ اگرچہ 1962ء میں انکی شادی کی تقریب بھی میرے حافظے میں موجود تھی لیکن اب ان سے رابطے کا زیادہ موقعہ اس لئے ملا کہ وہ رشتے میں میرے حقیقی ماموں تھے۔ وہ جب بھی اپنے ملنے والوں کے پاس جاتے تو مجھے یا میرے بڑے بھائی آصف قاضی کو اپنے ساتھ رکھتے تھے اسی طرح میرے خالہ زاد بھائیوں قاضی اعجاز احمد مرحوم اور محمد اکرم ملک سے بھی انکا بڑی محبت اور شفقت کا تعلق تھا۔
جب میں نے مڈل سٹینڈرڈ اور بعد میں میٹرک کے امتحانات نمایاں حیثیت سے پاس کئے تو مولانا جعفر قاسمی نے مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلے کاگرانقدر مشورہ دیا جو میں نے قبول کرلیا۔
مولانا کی پاکستان واپسی کے بعد جناب محمد حسین صوفی جو حکومت پاکستان میں کیبنٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے مولانا جعفر قاسمی کو محکمہ اوقاف میں ڈائریکٹر ریسرچ کے عہدے پر فائز کروادیا۔ بعد ازاں مولانا جعفر قاسمی ڈائریکٹر تعلقات عامہ اوقاف اور ڈائریکٹر علماء اکیڈمی کے عہدوں پر فائز رہے۔ کچھ عرصہ وہ بورڈ آف ریونیو میں ایڈیٹر (گزٹیئر) کے عہدے پر بھی متمکن رہے جب انہوں نے محسوس کیا کہ یورپی معاشرے اور پاکستانی معاشرے میں ایک واضح فرق ہے اور یہاں پر بااصول لوگوں کے لئے مشکلات زیادہ ہیں تو وہ ایک طویل عرصے کے لئے گوشہ نشین رہے۔
مولانا جعفر قاسمی پاکستان میں روم کے سلسلہ الشازلیہ کے خلیفۂ مجاز تھے اور پاکستان میں اسی سلسلے کے ماننے والے معروف قانون دان اے کے بروہی مرحوم اور ایران میں ڈاکٹر حسین نصر بھی تھے۔ معروف دانشور سراج منیر مرحوم اور اقبال اکادمی کے ڈائریکٹر سہیل عمر بھی الشازلیہ سلسلے میں بیعت تھے۔
مولانا جعفر قاسمی نے 12 اکتوبر 1991ء کو فیصل آباد میں انتقال فرمایا اور اپنے آبائی شہر چنیوٹ میں دفن ہوئے۔ انکے حلقہ احباب میں اشفاق احمد خاں، عاشق حسین بٹالوی، راجہ صاحب محمود آباد، ڈاکٹر رشید احمد جالندھری، جناب مجید نظامی، جناب مجیب الرحمن شامی، جی ایم سکندر اور ڈاکٹر امجد ثاقب بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔