کراچی آپریشن اہلسنت و الجماعت صدر رب نواز حنفی سمیت137افراد گرفتار

19 اکتوبر 2016

کراچی(کرائم رپورٹر) حساس اداروں اور پولیس کی خاموش کالونی میں کارروائی اہلسنت و الجماعت کراچی کے صدر رب نواز حنفی سمیت چار افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد کو لیاقت آبادمیں امام بارگاہ کے قریب دھماکے کے بارے میں تفتیش کے لئے حراست میںلیا گیا ہے اوران سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ترجمان اہلسنت والجماعت نے رب نواز حنفی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے۔لیاقت آباد میں امام بارگاہ پر حملے کے بعد رینجرز اور پولیس نے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران10ملزموں سمیت 133 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیاہے۔ ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہو ئے 47مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر متعلقہ تھانوں میں منتقل کر دیاگیا ضلع وسطی کے علاقوں کوثر نیازی کالونی، شادمان ٹاﺅن اور خواجہ اجمیر نگری میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ سرچ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران کوثر نیازی کالونی سے 14، نصرت بھٹو کالونی سے 18 ، گلبہار کے علاقے فردوس کا لونی سے 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ۔گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمدہواہے۔ ادھر منگھوپیر میں پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر سمیت 5 ملزموں کو گرفتار کرلیاجبکہ47 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔اس ضمن میں ایس ایچ او منگھوپیر غلام حسین کورائی نے بتایا کہ جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کی اطلاعات پر منگھوپیر میں سرچ آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان سوات کے کمانڈر گل نواب سمیت4ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمانڈر گل نواب دہشت گردی کی کارروائیوں اور اسلحے کی سپلائی میں ملوث ہے۔انہوں نے بتایا کہ گھر گھر تلاشی کے دوران47 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا، جنہیں بعد میں تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب نیو کراچی انڈسٹریل ایریامیں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرلیا۔ حساس اداروں نے حب میں لیاری گینگ وار عذیر بلوچ گروپ کے انتہائی مطلوب ملزم بلال عرف بھیا کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تاہم ملزم فرار ہوگیا۔ بلال عرف بھیا حساس ادارے کے افسرسمیت 30 افراد کے قتل میں ملوث ہے۔ لیاقت آباد میں ہونے والے دستی بم حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی۔ دستی بم میں 600 گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد دو تھی جو موٹر سائکل پر سوار تھے اور سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے ہوئے دہشت گرد نے امام بارگاہ کی بائیں جانب سے بم اندر پھینکا۔ دستی بم امام بارگاہ کے صحن میں گرا جس سے امام بارگاہ سے باہر نکلنے والی خواتین اور بچے نشانہ بنے۔
کراچی/ گرفتار

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...