ساتھ چل کہ اسطرح تُو کارواں ہونے کو ہے

19 اکتوبر 2016

تِنکا تِنکا چُن لیا جو آشیاں ہونے کو ہے
پھِر تُجھے تیری حقیقت کا گُماں ہونے کو ہے
چُپ رہا تو کون جانے گا تُمہارا مُدّعا
بول کہ ہر بول تیرا جاوداں ہونے کو ہے
چھِن گیا شُودر نہ ہو کیسے برہمن سیخ پا
ہر دہن میں لوتھڑا گویا زباں ہونے کو ہے
صاف ہو جائے گا ہر ہر ظُلم کا ہر اِک نشان
چشمہ حرُّیَت یوں بحرِ بیکراں ہونے کو ہے
رنگ لائے گا یہاں پر بھی شہیدوں کا لہو
وادیء کشمیر تُو پھِر گُلستاں ہونے کو ہے
اِک زمانہ پوچھتا ہے حقِ اِنسانی، بتا !
کُچھ کرو کہ پھر وہاں سے ہُوں و ہاں ہونے کو ہے
ہر کوئی بڑھتا ہے شاہدؔ سُوئے منزل یک قدم
ساتھ چل کہ اسطرح تُو کارواں ہونے کو ہے
(ڈاکٹر محمد افضل شاہدؔ)
٭…٭…٭