اُردو کو اپنی پہچان بنایئے!

19 اکتوبر 2016

مکرمی! ہمارے تعلیمی نظام میںاُردو زبان پرائمر ی مڈل وغیرہ تک تو رائج ہے مگر اس کا نفاذ یونیورسٹی کی سطح پر حاصل کی جانے والی ڈگریوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ مشکل سے چند ایک ڈگریاں ایسی ہوں گی جو کہ اردو زبان میں ہوں ورنہ باقی سب انگریزی زبان میں ہیں۔ہمارے طالب علم سکول میں تو اردو میڈیم سے پڑھ کرآتے ہیں مگر جب وہ ڈگری حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں تو انہیں انگریزی زبان کی صورت میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک بڑی تعداد اردو میڈیم ذریعہ تعلیم سے مستفید ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اردو کو جہاں تک ممکن ہو سکے۔ ذریعہ تعلیم بنایا جائے اور مقابلے تک کے امتحان میں بھی اردوکو مضمون کے طور پر شامل کیا جائے۔ انگریزی کو بے شک برقرار رکھا جائے کیونکہ میڈیکل اور انجئینرنگ کی بہت سی اصطلاحات ایسی ہیں جو کہ انگریزی میں ہیںاور ان کا اردو ترجمہ مشکل ہے۔ اس لیے اردو اور انگریزی دونوں ذریعہ تعلیم ہونی چاہیے مگر اردو کے فروغ کے لیے کام ضرور کرنا چاہیے کیونکہ زندہ قومیں اپنی پہچان نہیں بھولتیں اور ہماری زبان ہماری پہچان ہے۔ (ماہ نور عالم…… لاہور)