پنجاب اسمبلی: ارکان ’’غائب‘‘ اجلاس صرف49 منٹ چل سکا، حکومت سرکاری کارروائی مکمل کرنے میں ناکام

19 اکتوبر 2016

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ خبرنگار) پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ارکان کی کمی کی وجہ سے صرف 49 منٹ ہی چل سکا۔ حکومتی ارکان کی عدم دلچسپی، متعدد وزراء اور ارکان کی اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے انٹرا پارٹی الیکشن کی وجہ سے مصروفیت کی وجہ سے کورم پورا نہ ہو سکا، جبکہ پنجاب کے 4 وزراء سمیت 124 ارکان گوشوارے الیکشن کمشن میں جمع نہ کرانے پر معطل ہیں۔ ایوان میں صرف 30 حکومتی اور 5 اپوزیشن ممبران موجود تھے۔ حکومت سرکاری کاروائی مکمل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ تین محکموں کے بارے میں سوالوںکے جوابات دئیے جانے تھے لیکن وزراء اور سوال پوچھنے والے ارکان اسمبلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے صرف ایک ہی محکمے قانون و پارلیمانی امور کے بارے میں صرف ایک سوال کا جواب ہی دیا جاسکا۔ مفاد عامہ کی 5 قراردادوں میں سے صرف ایک ہی قرارداد جو ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے تھی متفقہ منظور کی گئی، دو قراردادیں محرک کے معطل ہونے کی وجہ سے مؤخر جبکہ دو کو عدم موجودگی کی وجہ سے نمٹا دیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر کوئی بھی وزیر ایوان میں موجود نہ تھا ۔تاہم بعدازاں صرف دو وزراء وقفے وقفے سے ایوان میں آئے اور چلے گئے۔قانون اور پارلیمانی امورسے متعلق احسن ریاض فتیانہ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نذر گوندل نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل کی سیٹ کااضافی چارج کسی کے پاس نہیں تھا البتہ مصطفی رمدے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو وقتی طور معاملات چلانے کے لئے تعینات کیا گیا اور انہوںنے اپنی خدمات کے عوض کوئی معاوضہ وصول نہ کیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو حکومت کی جانب سے کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی البتہ ایک نائب کورٹ کی ڈیوٹی ان کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔ جو مقدمات کی پیروی میں انکی مدد کرتا ہے۔ میاں رفیق کی تحریک التواء کار زیر بحث آئی تو سپیکر نے کہا کہ یہ پڑھی جا چکی ہے جبکہ محرک کا کہنا تھا کہ میں نے یہ نہیں پڑھی ہے اسمبلی کے عملہ سے پوچھا جائے کہ اس کا ریکارڈ کیوں غلط لکھا گیا۔ اجلاس کے آخر میں سردار شہاب الدین اور فائزہ ملک کے زیر آورز نوٹسز بھی ایوان میں پڑھے گئے۔ فائزہ ملک نے کہا کہ کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹیز میںاربوں روپے کے فراڈ پکڑے گئے ہیں۔ سٹیٹ لائف فیز ٹو بھی ایسی ہی کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی ہے۔ جس کا وجود ہی نہیں ہے مگر 8 ہزار افراد سے اربوں روپے اس کے نام پر لئے جا چکے ہیں۔سردار شہاب الدین نے کہا کہ رحیم خان میں محکمہ تعلیم میںکرپشن بے تحاشا ہے اور یہ مافیا اس قدر مضبوط ہے کہ جن استانیوں نے شکایت کی تھی انکو معطل کر دیا گیا ہے۔