ٹہکا

19 اکتوبر 2016

اسکی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ساتھ والی دکان سے چینج لینے گیا تو میں نے اسے لنگڑاکر چلتے دیکھ کے سوچا، کاش اُس دور میں بھی پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہوتے۔واپس آکر اس نے مجھے بقایا دیا تو میں از راہِ ہمدردی پوچھ لیا۔’’ والدین نے آپکا بچپن میں پولیو کا علاج نہیں کرایا تھا؟‘‘ اس سوال پر اسکے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں ہوئے اور جو کچھ کہا حیران کن اور تکلیف دہ تھا۔’’مجھے کبھی پولیو نہیں ہوا،میری ٹانگ ٹہکے لوفر نے توڑی،میں نے اس علاقے میں آکر دکان بنائی،ایک دن ٹہکے کی طرف سے سامان پہنچانے کا پیغام آیا،میں نے سامان اسکے گھر پہنچا کر بل کی بات کی تو وہ یہ کہتے ہوئے پِل پڑا کہ ٹہکے سے پیسے مانگتے ہو۔اس دوران ایک اورمچھندر (بڑی موچھوں والا) ڈنڈا اُٹھائے اسی گھر سے برآمد ہوا اس نے آئو دیکھا نہ تائو،کچھ بھی پوچھے بنا میری پنڈلی پرضربیں لگا نے لگا،میں وہیں گرگیا۔ٹانگ ٹوٹ چکی تھی، گھر والوں کو خبر ہوئی تو وہ اُٹھاکر بوٹے پہلوان کے پاس لے گئے جس نے ٹانگ باندھ دی۔ اسے ٹہکے کے ظلم کا پتہ چلا تو اس نے ایک کے بعد باقی مرہم پٹیوں کے پیسے نہیں لئے اور گھرآکر پٹی بھی کر جاتا تھا۔ میں چھ ماہ بعد چلنے پھرنے کے قابل ہوا۔ٹہکے لوفر کے ظلم سے بچنے کیلئے دکان کہیں اور لے جانے کا پکا ارادہ کرلیا تھا ‘‘۔ یہاں آکردکاندار نے ٹہکے اور اسکے خاندان کے بارے میں بتایا۔’’اس کا نام تو کچھ اور تھا لوگ اسے اسکے سامنے ٹہکا خان اور آپس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹہکا لوفر کہتے تھے۔ اس کا باپ کونسلر بنا تو ان لوگوں نے بدمعاشی اور غنڈہ گردی شروع کردی۔ٹہکے لوفر کے بھائی کو گوالے نے شکایت کہ دودھ دہی والا اسکے پانچ ہزار روپے نہیں دے رہا، اس نے اسی کو کہا کہ میرا نام بتائواور دس ہزار روپیہ لے کے پانچ ہزار مجھے دے جانا، ایسا ہی ہوا، دودھ دہی والے نے دس ہزار روپے ادا کردیئے ۔حمام والا بتا رہاتھا، کونسلرنے اپنے اور مہمانوں کے غسل اور کٹنگ کے کبھی پیسے نہیں دیئے تھے‘‘۔ اسکی یکطرفہ گفتگو کا سلسلہ شاید جاری رہتا۔ اس دوران میں نے سوال کردیا۔’’تم ظلم کی بستی میں پھر بھی دکان کررہے ہو‘‘
’’نہیں، اب انکا ظلم برقرار نہیں رہا، میں چھ ماہ بعد دکان پر آیا تو بدمعاش خاندان جیل جاچکا تھا،علاقے میں کسی نیک ماں باپ کا بیٹا تھانیدار بن کے آیا تو علاقے سے ہر قسم کی غنڈہ گردی ختم ہوگئی، ٹہکے ‘ اسکے بھائی اور باپ پر کئی مقدمات تھے،وہ جیل سے تھانیدار کو نیک چلن ہونے کے پیغام پہنچاتے رہے، تھانیدار ایک شرط پر انکی رہائی پر آمادگی ظاہرکی کہ وہ جن سے زیادتیاں کرچکے ہیں ان سے معافی مانگیں اور جبری وصولیاں بھی واپس کریں،مجھے بھی میرے پیسے مل گئے اور یہ لوگ اب شریف بن چکے ہیں ‘‘
میں نے پوچھا۔’’اب علاقے میں کس کا ٹہکا ہے‘‘؟
’’قانون کا ٹہکا ہے جی! اور ہم لوگ ایس ایچ او کو ٹہکا تھانیدار کہتے ہیں۔انکی وجہ سے علاقے میں امن ہے،کسی کی بدمعاشی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،چوریوں اور ڈکیتیوں کا نام ونشان بھی نہیں ‘‘۔دکاندار نے اپنی بات ختم کی تو میں نے ازراہ مذاق پوچھ لیا ’’لوگ تجھے کیا کہتے ہیں۔‘‘ اس نے بھی مذاق ہی میں کہا۔’’نام تو میرا رشید ہے لوگ مجھے شیدا کہتے ہیں آپ مجھے ٹہکا دکاندار کہہ لیں‘‘۔
جن کا ذکر کیا، ایسے کردارآپ کو معاشرے میں نظر آئینگے۔ہم خود بھی ایسا ہی کوئی کردار ہیں۔شیدے کی طرح مظلوم،ٹہکے کی طرح ظالم ،پہلوان کی طرح ہمدرد، تھانیدارکی طرح قانون کی عملداری کرانے والے۔ ٹہکا ضرور ہونا چاہئے‘ ٹہکے لوفر والا نہیں، ٹہکے تھانیدار کی طرح کا۔ہمیں ٹہکا اور ٹہکے والے بڑے بڑے لوگ نظر آتے ہیں اور کئی اسکے شوقین بھی ہیں۔اکثر کا ٹہکا دوسروں کا بھی مرہون ہے مگر آخری ٹہکاایک ہی ادارے اور اسکے لوگوں کا ہے۔
آ پ کو ٹی وی چینلز پر حکومتی اور غیر حکومتی سیاستدان اپنا اپنا ٹہکا جماتے نظر آئینگے۔بیورو کریٹ بھی کسی سے کم نہیں۔چند روز قبل چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان نے عمران خان کے ایک بیان کے جواب میں کہا۔ ’’ اتنے بڑے جھوٹ پر تبصرہ کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھتا‘ کوئی احمق ہی سوچ سکتا ہے کہ ۔۔۔‘‘ بڑا ٹہکا ہے عمران خان کو کیسا جواب دیا، ن لیگ والے باغ باغ ہوگئے،عمران کو جھوٹا اور احمق قرار دیدیا۔انہی دنوں چیئرمین ایف بی آر کی سپریم کورٹ میں پیشی ہوئی ۔ایف بی آر کیخلاف مقدمات میں جامع قانونی معاونت نہ ہونے پر چیئرمین کی سخت سرزنش کی گئی۔ یہاں کسی اور کا ٹہکا تھا۔ چیئرمین نے انتہائی شرمندگی کااظہار کرتے ہوئے عدالت سے معافی مانگی۔
پارلیمنٹرین کا بڑا ٹہکا ہے مگرحکومت کے ٹہکے جیسا نہیں۔چیئرمین ایف بی آر کے اندر سے حکومت بولتی ہے۔ چیئرمین نیب، گورنر سٹیٹ بنک، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، چیئرمین سیکورٹی ایکسچینج کمیشن، چیئرمین ایف بی آر کا اپنی اپنی جگہ پر ٹہکا ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ان سب نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کرنے سے معذوری ظاہر کر دی ۔وفاقی سیکرٹری قانون وانصاف جرأتِ مستنیر کیساتھ گویا ہوئے۔’’ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پانامہ لیکس کی تحقیقات کرنے اور قومی اداروں کے سربراہوں سے پانامہ لیکس میں چھپی قومی دولت بارے سوالات کرنے کا قانونی اختیار ہی نہیں رکھتی‘‘۔یہ ہے پارلیمنٹ کی بالادستی؟
بیورو کریٹس بہت کچھ بلکہ سب کچھ حکومت کے ایما پر کرتے ہیں،جو بھی حکومت میں ہوتاہے اسی کا ٹہکہ رائج الوقت ہوتا ہے،مگر کہیں نہ کہیں حکومت کے ٹہکے کو بھی تاپ چڑھ جاتا ہے۔ عدلیہ کو کبھی خاطر میں نہیں لایا جاتا ‘کبھی اسکے آگے پیچھے بچھے دکھائی دیتے ہیں۔عدالتوں کو بھی کبھی مصلحتوں کا شکار ہوتے دیکھا گیا ہے۔جونیجو حکومت کی بحالی کا فیصلہ آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی چیئرمین سینٹ وسیم سجاد کے ہاتھ فیصلہ سنائے جانے سے چند لمحے قبل چٹ پہنچی تو فیصلہ بدل دیا گیا۔اس موقع پر جونیجو کورٹ کے اندر اور باہر انکی گاڑی پر جھنڈا لگ چکا تھا۔چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے میاں نواز شریف کی حکومت کی بحالی سے قبل آرمی چیف جنرل آصف نواز کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا‘ مقصد اجازت لینا تھا ‘ انہوں نے کہا قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔