بدھ ‘ 17 ؍ محرم الحرام 1438ھ‘ 19 اکتوبر 2016ء

19 اکتوبر 2016

سندھ حکومت کی درخواست پر رینجرز کے خصوصی ا ختیارات میں مزید 90 روز کی توسیع
اتنی خاموشی سے یہ کام پہلے بھی ہوتا تو شاید قائم دائم والی سرکار کو کچھ عرصہ اور وزارت اعلیٰ میں خواب خرگوش کے مزے لوٹنے کے مل جاتے۔ اب اس خبر کے بعد کچھ دیر کیلئے مدہوش قائم شاہ جی کو ہوش تو آ ہی گیا ہو گا کہ وہ کون کون سے وزیر اور مشیر تھے جو رینجرز کے قیام میں توسیع کے خلاف ان کو بھڑکاتے تھے اور محاذ گرم کئے رکھتے تھے۔ وہ سب آج کیوں منہ بند کئے کان لپیٹے مردہ بنے پڑے ہیں۔ ہو سکتا ہے قائم جی کو یہ بھی پتہ چل ہی جائے کہ ان کو ہٹانے کی سازش دوبئی میں تیار کی گئی ہو اور انہی کے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ مل کر رینجرز کی تعیناتی کے بے ضرر سے مسئلے کو اتنا اچھالا گیا کہ شاہ جی کو تخت سے اٹھا کر اسمبلی کی کرسی پر بٹھا دیا گیا جس میں مزہ ہے نہ آئو بھگت نہ سلام ہے نہ کلام۔ اب تو ان کو دیکھ کر باچھیں کھول کر سلام کرنے والے چوبدار بھی دائیں بائیں ہو جاتے ہوں گے۔ سچ کہتے ہیں بھیا…؎
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
آج مراد علی شاہ راج سنگھاسن پر براجمان ہیں تو ایسے کون سے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ کسی طرف سے ایک صدائے بے ضرر بھی سنائی نہیں دیتی۔ ورنہ ابھی کل ہی کی تو بات ہے اس مسئلے کو پیالی کا طوفان بنا دیا گیا تھا حالانکہ سب جانتے تھے ہونا کچھ بھی نہیں پھر بھی قائم علی شاہ جیسے ناتواں شخص کو اتنا دوڑایا گیا کہ وہ میدان سے ہی باہر ہو گئے اور نئے فیل اور اسپ میدان میں لائے گئے۔ شاید یہ سارا ڈرامہ رچایا ہی اس لئے گیا تھا کہ دوبئی والوں کی مراد بر آئے…
…٭…٭…٭…٭…
عمران خان کا اعلان، اسلام آباد کے شہریوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
عمران خان کے گزشتہ طویل دھرنے سے متاثرہ اسلام آباد کے شہریوں نے اب اس بار اس بلائے ناگہانی سے نجات کیلئے قبل از وقت اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ اسلام آبادیوں (بر وزن لاہوریوں، سیالکوٹیوں) نے اب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ انہیںاس محاصرے سے بچایا جائے۔گزشتہ محاصرے میں آئے ان شہریوں کو دوران دھرنا شور شرابا گندگی اور آنے جانے کی رکاوٹوں کی وجہ سے جو عذاب سہنا پڑا‘ لگتا ہے اب یہ لوگ دوبارہ اس عذاب میں مبتلا ہونا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں اب عام پاکستانیوں سے ہٹ کر صاف ستھرے ماحول میں شور شرابے سے دور رہنے کی عادت ہو گئی ہے۔ حالانکہ ان سب میں سے اکثریت کا تعلق بھی دیہی علاقوں سے ہے جہاں عام طور پر ایسی سہولتیں دستیاب نہیں جو اسلام آباد میں ہیں۔ اب دیکھنا ہے عدالت کیا کرتی ہے اور خان صاحب کیا کرتے ہیں۔ خان صاحب تو باز آنے والے نہیں لگتے۔ مولانا قادری نے بھی لندن سے ان کیلئے دعائیں بھیجی ہیں۔ وزیر بے تدبیر کے طور پر شیخ رشید کی مشاورت انہیں حاصل ہے تو بھلا وہ رکنے والے کہاں۔ انہوںنے اس بار اسلام آباد کو مکمل محاصرہ میں لینے کا اعلان کیا ہے تو دیکھنا ہے شہری اسلام آباد خالی کرتے ہیں یا عدالت اور حکومت ان کا دفاع کرتی ہے…
…٭…٭…٭…٭…
1996ء میں میچ فکسنگ عروج پر تھی: شعیب اختر
ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہمارے ہاں پس مرگ واویلا کیوں کیا جاتا ہے۔ جب میچ فکسنگ عروج پر تھی تو اس وقت شعیب جی نے طوفان کھڑا کیوں نہیں کیا۔ اس وقت وہ مصلحت یا نیم رضامندی کے فلسفے پر عمل پیرا تھے۔ ابھی کل تک وہ نہایت عاجزی سے آفریدی اور جاوید بھائی کو صلح کیلئے منتیں ترلے کر رہے تھے۔ جنگ بندی اور صلح کے فوائد بیان کر رہے تھے۔ اب یہ ایک دم کیسی کایا کلپ ہو گئی کہ دوسروں کو پرانے مردے اکھاڑنے سے روکنے والا خود ہی گڑھے مردے اکھاڑنے لگ گیا۔ اب تو لگتاہے…؎
دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
اب راولپنڈی ایکسپریس بنا پھاٹک کے کراسنگ پر لوگوں کو کچلتی ہوئی گزر رہی ہے۔ اس کا جواب کہیں نہ کہیں تو اسے دینا ہی پڑے گا۔ کیونکہ اس دور میں بڑے بڑے دھانسو قسم کے کھلاڑی پاکستان کی ٹیم کی رونق بڑھا رہے تھے اب وہ بھی راولپنڈی ایکسپریس کے دعوے کی رو سے میچ فکسنگ میں ملوث نظر آ رہے ہیں، عامر کو برے لوگوں سے دور رہنے کا مشورہ دینے والے کیا خود ایسے لوگوں کے قریب نہیں تھے۔ جن کی کہانیاں آج بھی کئی لبوں پر مچل رہی ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…
سرجیکل سٹرائیک ڈرامے میں ناکامی کے بعد مودی حکومت نے رام مندر کا تنازعہ کھڑا کر دیا
سرجیکل سٹرائیک ڈرامے میں ناکامی و نامرادی ہاتھ آنے کے بعد ڈر تو یہ تھا کہ کہیں مودی جیسا انتہاء پسند ’’آتم ہتھیا‘‘ ہی نہ کربیٹھے مگر افسوس اس موذی سے یہ بھی نہ ہو سکا۔اب ملک اور دنیا بھر سے سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے کا پہلا شو ہی فلاپ ہونے پر مودی سرکار کو جو بے بھائو کی پڑ رہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی طبیعت خاصی بحال ہو چکی ہے اس لئے برکس سے لے کر بمسٹک کانفرنس تک ہر جگہ مودی جی منہ پر بارہ بجائے بیٹھے رہے۔ کیونکہ کوئی ان کی بے پرکی اڑائی سننے کو تیار نہیں تھا۔ یہ تو بس امریکہ کا ہی سہارا ہے ورنہ مودی تو شاید برسر عام رو پڑتے اس تذلیل پر۔
اب ان برے حالات سے نکلنے کیلئے مودی حکومت نے ایک بار پھر ہندوئوں کی دکھتی رگ یعنی رام مندر کی تعمیر پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور یو پی میں الیکشن جیتنے کیلئے ایک بار پھر یہ ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ شاید اس بہانے اس صوبے میں (جہاں مسلمان اکثریت میں ہے) بھی بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع مل سکے۔ ورنہ کون سا رام مندر کہاں کی جنم بھومی۔ رام کی اصلیت مودی جیسا راون کیسے جان سکتا ہے۔ وہ امن کا محبت کا ہیرو تھا۔ کہاں رام کی پریم کی بنسری کہاں مودی کی نفرت بھری چنگھاڑ…