دو قومی نظریے کے بانی سرسید احمد خان

19 اکتوبر 2016

برصغیر کے مسلمان اپنے محسنوں اور قومی ہیروز کے بارے میں بڑے سنگدل واقع ہوئے ہیں جن عظیم ہستیوں نے مسلمانوں کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں اور تن من دھن کی قربانی دی وہ ہماری یادوں سے محوہو چکے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا نے ایک ماڈل گرل ایان علی کو میڈیا سٹار بنا دیا جس پر منی لانڈرنگ کا الزام تھا اور جو رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی۔ افسوس میڈیا جرائم کو تو اُچھالتا ہے مگر ہمارے قومی ہیروز کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ سرسید کے یوم ولادت کو میڈیا نے اہمیت نہیں دی۔ سرسید احمد خان (17اکتوبر 1817 - 27مارچ 1898) دو قومی نظریے کے بانی تھے انہوں نے سب سے پہلے مسلمانوں کو نیشن (قوم) قرار دیا۔ مورخین کے مطابق سرسید نے مسلمانوں کی آزادی کا بیج بویا تھا۔ سرسید کی علی گڑھ تحریک پاکستان کی تحریک کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی۔ 1946ء کے انتخابات جو پاکستان اور اسلام کے نام پر لڑے گئے ان میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ نے ہر اول دستے کا کام کیا۔ طلبہ قائداعظم کے اشارے پر اپنے گھر بار چھوڑ کر پنجاب، سندھ اور سرحد (کے پی کے) کے شہروں اور دیہاتوں میں پہنچے اور مسلم لیگ کا پیغام ہر گھر تک پہنچایا۔ سرسید نے علی گڑھ سکول کی بنیاد 1857ء میں رکھی جسے 1875ء میں کالج اور 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ قائداعظم نے بیسیوں بار علی گڑھ یونیورسٹی کا دورہ کیا وہ اس یونیورسٹی کو اپنا سیاسی اسلحہ خانہ سمجھتے تھے۔ علی گڑھ تحریک تعلیم کے فروغ کی تحریک تھی۔ سرسید نے اس تحریک کے لیے بے مثال جذبے اور جنون کا مظاہرہ کیا اور تاریخ میں بابائے تعلیم کہلائے۔ علی گڑھ تحریک نے جن افراد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا انہوں نے مختلف شہروں میں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی۔ گاندھی نے سرسید کو ’’تعلیم کا پیغمبر‘‘ قرار دیا۔ جب آل انڈیا کانگرس قائم ہوئی تو اس کے پہلے اجلاس میں سرسید کو شرکت کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول نہ کی اور مسلمانوں کو خبردار کیا کہ وہ کانگرس میں شامل نہ ہوں کیوںکہ کانگرس ہندوئوں کی جماعت ثابت ہوگی۔ سرسید کا وژن اس وقت درست ثابت ہوا جب قائداعظم کچھ عرصہ کانگرس میں شامل رہ کر ہندو ذہن کو جاننے اور پرکھنے کے بعد کانگرس سے الگ ہوگئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد مسلمان انگریزوں اور ہندوئوں کے زیر عتاب آگئے۔ ہندوئوں نے مسلمانوں کو باغی ثابت کرنے کے لیے سازشیں شروع کردیں۔ اس نازک گھڑی میں سرسید احمد خان نے مسلمانوں کا مقدمہ لڑا انہوں نے ’’رسالہ اسباب بغاوت ہند‘‘ لکھ کر جنگ کے اصل اسباب اور محرکات کو بے نقاب کیا اور انگریزوں سے ملاقاتیں کرکے دلائل کے ساتھ مسلمانوں کا مقدمہ پیش کرکے الزامات کا دفاع کیا۔ بقول اقبال سرسید مسلمانوں کے ہمدرد، معاون اور رہنما ثابت ہوئے۔
مبتلائے درد کوئی عضو ہو تو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
سرسید نے درجنوں کتب اور سینکڑوں آرٹیکل قلم بند کیے۔ سیرت پر کتاب اور قرآن پاک کی تفسیر لکھی بعد میں آنے والے مفسرین نے سرسید کی تفسیر سے استفادہ کیا۔ سرسید نے بائبل کا مقدمہ لکھ کر اسلام اور عیسائیت کی مماثلتوں کو نمایاں کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو اسلام کے سنہری اُصولوں برداشت اور رواداری پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ سرسید نے زور دیا کہ ’’مسلمان دنیا کے سامنے اسلام کا چہرہ پیش کرنے کی بجائے حقیقی اسلام کے سچے پیروکار کے طور پر اپنا چہرہ پیش کریں اور کردار، علم، برداشت اور تقویٰ کا مظاہرہ کریں تاکہ غیر مسلم ان کے کردار سے متاثر ہوکر اسلام کی جانب راغب ہوں‘‘۔
علامہ اقبال نے کہا کہ ’’سرسید کی عظمت یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے پہلے مسلمان تھے جنہوں نے اسلام کی نئے حالات کے مطابق تعبیر اور تشریح کی۔ سرسید نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس تشکیل دی جو مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ سیاسی مسائل کا پلیٹ فارم ثابت ہوئی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد بنی۔ قائداعظم لائبریری نے سرسید ایجوکیشنل فائونڈیشن پاکستان کے اشتراک سے سرسید احمد خان کے یوم ولادت پر تقریب کا اہتمام کیا جس کی صدارت پاکستان کے ممتاز صحافی اور دانشور مجیب الرحمن شامی نے کی جبکہ پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات و ثقافت رانامحمد ارشد مہمان خصوصی تھے۔ فائونڈیشن کے چیئرمین سرسید کے نواسے سیدم اسد اللہ، قائداعظم لائبریری کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ظہیر احمد بابر، کالم نگار، افضال ریحان، پروفیسرمحمد مظہر عالم، پروفیسر مسز بشارت جمیل اور راقم نے سرسید احمد خان کی شخصیت، کردار اور ان کی تاریخ ساز قومی خدمات کے بارے میں اظہار خیال کیا۔مہمان خصوصی نے یقین دلایا کہ سرسید کا یوم ولادت منانے کے لیے سکولوں اور کالجوں کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ مجیب الرحمن شامی نے صدارتی خطاب میں کہا ’’سرسید اگر نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا انہوں نے مسلمانوں کے لیے عظیم سیاسی، سماجی، تعلیمی اور مذہبی خدمات انجام دے کر پاکستان کا بیج بویا۔ وہ مغربی جمہوری نظام کے خلاف تھے کیونکہ اس نظام میں اقلیت کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں تھی لہذا سرسید نے مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مذہبی فکر کو نئے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ جوڑا ان کا دماغ روشن اور دل مسلمان تھا وہ ملائیت کے خلاف تھے۔’’دین ملا فی سبیل اللہ فساد‘‘ نے مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کو جنم دیا ہے جو حقیقی اسلام نہیں ہے۔ مسلمان سرسید کی پرمغز تحریروں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ مجیب الرحمن شامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرسید کی ولادت کو دو صد سال پورے ہونے پر 2017ء کو سرسید کا سال قراردیا جائے‘‘۔ تقریب کے اختتام پر سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ بلاشک سرسید احمد خان عظیم مفکر، فلاسفر، مورخ، مفسر، سیرت نگار، مصلح اور مذہبی و سیاسی رہنما تھے۔ آج پاکستان کو ایک اور سرسید کی ضرورت ہے جو تعلیمی اور اصلاحی تحریک برپا کرکے پاکستانی سماج کو شعور اور بلوغت کے اس معیار تک پہنچا دے کہ پاکستان اجتماعی طور پر انصاف، مساوات، برداشت، رواداری، اخوت، امانت، دیانت اور صداقت کی شاہراہ پر گامزن ہوجائے۔
ٹیک کلب ٹیک سوسائٹی میں ڈاکٹر محمد صادق کی صدارت میں پاکستان وژنری فورم کی ایک فکری نشست ہوئی جس کا موضوع ’’پانامہ لیکس اور گڈ گورنینس‘‘ تھا۔ اس نشست کے مہمان خصوصی وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق آنریری مشیر پاکستان فریڈم موومنٹ کے چیئرمین ہارون خواجہ نے جامع اور پُرمغز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آج بھی انگریزوں کا نظام رائج ہے جو عوامی خدمت کے لیے نہیں بلکہ حکمرانی کے لیے وضع کیا گیا تھا لہذا اس کلونیل نظام کو تبدیل کیے بغیر گڈ گورننس کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے قوانین ناقص اور فرسودہ ہیں جن میں استحصال، کرپشن اور اقربا پروری کی گنجائش موجود ہے یہی وجہ ہے کہ بااثر افراد قومی دولت لوٹ کر پاکستان سے باہر لے جاتے ہیں اور قوانین ان کو پکڑنے سے قاصر رہتے ہیں۔گڈ گورننس کے لیے لازم ہے کہ ریاستی اداروں کو شفاف اور خودمختار بنایا جائے ریکروٹمنٹ میرٹ پر کی جائے ذمہ داری اور اتھارٹی ان افراد کو سونپی جائے جن کے پاس نالج ہو۔ ہارون خواجہ نے کہا کہ پاکستان کا بجٹ سو سال گزر جانے کے بعد بھی لیگ آف نیشنز کی گائیڈ لائین کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ ماڈل ویلج بنائے جائیں تاکہ لوگ شہروں کا رخ نہ کریں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی جائے۔ پولیس کو کمیونٹی کے کنٹرول میں لایا جائے تاکہ حکمران پولیس کو اپنے اقتدار اور سیاسی مخالفین کے انتقام کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ انہوں نے موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے تجویز پیش کی کہ وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثے ڈکلیئر کرکے نئے انتخابات کا اعلان کریں اور عوام سے مینڈیٹ لیں۔ اس فکری نشست میں دانشور میجر شبیر احمد، ٹیکنوکریٹ خالد محمود سلیم، زیبر شیخ، ڈاکٹر حسیب اللہ، جمیل گشکوری، پروفیسر پروفیسر مشکور صدیقی، رانا امیر احمد ایڈووکیٹ رانا طارق محمود، کالم نگار سلمان عابد، ڈاکٹر عطیہ سید،جی ایم لالی، ڈاکٹر مصباح چٹھہ، جمیل بھٹی، محمود الرحمن چغتائی اور محمد عظیم نے اظہار خیال کیا۔