حکومت تمام اختیارات چاہتی ہے، ایسے قوانین بنائے سرکاری ملازم دھکے کھاتا رہے: سپریم کورٹ

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے57 سی ایس پی افسروں کی ترقیوں کے حوالے سے مقدمہ میں مختلف سی ایس پی افسروں کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کرلیں جبکہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل قرار دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بنائے گئے موجودہ قواعد ضوابط سے لگتا ہے کہ پروموشن بورڈ سب کچھ کرنے کا مجاز ہے، حکومت سارا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے، ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جس سے سرکاری ملازمین مسلسل دھکے کھاتے رہیں۔ ڈپٹی اٹارنی نے آگاہ کیاکہ عدالت نے ایک مختلف مقدمہ میں دوماہ کے اندر سی ایس پی افسروں کی میٹنگ بلانے کا حکم دیاتھا جس کے پیش نظرحکومت نے نئی درخواست دائر کردی ہے ، عدالت نے ان سے استفسارکیاکہ ہم نے کب میٹنگ بلانے کاکہاتھا ، جس پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ عدالتی حکم کے مطابق 7نومبرتک سی ایس پی افسروں کی میٹنگ بلانا ضروری ہے اورابھی سات نومبر نہیں آیا،چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ کیس میں دلائل دیںاورحکومتی موقف بتائیں ،عدالت میرٹ پرکیس کا فیصلہ کرے گی قواعد کے مطابق پروموشن بورڈ سب کچھ کرسکتا ہے، جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ بنائے گئے قواعد میں بورڈ ممبران کے اختیارات کا استعمال واضح نہیں کہ وہ کس طرح اپنے اختیارات استعمال کریں گے ، ڈپٹی اٹارنی نے کہا کہ یہ 19سے 21تک کے سی ایس پی افسروں کی تقریوں کا معاملہ ہے 1992 میں سروس پالیسی بنائی گئی جس کے تحت امتحان میں کوڈ آف کنڈکٹ وغیرہ کے نمبر ز رکھے گئے جو 10,15,50فیصد تک ہیں 2014 کی ترمیم شدہ پالیسی کو صرف دس درخواست گزاروں نے چیلنج کیا ہے جبکہ ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف کوئی آئی سی ایم اے نہیں آئی تھی، جن افسروں کی عمر 58سال ہوجاتی ہے انہیں فزیکل ٹریننگ ٹیسٹ سے استثنیٰ دیا جاتا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ رعایتی مارکس دینے کے معاملے میں تخصیص سے کا م لیا گیا اتنے افسروں کا کرائٹیریا بنانے کی ضرورت نہ تھی بس کمپیوٹر میں ڈیٹا بنادیا جاتا جسے آپریٹ کرنے کیلئے صرف ایک آئی ٹی ایکسپرٹ کی ضرورت تھی۔ 

ایسے ہو تو ایسے ہو

قومیں اپنے ایسے افراد کے بل بوتے پر زندہ رہتی ہیں جو مثبت طرز فکر رکھتے ہوں جو ...