بھارتی فوج کی پیلٹ فائرنگ کے باعث بصارت سے محروم ہونیوالی کشمیری لڑکی انشاء 3 ماہ علاج کے بعد گھر لوٹ آئی

19 اکتوبر 2016

سری نگر (نیوز ڈیسک) شوپیاں کی 14سالہ کشمیری لڑکی انشاء مشتاق جسے بھارتی فوجیوں نے پیلٹ فائرنگ کرکے نابینا اور شدید زخمی کردیا تھا۔ بھارتی ہسپتالوں میں تین ماہ علاج کے بعد واپس گھر لوٹ آئی۔ انشاء کی آنکھوں کی بصارت واپس ا?نے کی تمام امیدیں ختم ہونے کے بعد والدین اس کو گھر لے آئے۔ انشاء مشتاق کا ڈاکٹر بننے کا خواب تو چکناچور ہوگیا مگر اس نے ڈاکٹر بننے کی امید نہیں چھوڑی۔ اس کی آخری خواہش اپنا سکول دیکھنا اور اساتذہ سے ملنا ہے۔ گھر کے ایک کونے میں بستر پر لیٹی انشاء پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے بیچ بیٹھی تھی جبکہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ا نشاء نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ کیا وہ آنسو بہا رہی ہے مگر ماں نے آنسو پونچھ کر کہا نہیں۔ انشاء نے پوچھا ’’باہر دن ہے یا رات‘‘ جبکہ ماں نے جواب دیا کہ باہر دن ہے۔ انشاء نے کہا میں کچن میں بیٹھی تھی اور اسی دوران میں نے گولیاں چلنے اور لوگوں کی چیخوں کی آوازیں سنیں۔‘‘ میں نے کمرے کی کھڑکیاں کھولیں تو وہاں موجود بھارتی فوجیوں نے مجھے نشانہ بنا کر پیلٹ کا فائر مارا۔ انشاء نے کہا کہ میں پیلٹ لگتے ہی نیچے گر گئی اور مجھے کچھ بھی نہیں پتہ، بعد میں مجھے جب ہو ش آیا مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ میں لوگوں کی مدد کرنے کیلئے ڈاکٹر بننا چاہتی تھی مگر درندے اہلکاروں نے مجھے بلاوجہ نشانہ بنایا۔ میں اس فوجی کو بد دعائیں دے رہی ہوں اور زندگی بھر دیتی رہوںگی۔ انشاء مشتاق کی ماں افروزہ نے کہا کہ ہم اسے اب اکیلے نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ اس کو ہر چیز کیلئے مدد کی ضرورت ہے۔ انشاء کے والد مشتاق احمد نے کہا کہ ہماری ساری امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ ایمز اور ممبئی میں تمام ڈاکٹروں نے میری بیٹی کا علاج کیامگر آخر انہوں نے کہا کہ وہ دیکھ نہیں سے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی اور سزا کا مطالبہ کرتے ہیں جنہوں نے میری بیٹی کی زندگی کو برباد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جو میری کمائی کا واحد ذریعہ ہے، میں اسکو بھی انشاء کی بصارت کیلئے فروخت کرنے کو تیار ہوں۔