نوازشریف کے بلا مقابلہ انتخاب کے اعلان پر کنونشن سنٹر نعروں سے گونج اٹھا

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد (عترت جعفری) مسلم لیگ (ن) کونسل کے چھٹے اجلاس میں کنونشن سنٹر جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا تالیوں اور نعروں کی آواز سے گونج اٹھا جب الیکشن کمشنر نے وزیراعظم محمد نوازشریف کے پارٹی صدارت کے منصب پر ان کی بلا مقابلہ کامیابی کا اعلان کیا۔ وفاقی وزراء اور وزیراعلیٰ پنجاب اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور وزیراعظم کو گھیر لیا اور مبارکباد دی۔ کونسل کے ممبران نے بھی نشستوں سے کھڑے ہوکر انتخاب کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم کے مدمقابل امیدوار سربردار پرنس کے کاغذات نامزدگی تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر مسترد ہوئے۔ ان کا نام جنرل کونسل کے ممبران کی فہرست میں موجود نہ تھا۔ انتخاب کے ساتھ ہی انہیں باقی عہدوں جن میں سیکرٹری جنرل اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور دوسرے جماعتی مناصب شامل ہیں پر نامزدگی کرنے کا اختیار بھی مل گیا۔ کنونشن سنٹر میں جنرل کونسل کے اجلاس کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ سیکورٹی بھی سخت تھی۔ وزیراعظم نے توقع کے عین مطابق اپنے خطاب میں سیاسی مخالف جماعتوں کے سربراہ اوران کی پارٹی پر کڑی نکتہ چینی کی تاہم براہ راست نام لینے سے گریز کیا۔ کنٹینر‘ ڈگڈگی‘ ناچ گانا‘ سڑک ناپنے کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت پر نکتہ چینی کی۔ وزیراعظم تقریب کے دوران مسلم لیگیوں کی طرف سے نعرہ بازی سے پریشان بھی ہوئے اور بار بار نعرہ بازی سے منع کرتے رہے۔ وزیراعظم نے کہا بجلی کی قلت ختم کرنے کے لئے کبھی 6 ماہ‘ 2سال کی بات نہیں کی تھی یہ کہا تھا کہ اپنے دور حکومت میں قلت ختم کر دیں گے۔ وزیراعظم خطاب میں پراعتماد نظر آئے اور ان کے خطاب اور اپنی ’’بدن بولی‘‘ سے کسی دباؤ کا شائبہ نہیں مل رہا تھا۔ پارٹی کے صدر کے منصب پر دوبارہ انتخاب سے وہ آئندہ دنوں میں آنے والے سیاسی دباؤ اور ممکنہ بحران کے مقابلہ کے لئے زیادہ پراعتماد ہوگئے ہیں۔ کنونشن سنٹر میں مسلم لیگی کارکنوں کی وجہ سے بدانتظامی اور ہلڑ بازی دیکھنے میں آئی جس سے عمارت کے شیشے بھی ٹوٹے۔ کھانے کا وافر انتظام تھا مگر اس کے باوجود بدنظمی کی گئی اور افراتفری مچی رہی۔پنڈال میں حمزہ شہبازشریف‘ سابق رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان‘ میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز‘ لیبر ونگ اسلام آباد کے صدر راجہ سفیر‘ ایم ایس ایف کے صدر سردار مہتاب‘ ساجد عباسی‘ گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا‘ سینیٹر سید ظفر علی شاہ بھی موجود تھے۔ راولپنڈی کے مسلم لیگی کارکن تنویر شیخ نعرہ بازی کرکے وزیراعظم کی توجہ کے متقاضی رہے۔انتخابی عمل ایک گھنٹے کے اندرمکمل کر لیاگیا۔