رحیم یار خان میں دو مسافر بسوں میں تصادم

19 اکتوبر 2016

رحیم یار خان میں دوبسوں میں خوفناک تصادم، 30 جاں بحق 57 زخمی، حادثہ خطرناک موڑ پر تیز رفتاری سے اوورٹیک کرتے ہوئے پیش آیا۔
اوور ٹیکنگ اور تیز رفتاری کے باعث ایسے المناک حادثات میں بے شمار قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود ہماری انتظامیہ اور مقامی حکام ان سے بچائو کی کوئی تدبیر میں ناکام نظر آتے ہیں۔ جس مقام پر یہ حادثہ ہوا وہاں اس سے قبل بھی متعدد حادثات میں کئی جانیں ضائع ہوچکی ہیںمگر انتظامیہ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اگر یہاں حفاظتی انتظامات کیساتھ سڑک کی حالت بہتر بنائی جاتی، اسے مزید وسیع کیا جاتا اور ٹریفک سگنل لگایا جاتا تو یہاں آئے روز کے حادثات کی نوبت نہ آتی۔ انتظامی غفلت اپنی جگہ بدقسمتی سے ہمارے ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیور حضرات بھی ٹریفک رولز کی پابندی کرنا کسر شان سمجھتے ہیں۔ ناخواندہ، نشئی، اناڑی کم عمر ڈرائیور جس طرح کی ڈرائیونگ کرتے ہیں اسکا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ تیز رفتاری، اوورٹیکنگ کی وجہ سے پورے ملک میں حادثات کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے۔ مگر کوئی بھی ادارہ پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت زار اور ڈرائیورز کی تربیت بہتر بنانے پر توجہ نہیں دے رہا۔ کھلم کھلا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مال و زر کے لالچ میں جلد پہنچنے کی کوشش میں سواریوں کی زندگیوں کو دائو پر لگایا جا رہا ہے جسے روکنا بہرحال حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صوبائی حکومت سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور انکی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ و ٹریفک قوانین کی پابندی کی لازمی قرار دے تو ایسے خونی حادثات سے بچا جاسکتا ہے۔