سیاسی جماعتوں کے انتخابات بھی الیکشن کمشن کی زیر نگرانی ہونے چاہئیں: سراج الحق

19 اکتوبر 2016

لاہور (خصوصی نامہ نگار + صباح نیوز) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ اب پاکستان میں کوئی بین الاقوامی ایجنڈا چلے گا نہ مارشل لا آئے گا، قوم کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ 22۱ور23اکتوبر کو اضاخیل میں خیبر پی کے کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع عوامی تبدیلی کے لیے آغاز ثابت ہو گا۔ وہ پیر کے روز اضاخیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ سراج الحق نے کہا کہ اجتماع میں خیبر پی کے کے علاوہ قبائلی علاقہ جات بھی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی اجتماع میں شرکت کریں گے۔ ایک کروڑ افراد تک رسائی کے بعد لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا آنا یقینی ہے۔15سو کنال پر مبنی اراضی پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائد اعظم نے جس مقصدکے لیے حاصل کیا تھا 70 سال سے قوم کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ایجنڈا کے تحت جب سرمایہ داروں کے ایک ٹولہ سے عوام اکتا جاتے ہیں تو دوسرے ایجنٹ کو سامنے لایا جاتا ہے۔ قوم نے 37سال تک مارشل لا بھی دیکھا، اس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔ اس بار اسلامی نظام کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس اہل اور دیانت دار قیادت ہے۔ ہم آئینی سیاسی اور جمہوری طریقہ سے اس ملک میں تبدیلی لائیں گے۔ انہوں نے کہا ہماری تمام تر توجہ 22 اور 23 اکتوبر کے اجتماع عام پر ہے لیکن سیاسی جماعت کے طور پر جلسہ جلوس کو آئینی حق سمجھتے ہیں۔ اس مرتبہ پاکستان پر کسی تیسری قوت کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ دریں اثناء ایک نجی ٹی وی کو دیئے انٹرویو میں سراج الحق نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن بھی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہونے چاہvیں تاکہ ایک عام پارٹی ورکر کو بھی آگے آنے کو موقع مل سکے اس کے بغیر عام پارٹی ورکر اپنے پارٹی لیڈر کے مقابلے میں کاغذات جمع کرانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور پارٹی لیڈر بلامقابلہ منتخب ہو جاتا ہے۔ یہ پارٹیاں نہیں پراپرٹیاںہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بہتری پر اطمینان کا اظہار تو نہیں کرتا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی کی نسبت اس وقت کافی بہتری آئی ہے کرپشن میں کمی واقع ہوئی۔