بے نظیر نے امریکی سفیر سے ملاقات میں تحقیقات کے لئے تعاون مانگا تھا وکی لیکس

19 اکتوبر 2016

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے سانحہ 18 اکتوبر کے بعد اس وقت کی امریکی سفیر سے ملاقات میں حکومتی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لئے تعاون مانگا تھا اور خود کوملنے والی دھمکیوں سے آگاہ کیا تھا۔ یہ انکشاف 29 اکتوبر 2007 ءکو امریکی سفیر کے واشنگٹن کو بھیجے گئے مراسلے میں ہوا جو وکی لیکس نے جاری کردیا ہے۔ پاکستان اور بےنظیربھٹو سے متعلق امریکہ کی خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2007ءمیں سانحہ 18اکتوبر کے بعد بینظیر بھٹو نے اس وقت کی امریکی سفیر سے ملاقات کی۔ مراسلے کے مطابق بے نظیر بھٹو کی رہائش گاہ پر امریکی سفیر این پیٹرسن سے ہونے والی ملاقات میں حکومتی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت تفتیش سے متعلق تفصیلات نہیں بتارہی ہے۔ مراسلے کے مطابق انہوں نے ملاقات میں سانحہ18 اکتوبر کی تحقیقات کے لئے امریکہ سے تعاون کی درخواست بھی کی۔ امریکی سفیر کو بتایا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت کے پاس یہ اطلاع ہے کہ اگر وہ لاڑکانہ گئیں تو ان پر حملہ ہوگا۔ بینظیر بھٹو نے یہ بھی کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ انتخابات کے موقع پرسیاسی ریلیاں نکالی جائیں، پی پی سربراہ کے نزدیک ایسا ان کی مقبولیت کو چھپانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ الیکشن کمشن آزاد نہیں اور ووٹر لسٹیں بھی درست نہیں ،جس پر امریکی سفیر نے کہا کہ عالمی برادری انتخابات کے موقع پر اپنے مبصر بھیجے گی۔ وکی لیکس کے مطابق ملاقات میں این آر او پر بھی بات کی گئی۔ بے نظیر نے شکوہ کیا کہ این آر او معاہدے میں کئی خامیاں ہیں۔ پاکستان سے باہر بنائے گئے کیسز واپس نہیں لئے گئے، اس ملاقات میں ببنظیر بھٹو نے پاکستان میں ہی قیام کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔
وکی لیکس