سانحہ کار ساز وزیر اعلی سندھ نے خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی

19 اکتوبر 2016

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سانحہ کار ساز کے شہداءکی نویںبر سی منگل کو عقیدت و احترام اوریوم دفاع جمہوریت کے طورپرمنائی گئی ۔پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں نے سانحہ کارساز کی تحقیقات کے لیے اس وقت کے وزیراعلی کوشامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طر ح کر اچی میں بھی 18اکتوبرکوسانحہ کارساز کے شہداءکی نویں برسی پروزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ںاورکارکنان نے شہداءکی یادگارپرحاضری دی اورفاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلی سید مر اد علی شاہ نے سانحہ کارساز کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بنائی دی ہے جس پر پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں نے اس وقت کے وزیراعلی سندھ کوبھی سانحہ کارسازمیں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔شہداءکے ایصال ثواب کے لیے یاد گارشہداءپرقرآن خوانی کا بھی اہتما م کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی ۔ علاوہ ازیںوزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ بلاول بھٹو نے 16اکتوبر کو تاریخی ریلی نکالی تھی اوربلاول بھٹو نے 18اکتوبر 2007 کی بینظیر بھٹو کی ریلی ،شہیدوں کے مشن اور مقصد کو آگے بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے اور ہم شہیدوں کا خون رائیگا ں نہیں جانے دیں گے ۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد پر ماضی میں کئی الزام لگ چکے ہیں اور انہیں کبھی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں منگل کو یادگارشہدا کارساز پر فاتحہ اور پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ہم جمہوریت کے حامی ہیں، بچپنے والے ہی سیمی فائنل اور فائنل کھیلیں لیکن وفاق کوبھی چاہئے کہ صوبوں کے ساتھ اپنے برتاﺅ پر نظر ثانی کرے، کابینہ کمیٹی برائے توانائی سمیت تمام کمیٹی اجلاس میں صرف ایک صوبے کا وزیراعلی شریک ہوتا ہے جبکہ باقی وزرائے اعلی کو نکال دیا جاتا ہے حکومتی اداروں میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، اگروفاقی حکومت سب کو ساتھ لے کر چلے تو توانائی بحران کا خاتمہ ہوجائے۔مراد علی شاہ نے کہاکہ ترقیاتی کام سے متعلق پنجاب میں امتیازی سلوک ہورہاہے، میں بھی پاکستان کا شہری ہوں لاہور میرا بھی شہر ہے لاہور کی ترقی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن تمام فنڈز ایک ہی جگہ پر لگا دینا کہاں کا انصاف ہے وفاق کو صاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ امتیازی سلوک ختم ہونا چاہئے ۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کی ریلی پر حملہ کیا گیا اور سیکڑوں کارکن شہید ہوگئے لیکن پھر بھی ریلی کو روکا نہیں جاسکا نے نظیر بھٹو نے 18 اکتوبر کے شہدا کےلئے فنڈ بھی قائم کیا تھا لیکن سانحہ کارساز کی تحقیقات بروقت شروع نہیں کی گئیں ہم نے ریلی میں دہشت گردی کے واقعے پر پھر سے تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی کی ریلی سے نظیر بھٹو کی یا د تازہ ہوگئی اور بینظیر بھٹو کی ریلی رواں دواں ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسائل بہت ہیں لیکن ہماری حکومت کے پاس ان کا حل موجود ہے ۔سندھ کے نئے گورنر کے حوالے سے وزیراعلی سندھ نے کہاکہ گورنر سندھ کی تعیناتی کا معاملہ وفاق کا ہے عشرت العباد کو کچھ لوگوں نے اپنا قرار دیا تو کچھ نے لاتعلقی کا اظہار کیا ان پر پہلے بھی بہت سے الزامات لگ چکے ہیں جبکہ مجھ سے گورنرسندھ کو رشوت دینے کا سوال ہی غلط ہے میں نے کبھی کسی کو رشوت دی اور نہ ہی کبھی کسی سے رشوت لی ہے۔وزیراعلی نے امام بارگاہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کے علاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کے علاج کے اخراجات سندھ حکومت دے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ