دہشت گردوں کے وسائل بہت ہیں انہیں کم اہمیت نہ دیں: جسٹس فائز

19 اکتوبر 2016

کوئٹہ(بیورو رپورٹ)سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کی تحقیقات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم انکوائری کمشن نے وکیل رہنما بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ پولیس کی نامکمل تفتیش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تفتیش کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے کمشن نے حکومت سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل انکوائری کمشن نے تفتیش میں مبینہ نااہلی پر پولیس حکام کی سرزنش کی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت موقع کا نقشہ تیار نہیں کر سکتیں، صرف گوگل پر بھروسہ کر رہی ہیں کیا میں خود جاکر موقع کا نقشہ تیارکروں معاملہ تفتیشی پر چھوڑ دیاگیا اگر کسی وکیل کو بھیجیں، وہ ہی نقشہ بنا دے گا۔21ویں صدی کی پولیس کا کام ہے؟ ٹارگٹ کلرز آزاد پھر رہے ہیں، وہ نہ جانے مزید کتنی وارداتیں کر چکے ہونگے ایس ایس پی انویسٹی گیشن اعتزاز گورایا نے بتایاکہ سانحہ سول ہسپتال کے بعد ہسپتال کے 14 سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ لیا گیا ہے ہم نے تمام فوٹیج دیکھی اور واقعہ سے متعلق فوٹیج حاصل کی انھوں نے بتایا کہ خودکش دھماکے میں ایس پی طارق اور ایس ایچ او اطہر سمیت 7 اہلکار زخمی ہوئے ان سب کو نہ تو چھٹی دیںاور نہ کہیں اور تعینا ت کریں تاکہ ان سب اہلکاروں کے بیان کسی وقت بھی لے سکیں قاضی فائز نے پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دہشت گردوں کے وسائل بہت ہیں ہمارے پاس ان سے زیادہ ہونا چاہئے، دہشت گرد سب کچھ کرسکتے ہیں ان کوکم اہمیت نہ دیں ،خود کو تیار کریں آپ کی صلاحیتیں کہاں ہیں، ہم وہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کیس میں ہم وسائل کا استعمال دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے کیا کیاَ؟اعتزاز گورایا نے کمیشن کو بتا یاکہ ہمارے پاس بہت کچھ ہے ہم ان کیمرہ بریفنگ دیں گے کمیشن نے کہا کہ کل اگر ان کیمرہ بریفنگ دیں تو بہتر انداز میں سوالات ہو سکتے ہیں پولیس نے بتایا کہ دو سو سے زائد عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ کئے گئے ہیں جن میں سے 102وکلاء کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں جسٹس فائز نے ریمارکس دیئے کہ مجھے وکلاء کے بیانات مکمل کوائف، ہسپتال، گھر سب کے بارے میں بتائیں ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ ہم نے نیکٹاسے معاونت کیلئے رابطہ کیا ہے، انہوں نے آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ ڈیٹا فراہم کریںگے۔