’’تخت نہ مِلدے منگے!‘‘

19 اکتوبر 2016

کراچی میں ’’سلام شہدائے کارساز ریلی‘‘ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ریلی کو ’’ریلا‘‘ (سیلاب نیلا) ظاہر کرنے کی کوشش کی۔اُستاد شاعر قلقؔ بہت پہلے کہہ گئے تھے کہ۔
’’شہر والوں کے ساتھ ریلا تھا
لبِ دریا، بس ایک میلا تھا‘‘
پاکستان پیپلزپارٹی کے بعض قائدین اہلِ کراچی کو نوید دے رہے ہیں کہ ’’کراچی کو وارث مل گیا‘‘ یعنی۔
’’تھا انتظار جس کے‘ وہ شہکار آگیا‘‘
جنابِ احمد ندیم ؔقاسمی (مرحوم) نے نہ جانے کس شہکار کے بارے میں کہا تھا۔
’’جس بھی ’’فن کار کے‘ شہکار ہو تُم!‘‘
اُس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا‘‘
جنابِ آصف زرداری کراچی میں ہوتے تو کتنے خوش ہوتے؟ تین سال پہلے "Face Book" پر پنجاب کے صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخشؒ کا یہ عارفانہ کلام گاتے ہوئے جناب قمرزمان کائرہ کو ایک نیوز چینل پر دکھایا گیا تھا۔
’’مَیں کوہجی‘ میرا دِلبر سوہنا
صاحب نُوں وڈیائیاں
مَیں گلیاں دا، رُوڑا کوڑا
محل چڑھایا، سائیاں‘‘
ترجمہ: مَیں بد صورت ہوں اور میرا محبوب خوبصورت۔ یہ میرے صاحب کا بڑا پن ہے کہ اُس نے مجھے محل میں بٹھادیا ورنہ مَیں تو گلیوں کا کوڑا کرکٹ تھی‘‘۔ مَیں نے 5اگست 2013ء کو ’’جنابِ کائرہ کی گائیکی‘‘کے عنوان سے ’’نوائے وقت‘‘ میں کالم لکھا تو مجھے برطانیہ کے شہر گلاسکو سے ’’بزمِ شعرونغمہ‘‘ کی چیئرپرسن محترمہ راحتؔزاہد اورگلاسکو انٹرکلچرل آرٹ گروپ کے چیئرمین شیخ محمد اشرف نے ٹیلی فون کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’آپ ہماری طرف سے جناب قمر زمان کائرہ سے درخواست کریں کہ وہ گلاسکو تشریف لاکر ہمارے ثقافتی شو کو اعزاز بخشیں تو اہلِ گلاسکو پیپلزپارٹی کے لئے بہت سا "Fund" اکٹھا کردیں گے‘‘۔ مَیں نے جنابِ کائرہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
مندرجہ بالا حضرت میاں محمد بخش کا کلام نواسۂ بھٹو اور پھر بے نظیر و زرداری پر منطبق نہیں ہوتا۔ انہوں نے محلوں میں آنکھ کھولی اور یہ اہلِ کراچی کی خوش قسمتی ہے کہ پیپلزپارٹی نے انہیں (فی الحال) ’’کراچی کے وارث‘‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔ اگر اُن کی طرف سے یہ اعلان کردیا جاتا کہ ’’پاکستان کو اُس کا وارث مل گیا ہے‘‘ تو کوئی اُن کا کیا بگاڑ لیتا؟‘‘ کراچی کی ریلی میں بلاول صاحب کی تقریر زور دار ہے۔ کہتے ہیں ’’میاں نوازشریف پاکستان کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں اور عوام اتنے مایوس ہوئے ہیں کہ انہوں نے ’’شیر کے شکار کا ٹھیکہ’’کھلاڑی‘‘ (عمران خان) کو دے دیا ہے‘‘۔
بلاول صاحب نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم (یعنی وہ اور اہلِ کراچی) پاکستان کو دہشت گردی‘ جہالت‘ غربت‘ فرسودہ نظام اور ’’تختِ رائے ونڈ‘‘ سے نجات دلائیں گے‘‘۔ 11مئی 2013ء سے پہلے پیپلزپارٹی کے بڑے اور چھوٹے قائدین ’’تخت لہور‘‘ پر قبضہ کرنے کے اعلانات کیا کرتے تھے۔ اُن دنوں میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ انتخابات کے بعد بھی ’’تختِ لہور‘‘ پر ’’شیر‘‘ کے انتخابی نشان والی مسلم لیگ ن کا ہی راج ہے اور وفاق پر بھی۔ میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ اور میاں نوازشریف وزیراعظم منتخب ہوگئے اور ’’بلّا‘‘ کے انتخابی نشان والی ’’کھلاڑی‘‘ (عمران خان) کی پاکستان تحریک انصاف ووٹوں کے حساب سے دوسرے نمبر پر تھی۔ جناب بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی یادگار پیپلزپارٹی ’’ٹانواں ٹانواں دیوا جلے‘‘ کی پوزیشن میں رہی۔
پیپلزپارٹی کے پیروں تلے سے ’’تختِ لہور‘‘ اُسی وقت سرک گیا تھا جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مڈل کلاس دانشور محمد حنیف رامے کی جگہ نواب صادق حسین قریشی کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا تھا۔ قریشی صاحب 4 جولائی 1977ء تک وزیراعلیٰ پنجاب رہے۔ اُن کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو دو بار وزیراعظم رہیں۔ جنابِ آصف زرداری مکمل اختیارات کے ساتھ 5 سال تک صدرِ پاکستان بھی رہے لیکن لاہور میں بم پروف بلاول ہائوس تعمیر کرنے کے باوجود ’’تختِ لہور ‘‘ پر قبضہ نہیں کرسکے۔ جنابِ بھٹو نے پیپلزپارٹی لاہور میں قائم کی تھی اور اہلِ لاہور نے ہی انہیں ’’قائدِ عوام بنایا تھا۔ ’’تختِ لہور‘‘ پر بھٹو صاحب اور اُن کی پارٹی کا قبضہ بھی رہا لیکن جب انہیں نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تو ’’تختِ لہور‘‘ کسی اور کے قبضے میں تھا۔
’’تختِ لہور‘‘ کی اصطلاح بہت پرانی ہے جو مغل بادشاہ اکبر کے دور کے مغلیہ سلطنت کے باغی پنجاب کے ایک راجپوت ہیرو، ساندل بار کے رائے محمد عبداللہ بھٹی المعروف ’’دُلا بھٹی‘‘ سے منسوب ہے۔ اکبر بادشاہ نے اپنے 49 سالہ دورِ حکومت میں 20 سال لاہور میں گزارے ۔ پنجاب کے نامور شاعروں نے دُلّا بھٹی کی شجاعت اور مغل سلطنت کے خلاف بغاوت پر رزمیہ نظمیں لکھیں۔ایک نظم’’دُلّے دی بار‘‘ میں شاعر نے دُلّا بھٹی سے کہلوایا تھا۔
’’مَیں ڈھادیاں دِلّی دے کنکرے
تے بھاجڑ پادیاں تخت لہور!‘‘
یعنی۔مَیں اکبر بادشاہ کے دارالحکومت دِلّی کے میناروں کو گرادوں گا اور اُس کے ’’تخت لہور‘‘ میں بھگدڑ مچادوں گا ۔ اکبر بادشاہ نے دُلّا بھٹی کو پھانسی دلوادی تھی۔اُن کی قبر لاہور میں ہے لیکن اہلِ پنجاب میں خال خال لوگ ہی انہیں یاد کرتے ہیں۔ دُلّا بھٹی کے وارثوں نے اکبر سے مفاہمت نہیں کی تھی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو (موجودہ بھارتی پنجاب کے علاقہ ’’بھٹیانہ‘‘ کے بھٹی راجپوت تھے۔ انہیں فوجی آمریت کے خلاف بغاوت کے جرم میں نہیں بلکہ قتل کے مقدمۂ سازش میں پھانسی دی گئی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو، امریکہ اور پاکستان کی مقتدر طاقتوں سے مفاہمت کرکے جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہی پاکستان آگئی تھیں اور دربار وزیراعظم منتخب ہوئیں۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو کا ’’بھٹی قبیلہ‘‘ سندھ میں آباد ہوا تو ’’بھٹو‘‘ کہلایا۔ جناب آصف زرداری نے اپنے بیٹے بلاول زرداری کو ’’بھٹو‘‘ بنا دیا۔
’’جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے!‘‘
جناب آصف زرداری کے 5 سالہ دورِ صدارت میں میاں نوازشریف کی مسلم لیگ ن Friendly Oppositionتھی۔ جنابِ زرداری بھی جنابِ وزیراعظم کے فرینڈلی اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انہوں نے تو جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کیا تھا اور ایک سال اور 4 ماہ سے دُبئی میں سمندر کی لہریں گِن رہے ہیں۔ مغل بادشاہ شاہ جہان (1592ء سے 1662ء تک) نے تختِ حضرت سلیمان ؑ کی نقل میں اپنے لئے ہیرے جواہرات سے مرصع ’’تختِ طائوس‘‘ بنوایا تھا جس پر ایک مرصع مور پَر پھیلائے کھڑا تھا۔ 1739ء میں ایران کا بادشاہ نادر شاہ دُرانی ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔ لُوٹ مار کی اور تختِ طائوس اٹھا کر ایران لے گیا تھا۔
ہندو دیومالا کے مطابق وشنودیوتا کے اوتار ’’بھگوان‘‘ اپنے والد راجہ دشرتھ (ایودھیا کے مہاراجا) کے قول اور اپنی سوتیلی والدہ ’’کیکیئی‘‘ کی خواہش کے مطابق 14 سال تک جلا وطن رہے اور اُن کا سوتیلا بھائی بھرت راجا بنایا گیا تو اُس نے بڑے بھائی سے اُن کے ’’کھڑائوں‘‘ (لکڑی کے جوتے مانگ لئے تھے۔ راجا بھرت نے وہ جوتے شاہی تخت پر ’’بھگوان رام‘‘ کے نام سے حکومت کرتا رہا۔1257ء میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا۔ خلیفہ مُستعصم باللہ ’’بیت المال‘‘ کا اکیلا مالک تھا۔ بیت المال ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے بھرا تھا۔ خلیفہ کے خاندان کے افراد اور درباری عیش و عشرت میں مصروف تھے۔ خلیفہ فوج کو تنخواہیں نہیں دیتا تھا۔ فوج نے ہتھیار ڈال دئیے۔ ہلاکو خان نے خلیفہ کوقتل کرادیا اور بغداد میں 16 لاکھ مسلمانوں کو بھی ۔ اگر خلیفہ کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ حملہ آور فوج کو ہلاک کروادیتا۔ اُس دور میں لوٹی ہوئی قومی دولت غیر ممالک میں جمع کرانے کی سہولت ہوتی تو خلیفہ اس سے فائدہ اٹھاتا۔ ہمارے یہاں جمہوریت ہے اور بھوکے ننگے عوام جمہوریت زدہ بلاول بھٹو یا کوئی اور لیڈر ’’تختِ رائے ونڈ‘‘ یا کسی دوسرے تخت پر قبضہ کرنا چاہیں تو کریں۔ ’’شاعرِ سیاست‘‘ نے صوفی شاعر شاہ حسین کو یاد کرتے ہوئے مسائل زدہ عوام کی طرف سے کہا۔
’’خُورے بلاول بھٹو ہوویں‘ لیڈر ہووَن چنگے
اسیں لوک تاں ورہیاں توں پھرنے آں بھکھّے، ننگے
رائے ونڈ دا تخت اوہ کھووّن‘ اسیں کیوں لَوئیے پنگے
’’کہے حسینؔ فقیر سائیں دا، تخت نہ مِلدے منگے‘‘