موسم سرما میں گیس لوڈشیڈنگ

19 اکتوبر 2016

سردیوں میں پنجاب کیلئے گیس لوڈشیڈنگ کا فیصلہ، لوڈ مینجمنٹ پلان جاری، دسمبر تا فروری پنجاب کے صارفین کو رات دس سے صبح پانچ بجے تک گیس نہیں ملے گی۔ وزارت پٹرولیم نے پنجاب کے تمام صارفین کو رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک گیس کی سپلائی بند رکھنے کا اعلان کر کے موسم سرما میں عوام کو ٹھنڈا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر پٹرولیم نے پنجاب کے گیس صارفین پر گیس بم گراتے ہوئے باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد پنجاب میں گیس کی طلب پوری کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پنجاب کے گیس صارفین اس طرح کی صورتحال سے دو چار ہوں گے۔ یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ اس وقت بھی کئی شہروں میں گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے لوگوں کے چولہے سرد ہیں۔ گیس سپلائی میں 40 فیصد کمی کا مطلب ہے کہ شہری اب کے موسم سرما کی سرد راتوں میں ہیٹر اور گیزر کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ گیس لوڈشیڈنگ کے باعث روز مرہ زندگی کے معمولات اور کاروبار پر پڑنے والے منفی اثرات سب پر عیاں ہیں۔ طرفہ تماشا ہے کہ تمام تر حکومتی دعوئوں کے باوجود توانائی بحران اور گیس کی سپلائی میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیںآتے۔ ٹرانسمیشن کی بوسیدہ لائنیں تبدیل کرنے کے علاوہ لیکج اور چوری روکنے کے اقدامات بھی نہیں سوچے گئے جبکہ گیس کمپنی کے ذرائع خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ گزشتہ تین برسوں میں سوئی نادرن ریجن میں 10 ارب روپے کی گیس چوری ہوئی۔ صنعتی اور کمرشل گیس کنکشن پر پابندی ہونے کے باعث گھریلو کنکشن سے براہ راست گیس چوری کی جارہی ہے۔ کمپنی اورحکومت کو اسے روکنے کیلئے کوئی ٹھوس اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا چاہئیے تاکہ موسم سرما کی ٹھنڈی اور یخ راتوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کر کے عوام کو دہری اذیت میں مبتلا کرنے کی نوبت نہ آئے۔موجودہ صورتحال میں جبکہ حکومت پہلے ہی دبائو میں ہے‘ گیس بند کرنے کا غیرمقبول فیصلہ حکومت کے گلے پڑ سکتا ہے۔