مطالبِ اذان

19 اکتوبر 2016

’’اذان کالغوی معنی اعلام ہے یعنی کسی چیز کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا، خبردار کرنا، مندرجہ ذیل آیۃ کریمہ میں یہ لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
’’اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے اس امر کا اعلان کیا جاتا ہے کہ مشرکین کااللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔(التوبہ ۳) اصطلاح شریعت میں اذان کا معنی ہے ’’مخصوص کلمات کے ساتھ فرض نماز کے وقت کے بارے میں اعلان کرنا ہرقوم اپنے مذہبی اجتماعات کے انعقاد کے وقت کسی نہ کسی انداز سے اعلان کرتی ہے تاکہ اس کے ہم مذہبوں کا وقت کو پتہ چل جائے کہ اب ان کی مذہبی رسوم ادا کرنے کا وقت ہوگیا ہے۔ سب لوگ پہنچ جائیں‘‘۔
’’نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پنج گانہ نمازوں کے اوقات کے اعلان کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ بڑا انوکھا اور معنی خیز ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں جو معنویت سے لبریز ہیں اور اتنے دل آویز ہیں کہ فورا دل کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔
پہلے جملے میں اس روشن حقیقت کا اعلان فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ سیاسی مذہبی اورعلمی معبودانِ باطل میں سے کوئی بھی نہیں جو علم حکمت اور قدرت میں اس کی ہمسری کا دم بھر سکے۔ اس حقیقت کو چار بار دہرایا تاکہ سننے والوں کی لوح دل پر یہ نقش ثبت ہوجائے، اس کے بعد وہی اعلان کرنے والا یقین و ایمان سے سرشار ہوکر یہ گواہی دیتا ہے کہ اس سب سے بڑے کے سوا اور کوئی خدانہیں، کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہ جملہ دوبارہ دہراتا ہے تاکہ سننے والوں کو اس اعلان کرنے والے کے عقیدے کے بارے میں کوئی شک نہ رہے۔
بعد ازاں اعلان کرنے والا ایک دوسری حقیقت کی صداقت کی گواہی دیتا ہے۔ جس نے ہمیں یہ سبق یادکرایا ہے اور جس کا نام نامی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے وہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ان دوحقیقتوں کے دل آویز اعلان کے بعد اب وہ مقصد وبیان کیا جا رہا ہے۔جس کے لیے یہ سارا اہتمام کیا گیا۔ ’’آ جائو نماز کی طرف، آجائو نماز کی طرف‘‘ یعنی اپنے رب کریم و قدیر کی بارگاہ عالی میں سجدہ ریز ہونے کے لئے حاضر ہوجائو،کیوں؟ اس کا جواب آنے والے دو جملوں میں دیا۔کہ یہی نماز دونوں جہانوں میں سرفراز ہونے کا ذریعہ ہے اسی حاضری میں تمہاری فلاح دارین کا راز مضمر ہے۔ دنیا و آخرت میں سرخرو اور سرفراز ہونے کی امنگ ہے تو سارے کام چھوڑ کر اپنے مولا کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوجائو۔ پھر اذان کی ابتدء میں بیان کردہ حقیقت کو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر آخرمیں دین اسلام کے اعلیٰ ترین مقصد کے ذکر کے ساتھ اذان کوختم کردیا۔ لاالہ الا اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے بغیر اور کوئی معبود نہیں‘‘۔(ضیاء النبی)
’’مجھے ہے حکمِ اذان لاالہ الا اللہ‘‘