کراچی کی دُھول اور میجر جنرل بلال اکبر

19 اکتوبر 2016

یہ میں خود نہیں کہتا کہ کراچی کے حالات بہتر ہو چکے ہیں، وہاں ٹارگٹ کلنگ، بدامنی، بے سکونی، بھتہ خوری میں 95فیصد تک کمی آچکی ہے، یہ آپ بذات خود کراچی جائیں تو اندازہ ہو گا کہ وہاں وقتی طور پر امن و امان قائم ہو چکا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اغواء سے لیکر بھتہ خوری تک تمام وہ فیکٹرز ہیں جنہوں نے کراچی جسے روشنیوں کا شہر بھی کہتے ہیں کی تمام تر رعنائیوں، خوبصورتیوں کو ماند کر کے رکھ دیا تھا اور شہر کی فضاء میں خوف اور ڈر کا عنصر پیدا کر رکھا تھا۔ ہر شخص ڈرا ڈرا سا، سہما سہما سا ہوتا تھا۔کراچی کی صورتحال پر شہر قائد کا کوئی باسی کھل کر بات نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ اس کا انجام خوب جانتا تھا۔ کوئی کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے پرلب کشائی نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ واقعہ کے عینی شاہدین بھی واقعہ کے بارے میں صحیح رہنمائی نہیں کرتے تھے۔ کراچی میں اغواء برائے تاوان کی واردات ہو یا ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ، بھتہ خوری کا معاملہ ہو یا بازاروں میں کھلے عام کی گئی فائرنگ، جس کے نتیجے میں معصوم لوگ مارے گئے ہوں، یا فیکٹریوں ، گوداموں کو آگ لگانے کا سانحہ، کوئی بھی نہیں کہتا تھا کہ میں نے واقعہ ہوتے دیکھا ہے یا ایسا واقعہ ہوا ہو، ہرآدمی اس انہونی کے ہونے کے باوجود انجان نظر آتا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، یا کسی نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔ ڈر اور خوف کی فضا کراچی کے شہریوں کے دلوں میں اس حد تک گھر کر چکی تھی کہ ان پر زندہ ہونے کے باوجود بھی مردہ ہونے کا گمان ہوتا تھا، شہر میں ایسا سناٹا ہوا کرتا تھا جیسا قبرستانوں میں بھی نہیں ہوتا۔ ہر نفس مجبوری، بے بسی کی تصاویر بنا دکھائی دیتا، ظلم بھی سہتا اور آہ بھی کرنے کی جرات نہ کرتا تھا۔ دہشتگرد آتے، فائرنگ کرتے، معصوم لوگوں کو مار کر چلے جاتے اوریہ لوگ صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرسکتے تھے۔
ایسے میں عوام کسی مسیحا، نجات دہندہ کی منتظر نظر آتی جو کراچی کے حالات ٹھیک کرتی۔
ان حالات میں کراچی میں ایکشن لینے کا ٹاسک عوامی اور خصوصاََ تاجر برادری کی پر زور فرمائش پر رینجر کو سونپا گیا جسے اس نے ایک چیلنج کے طور پرقبول کیا اور انتہائی کم وقت میں وہ مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے جو پولیس یہاں مستقل رہنے کے باوجود حاصل نہ کر پائی۔ رینجر زکے جوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اور شہادتوں کی داستان رقم کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر،را کے ایجنٹس کو پکڑا اور انکے انکشافات پر کراچی کا سکھ چھیننے والے دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا اور ایسے کوئیک ایکشن اور سٹنگ آپریشن کیے کہ شہر قائد روشنیوں کے شہر اورامن کی بستی میں بدلنے لگا۔ذہن میں یہی سوچ لیے کہ کراچی آخر بدلا کیسے؟ اور یہ کراچی کی فضائوں میں جو سیاسی کشیدگی کی بدبو پھیل رہی ہے اسکے پیچھے کون ہے؟ کیا بے حس سیاستدان اپنی موت آپ مر رہے ہیں یا انکی صفائی کو ٹھیکہ بھی اسٹیبلشمنٹ نے اُٹھا لیا ہے؟ انہیں چند سوالات کو ذہن میں رکھ کر کراچی آیا اور کراچی آپریشن کے سپہ سالار میجر جنرل بلال اکبر سے کراچی ہیڈ کوارٹر میں ملاقات ہوئی‘ملاقات کے لیے تو محض 30منٹ کا ہی وقت ملا تھا مگر پرتکلف گفتگو نے وقت کا احساس ہی نہیں ہونے دیا اور یہ گفتگو دو گھنٹے تک چلتی رہی۔
انہوں نے برملا کہا کہ ہمیں صوبائی حکومت کی مکمل مدد حاصل ہے اور دہشت گردوں کیخلاف آخری حد تک جائینگے، دہشت گردوں کیخلاف پولیس انتظامیہ اور ہم سب ایک ہیں، جبکہ مقامی پولیس رینجرز کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے۔ جرائم پیشہ افراد کا پیچھا کرنے میں قانون کلیئر ہے۔ انہوں نے حالیہ پکڑی جانے والی اسلحے کی کھیپ کے حوالے سے بھی پولیس کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ کہ اسلحہ کی برآمدگی کا سہرا پولیس کو جاتا ہے، جنہوں نے اسلحہ برآمد کر کے شہر کو تباہی سے بچایا اس لیے پولیس مبارک باد کی مستحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کراچی سے واپس نہیں جائے گی بلکہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ وفاق کی جانب سے آئین کے تحت رینجرز کو سرچنگ اور گرفتار کرنے کی اجازت ہے۔ لہٰذا رینجرز و اختیارات میں توسیع کی کوئی ضرورت نہیں۔ سال 2014ء میں 268 افراد تاوان کیلئے اغواء کیے گئے جبکہ سال 2015 میں یہ تعداد گھٹ کر 25 رہ گئیں جس میں سے 23 اغواء شدہ افراد کو بازیاب کرلیا گیا ہے اور 2016ء میں اکا دکا واقعات ہی سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں 1992ء والا آپریشن بھی کامیاب آپریشن تھا لیکن اسکے بعد جو اقدامات ہونے چاہیے تھے وہی نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے کراچی کے حالات بگڑتے چلے گئے۔ اور کراچی مجرمان، قبضہ گروپوں اور بھتہ خوروں کا گڑھ بن کر رہ گیا۔ اور آج ہم نے 7ہزار سے زائد بھتہ خوروں و ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ رینجرز کا کام ان مجرموں کو گرفتار کرنا ہے اسکے بعد کے جو مراحل انوسٹی گیشن، پراسیکیوشن، عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل مختلف اداروںکا کام ہے اور اگر یہ ادارے یہ مراحل دیانتداری سے مکمل کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی مستقل طور پر امن کا گہوارہ بن سکتا ہے اگر یہ چاروں مراحل اپنی جگہ مسائل کا شکار رہے تو کراچی میں دوبارہ کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی میں امن و امان قائم رکھنا ہے تو یہ بات ذہن نشین رکھ لینی چاہیے کہ سوسائٹی کے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے کارکنان اور اپنے اپنے لوگوں کے ذریعے ملک و قوم کی خدمت جیسے کام کرنا ہوںگے چونکہ کراچی ایک بڑی انڈسٹری بھی ہے اس لیے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس شہر پر زیادہ توجہ دیں تاکہ ملک کے ریونیو میں بھی بہتری لانے جیسی خدمات سرانجام دی جاسکیں۔
ملاقات تو خاصی طویل تھیں جس میں کئی باتیں فکر انگیز بھی تھیں لیکن امید ہے کہ میجر جنرل بلال اکبر ہر آنے والے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں انہیں اور ان کی ٹیم کے بھرپور اور سیر حاصل اقدامات کو ایک بار پھر زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اس ملک سے وہ تمام غیر ریاستی عناصر کا خاتمہ ہوں جو وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں اور شاید یہ عناصر کراچی کی دھول بیٹھنے کے انتطار میں ہوں کہ کب یہاںسے رینجرز نکلے اور ہم کراچی کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں کر لیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ انوسٹی گیشن، پراسیکیوشن کے اور سزا و جزا کے نظام کو مضبو ط بنا کر رینجر کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ دھول چھٹنے کے بعد نکھرتا ہوا کراچی سامنے آئے… !!!