پاکستانی فلمیں اور وغیرہ وغیرہو

19 اکتوبر 2016

بھارت کے سینما مالکان نے بھی نفرت میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔ بھارت کی چار ریاستوں میں سینما مالکان نے اُن فلموں کی نمائش روک دی ہے جن میں پاکستان سے بھارت یاترا پر گئے فلمی اداکار یا گلوکار حصہ لے رہے ہیں۔ بڑی ہی اچھی خبر ہے۔ یوں پاکستانی سینما مالکان کو اور شاید ٹی وی چینل کے مالکان سیٹھوں کو بھی ہوش آ جائے گا۔ ہم عرصے سے یہ سوال اُٹھاتے چلے آئے ہیں کہ بھارت تو شاید و باید ہی پاکستانی ٹی وی پروگرام اور فلمیں چلاتا ہے مگر ہم ایسے بھارت نشئی ہیں کہ ہمارے ہر سینما اور تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دھڑا دھڑ بھارتی لچر قسم کے ثقافتی پروگرام چل رہے ہوتے ہیں۔ آخر اس میں راز کیا ہے۔ پتا چلا کہ راز شاز کوئی نہیں سیدھی سیدھی تجارتی گہما گہمی ہے۔ جو مال بَکتا ہے وہی مال مارکیٹ میں آئے گا ناں۔ بات توسچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔اب مارکیٹ یا منڈی کا وطیرہ یہ ہوتا ہے کہ اگر منڈی میں صرف کیڑہ لگی گندم ہی لائی جائے گی تو وہی بِکنے لگے گی۔کیوں کہ اچھی گندم تو منڈی میں موجود ہی نہیں۔ پرانے وقتوں میں یہ ہوتا تھا کہ بھارتی اور پاکستانی فلمیں ایک دوسرے ملک میں آیا جایا کرتی تھیں۔ پاکستان میں بھارتی فلم کو صرف تین سیکٹر میسر آتے تھے جب کہ بھارت میں منڈیاں کئی ایک تھیں۔ پاکستان قدرے بہتر فلمیں بنالیا کرتا تھامگر بھارت چربہ سازی کی کھاتا تھا۔ تاہم وہاں سے بھی اچھی فلم آجاتی تھی ۔ ہر چند کہ بھارتی اور پاکستانی فلمیںمُجروں سے بھری ہوتی تھیں تاہم پھر بھی کبھی کبھار ایسی فلم بن جاتی تھی جسے لوگ باگ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ لیا کرتے تھے۔ لیکن بقول سونیا گاندھی کے کہ ہم نے پاکستان پر بھارتی ثقافت کے ذریعے قبضہ کیا ہوا ہے۔ (یہ بات اُس نے غالباً 1996 میں کہی تھی) جب کہ اس سے پہلے منو بھائی اپنے ایک کالم میں لاہوریوں کو خبردار کر چکے تھے کہ”بھارتی فلمیں دیکھنے کے لیے اپنے گھروں میں لگائے ٹی وی اینٹنا اتنے اونچے نہ کر لینا کہ مینارِ پاکستان ان کے پیچھے چھپ جائے“۔ مگر لاہوریوں نے کیا پاکستانیوں نے منو بھائی کی بات کو ایک آنکھ سے پڑھ کردونوں آنکھیں بند کر لیں۔ نتیجہ یہ ہُوا کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ختم ہی ہو گئی۔ اور بھارتی فلمیں ہمارے سینما گھروں پر بھی چھا گئیں۔ حکومت کو اس معاملے میں دخل دینا تھا نہ دیا۔اور پاکستانی سرمایہ بھارت منتقل ہوتا رہا۔ اب آ کے کہیں حکومت اور لوگوں کے بھی حواس ٹھکانے آئے ہیں تو بھارتی فلموں پر وقتی بند ش لگ گئی ہے۔ پیمرا نے ٹی وی چینلوں پر بھی سختی شروع کر دی ہے تو چند لوگوں نے جیسے تیسے کچھ فلمیں بنانا شروع کی ہیں۔ لیکن بھارتی ثقافت کا تڑکا لگائے بغیر شاید ہمارے اکثر فلمساز فلم بنانا ہی بھول چکے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ منڈی میں صرف خراب گندم ہی آتی رہے۔ تازہ ہواکے جھونکے نہ آئیں تو دنیا ختم ہو کر رہ جائے۔بلاول صاحب نے اپنے مسلز دکھانے شروع کر دئیے ہیں۔ گویا پیپلز پارٹی کی نشاةِ ثانیہ یا اربعہ ہونے لگی ہے۔ لیکن بے چاری قومی پارٹی تو نہیں رہی تاہم جب تک سندھ میں اس خاندان کی حکومت ہے پیپلز پارٹی ضرور چلے گی۔بلاول کو چاہئیے کہ لیاقت علی خان کے قتل سے لے کر محترمہ کے ظالمانہ قتل کی سنجیدگی سے تحقیقات کرائیں تا کہ مجرم کیفرِ کردار کو پہنچیں۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ دندناتے پھرتے قاتل پھر کسی بے گناہ کو قتل کرنے کا حوصلہ پالتے رہیں۔اُدھر بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم پاکستان سے مایوس ہو چکی ہیں۔ حیرت ہے جب پاکستان بنگلا دیش میں بزرگوں کی پھانسیوں پر کوئی بڑا احتجاج ہی نہیں کرتا تو مایوسی کاہے کی؟ پرانے زمانے میں ایک فلمی گیت تھا ،
تیر پر تیر چلاو¿ تمہیں ڈر کس کا ہے
دل یہ کس کا ہے مری جان‘ جگر کس کا ہے؟
ایک حیرتناک خبر: مالی گوشوارے جمع نہ کرانے والے336 ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔ان میں عابد شیر علی، شیخ رشید اور خرم دستگیر بھی شامل ہیں۔ ویسے کسی سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جنہوں نے جھوٹ بول کر غَلَط گوشوارے جمع کرائے ہوئے ہیں اُن کی رکنیت کب معطل ہو گی؟!کمال کی بات یہ بھی ہے کہ جنابِ وزیرِ اعظم پاکستان نے بیان داغا ہے کہ مسئلہ¿ کشمیر حل کرنے کے لیے اگر بھارت سنجیدہ ہے تو مذاکرات پر تیّار ہیں۔ واہ کیا بات کی ہے سر۔ بھارتی رویہ تو ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ کشمیر پر قبضہ کرنے میں تو بہت سنجیدہ ہے مگر حل پر نہیں۔ آپ کس سے کس بات کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہخیر لیجیے متحدہ کے بانی، فاروق ستّار اور دیگر کے ایک بار پھر ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔ اب تو شاید وارنٹ بھی آبدیدہ ہو رہے ہوں گے کہ خدا کے لیے بس کریں۔جب کسی کو گرفتار کرنا ہی نہیں تو وارنٹ کیوں جاری کیے جا رہے ہیں ۔ لیکن شاید اس میں بھی کوئی رمز ہو گی جو ایک ہی شعر کی تکرار پہ تکرار ہوئے جا رہی ہے!جنابِ سعید غنی ایک جید پیپلئے لگتے ہیں۔ فرماتے ہیں پیپلز پارٹی جمہوریت کے خلاف عمران خان کے کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے گی۔مزید فرمایا کہ قوم جانتی ہے کہ نیازی صاحب کسی خفیہ ”ایمپائر“(ویسے لفظ امپائرumpire ہوتا ہے۔ empire کا مطلب ہوتا ہے ”ریاست یا سلطنت“)کے اشارے پر اُٹھتے بیٹھتے ہیں۔غنی صاحب بھلا اُس خفیہ امپائر کا نام تو بتا دیجیے۔ اس میں شرمانے کی کیا بات ہے؟تا کہ قوم کو سب پتا چل جائے۔ قوم کو اندھیرے میں مت رکھیے۔ آگے آپ کی مرضی۔شرم و حیا سے لبریز سیالکوٹی خواجہ نے ارشاد فرما دیا کہ قومی سیاست کافی مہذب ہے اگر عمران خان کو مائنس کر دیا جائے تو۔بات سمجھ میں آتی ہے۔ عمران کو زیادہ خراب جلسوں میں رقص و سرود نے کر رکھا ہے۔ تاہم اگر عمران اور اُس کی پارٹی کو ملک بدر کر دیا جائے تو سیاست میں مہذب کئی ایک نام مزید اُبھر کرسامنے آ جائیں گے۔اور خواجہ آصف، خواجہ سعد، ڈار ، شہباز، بلاول، بانی، شیخ، عابد، طلال، دانیال، رانا وغیرہ وغیرہ صاحبانِ تہذیب و شرافت سُکھ کی سانس لیں گے کہ اب کوئی رقیب سامنے ہے نہیں تو کھُل کھیلو۔ حکومت کو چاہئیے مائنس عمران اینڈ پارٹی کے خواجہ فارمولے پر فوراً عمل کرلے تاکہ سیاست میں صرف مہذب لوگ باقی رہ جائیں۔ یعنی گویاخیر!!