پانامہ، بہاماس لیکس، ملوث افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جائیں: اسحاق ڈار

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ کے ذریعے دنیا میں ٹیکس سے بچنے کے 9 مقامات جن میں برٹش‘ ورجن‘ آئس لینڈ‘ سموا‘ ماریشش‘ جرسی شامل ہیں سے رابطہ قائم کیا جائے اور پانامہ اور بہاماس لیکس میں ملوث افراد کے بارے میں اضافی معلومات حاصل کی جائیں۔ وزیر خزانہ نے یہ ہدایت ایک اجلاس میں دی جن میں پانامہ اور بہاماس لیکس کی تحقیقات کے لئے ایف بی آر اور ایس ای سی پی کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے حکم دیا کہ غیر ملکی مقامات (ٹیکس سے بچاؤ کی جنت) سے اضافی معلومات کے حصول کے لئے قانون کے عمل پر پوری طرح عمل کیا جائے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ دنیا میں ٹیکس سے بچنے کے لئے 9 ’’جنتیں‘‘ ہیں۔ پانامہ لیکس میں 270 کمپنیاں اور 444 افراد ملوث ہیں جبکہ بہاماس لیکس کے تحت 150 پاکستانیوں کے نام سامنے آئے۔ ایف بی آر نے ان میں سے 110 افراد کے پتے تلاش کئے جبکہ 40 ناموں کے ایڈریس تلاش کئے جا رہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس سے بچاؤ کی ان 9 ’’جنتوں‘‘ میں پاکستان کے ٹھوس معاشی مفادات ہو سکتے ہیں۔ انکم ٹیکس کے قانون کی سیکشن 176 کے تحت نوٹس بھیجے گئے اور ان سے مالی اور ٹیکس امور کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ ان میں سے اب تک 133 افراد یا کمپنیوں نے جوابات دئیے ہیں۔ پاکستان میں 600 کمپنیوں کے 155 ڈائریکٹرز کے بارے میں ڈیٹا کا تقابل اور چھان بین کی جا رہی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ جن افراد نے قانونی نوٹسز کا جواب نہیں دیا ہے ان پر پنلٹی عائد کی جائے گی۔