سٹیل ملز کی نجکاری نہ کی جائے، ادارے رشتہ داروں کو دیئے جارہے ہیں: پبلک اکائونٹس کمیٹی

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد(خبر نگار خصو صی)قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا ہے حکو مت نے ملک بھر میں لوٹ مار کا بازار لگا رکھا ہے قومی اداروں کو نجکاری کے نام پر اپنے رشتے داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے، سٹیل ملز کی نجکاری نہ کرنے اور اس کی بحالی کے لئے یکمشت ضروری رقم فراہم کرنے کی سفارش کر دی۔ اجلاس خورشید شاہ کی سربراہی میں ہوا کمیٹی کے ممبر محمود اچکزئی نے کہا سٹیل ملز کو لینڈ مافیا سے بچایا جائے تو چل سکتی ہے ورنہ سٹیل ملز پر گدھ منڈلاتے رہیں گے۔ خورشید شاہ نے کہا ماضی میں اس کی بحالی کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی،وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا حکومت نے سٹیل ملز کی نجکار ی کا فیصلہ کرلیا ہے،رواں برس سٹیل ملز کو 22 ارب روپے کا خسارہ ہوا، 2000 سے2008 کے دوران منافع میں تھی، 2008 کے بعد سے ہر برس خسارے میں چل رہی ہے، ملز کے ذمے ایک سو ستر ارب روپے سے زائد کے واجبات ہیں۔ کمیٹی میں انکشاف کیا گیا گوجرانولہ میں قائم وزارت صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارے نے غیر ضروری مشینری کی خریداری میں 33 کروڑ روپے کے اخراجات کئے اور مشینری بیکار پڑی ہے اور معاملہ نیب کے پاس ہے،کمیٹی نے نیب کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اظہار برہمی کرتے ہوئے تفتیشی کاروائی سے متعلق تمام تفصیلات طلب کر لیں۔ رشید گوڈیل نے کہاکیا نوے روزہ ریمانڈ صرف کراچی والو ں کیلئے ہے،ملزمان کا ریمانڈ کیوںنہیں لیا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا نیب ملزمان کے ساتھ مک مکا کر کے چھوڑدیتا ہے ۔ دوران بریفنگ آڈٹ حکام نے بتایا سٹیل ملز 63ارب کے خسارے میں ہے جس کے باعث معاملہ پی اے سی کے سامنے لایا گیا۔ سید خورشید شاہ نے کہا سٹیل ملز سے زیادہ اس کی اراضی قیمتی ہے جس کی قیمت دو سو ارب روپے بنتی ہے۔ سٹیل ملز کی اراضی 19 ہزار ایکڑ ہے۔ آڈٹ حکام نے آگاہ کیا تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی ایڈمور سے پانچ برس گزرنے کے باوجود دس کروڑ روپے وصول نہیں کئے جاسکے۔ وزارت صنعت کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا دس کروڈ روپے واپسی کے لئے عدالت سے باہر رابطہ کیا گیا ہے۔