بھارت کی داخلی سیاست اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی

19 اکتوبر 2016

29 ستمبر کو بھارت کی طرف سے آزاد کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھارت میں سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم اور اس کی کابینہ تو پریشان ہے ہی کہ اتنے بڑے جھوٹ کو ثابت کس طرح کیا جائے۔ بھارتی عسکری اداروں کے سربراہان بھی منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ اپنے ہی ڈی جی ملٹری آپریشنز کی میڈیا کے سامنے کہی ہوئی بات کی نفی کس طرح کریں۔ بھارتی جرنیل نے سرجیکل سٹرائیک کے حوالے سے آزاد کشمیر کے جن علاقوں کا ذکر کیا اور جس انداز سے ان علاقوں میں بھارتی کمانڈوز کی طرف سے دہشتگردوں کے لانچنگ پیڈ پر کریک ڈاؤن کی تفصیلات جاری کیں اسے سن کر ایک لمحے کیلئے تو پاکستان میں بھی لوگ پریشان ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں اوڑی میں بھارتی فوج کے کیمپ پر حملہ کے بعد سے بھارت کی طرف سے بنائے گئے جنگی ماحول سے بھی لگتا تھا کہ بھارت کوئی ہاتھ کر گیا ہے تاہم پاک فوج کی طرف سے ایسے کسی بھی سرجیکل آپریشن کی واضح اور دو ٹوک الفاظ میں تردید کے بعد پاکستان اور بھارت کے اندر سے بھی ثبوت دکھانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ بھارت میں ابھی اس مسئلے پر بحث جاری تھی کہ یکم اکتوبر کو آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پاکستانی اور عالمی میڈیا کو ہمراہ جا کر آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ان مقامات پر کھڑا کر دیا کہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ کہیں حملے‘ جنگی آپریشن یا سرجیکل سٹرائیک کے کوئی آثار نظرآتے ہیں؟ عالمی میڈیا کے نمائندے حیران تھے کہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر ہے جہاں غیر ملکی صحافیوں کو جانے کیلئے ویزہ نہیں ملتا اور اگر اجازت مل جائے تو سری نگر کے مخصوص علاقوں سے باہر جھانکنے تک کی اجازت نہیںہوتی اور کہاں آزاد کشمیر ہے جس کی لائن آف کنٹرول پر آج وہ کھڑے ہیں۔ انہیں آزادی ہے کہ وہ مقامی لوگوں سے سوالات پوچھیں‘ انہیں لائن آف کنٹرول پر لگی باڑ اور اسکے پار بھارت کے زیر قبضہ کشمیر بھی نظر آ رہا تھا۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے مہمان صحافیوں سے سوال کیا کہ کہاں ہیں لانچنگ پیڈ اور وہاں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں کدھر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب تعینات پاک فوج کے جوان افغانستان کی سرحد کے قریب دہشت گردوں کیخلاف جنگ لڑ کر آئے ہیں جو وطن کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ دشمن کے سپاہی آئے تو سلامت واپس نہیں جائیں گے۔
بھارت پاکستان کی طرف سے ایسے کسی بھی ردعمل کیلئے تیار نہیں تھا۔ کانگرس جماعت کے لیڈروں نے بیان دیا کہ جعلی سرجیکل سٹرائیک منظور نہیں‘ بھارتی وزیر دفاع نے زچ ہو کر بیان دیا کہ ثبوت مانگنے والے غدار ہیں۔ پاکستان چلے جائیں۔ راہول گاندھی نے نریندر مودی پر بھارتی فوجیوں کے خون کا سودا کرنے کا الزام لگا دیا تو بھارتی کابینہ کے ایک وزیر نے کانگرس والوں سے سوال کر ڈالا کہ کیا انہیں بھارتی فوج کی صلاحیت پر شک ہے؟ کانگرس کے رکن اور سابق وزیر داخلہ چدمبرم نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی‘ جعلی سرجیکل سٹرائیک کو اترپردیش کے ریاستی انتخابات جیتنے کیلئے تیار کیا گیا ڈرامہ اور سیاسی ہتھیار قرار دے دیا۔ اترپردیش کے ریاستی انتخابات کا ذکر آیا تو بھوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اترپردیش میں اپوزیشن لیڈر مایاوتی نے بھی بی جے پی اور بھارتی وزیراعظم پر لفظی سنگ باری کر دی کہ مودی لائن آف کنٹرول پر جنگ کا ماحول پیدا کر کے یو پی میں حالات خراب کرنا چاہتا ہے تاکہ چند ماہ بعد ہونیوالے انتخابات میں بی جے پی کی جیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت میں داخلی سیاست‘ اس میں شامل مسلمانوں کیخلاف تشدد اور اس صورتحال کا پاک بھارت تعلقات پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے کیلئے یہاں اترپردیش کا مختصر سیاسی جائزہ ضروری ہے۔ یو پی میں نچلی ذات‘ دلت و شیڈول کاسٹ کے ہندوؤں کی آبادی 40 فیصد ہے۔ اعلیٰ ذات کے ہندو برہمن‘ ٹھاکر یا جاٹ وغیرہ 22 فیصد اور دیگر بہت سے ہندو قبائل ملا کر مجموعی طور پر ہندو آبادی 59.37 فیصد بنتی ہے۔ 1.01 فیصد سکھ اور بدھ ہیں جبکہ مسلمانوں کی آبادی مبہم یعنی 40 یا اس کے لگ بھگ ہے۔ یو پی کے مسلمان باقی ماندہ بھارتی صوبوں میں آباد مسلمانوں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور خوش حال ہیں۔ الہ آباد‘ مراد آباد‘ اعظم گڑھ‘ غازی آباد اور لکھنؤ اسلامی روایات و تمدن کی وجہ سے خاص شناخت رکھتے ہیں تو دوسری طرف نچلی ذات کے ہندوؤں کی بڑی آبادی بھی اترپردیش سے ہی تعلق رکھتی ہے جن کی معاشرتی حیثیت باقی ماندہ بھارت کے دلتوں یا نچلی ذات کے ہندوؤں سے بہت بہتر ہے۔ لکھنؤ‘ اترپردیش کا صوبائی دارالحکومت ہے جو مسلمانوں اور ہندوؤں کیلئے مذہبی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل شہر ہے۔ مسلمانوں کی آبادی چھپانے کیلئے 2015ء کی مردم شماری کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں لائے گئے جبکہ 2001 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی یو پی کا 42 فیصد تھی جس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ 2014ء کے مرکزی انتخابات میں بی جے پی کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے دھمکی دی کہ وہ اترپردیش کو گجرات بنا دینگے۔ ان کا واضح مقصد یو پی کے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا تھا کہ اگر انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہ دیا تو گجرات کی طرح 2002ء میں مسلمانوں کے خون سے کھیلی گئی خون کی ہولی کی طرح اتر پردیش کے مسلمانوں کوبھی خون میں نہلا دینگے جس کے جواب میں اندرا نیشنل کانگرس کے اترپردیش سے تعلق رکھنے والے لیڈر عمران مسعود نے اعلان کیا کہ اگر مودی نے اترپردیش میں پاؤں رکھا تو اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائینگے۔ اس اعلان کے بعد عمران مسعود کو صوبے میں فساد پھیلانے کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا جس کی انتخابات مکمل ہونے کے بعد رہائی عمل میں آئی تاہم اب وہاں کے مسلمانوں میں خوف پایا جاتا ہے کہ ریاستی انتخابات کی آڑمیں بی جے پی یو پی میں ہندو مسلم فسادات کرانے کی کوشش ضرور کریگی۔ اترپردیش میں انتخابی عمل جنوری 2017ء سے لیکر مئی 2017ء تک جاری رہے گا۔ یہ الیکشن 403 سیٹوں کیلئے ہو گا۔ بی جے پی فروری 2012ء کے انتخابات میں 51 سیٹیں حاصل کر پائی تھی۔ اندرا نیشنل کانگرس صرف 22 سیٹیں جیت سکی تھی جبکہ سماج وادی جماعت 224 سیٹیں جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ تاہم مرکز میں حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے اترپردیش میں ہندو آبادی والے علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر زور دیا۔ اسکے باوجود سیاسی پنڈتوں کا تجزیہ ہے کہ کماری مایاوتی کی بھوجن سماج پارٹی نے صوبے کے عوام میں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں مقبول ہے۔ اسکے برعکس مایاوتی نے مسلمانوں کیخلاف پرتشدد کارروائیوں میں انتہا پسند ہندوؤں کی کھل کر مخالفت کی اور مسلمانوں کی ہمدردیاں سمیٹنے میں کامیاب رہی۔
نریندر مودی کا پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھانے اور بھارت میں جنگی بخار پیدا کر کے اسے یو پی میں سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ فی الحال ضرور ناکام رہا ہے لیکن اپنے مزاج اور ماضی کی تاریخ کیمطابق وہ آنیوالے ہفتوں میں کوئی نہ کوئی ایسی کارروائی ضرور کریگا جس سے پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہو۔