قصور جنسی سکینڈل: دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کیلئے ملزموں، مدعی سے جواب طلب

19 اکتوبر 2016

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) لاہور ہائیکورٹ نے قصور جنسی سکینڈل کے مقدمات میں دہشت گردی دفعات شامل کرنے کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے دائر درخواستوں پر ملزمان اور مدعیان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے کی سماعت کی۔ دوران سماعت محکمہ پراسیکیوشن پنجاب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب خرم خان نے عدالت کو بتایاکہ قصور جنسی سکینڈل کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ جنسی سکینڈل سے کئی بچوں کی زندگیاں تباہ ہوئیں جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلا۔ پولیس نے قانون کے تحت مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزموں کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے قانونی جواز کے بغیر مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج کر دیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمات میں دہشت گردی دفعات داخل کرنے کا حکم دیا جائے۔ جس پر عدالت نے ملزمان اور مدعیان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو جواب طلب کر لیا۔