فلسفہ یونا ن /عمران خان کی گرفتاری /اور متنازعہ خبر

19 اکتوبر 2016

یونان کے سیاسی فلاسفروں سے سیاسی فلسفے کی ابتدا ہوئی تھی اور اس کے ایک بڑے یونانی فلاسفر نے کہاتھا کہ تجارتی پس منظر کے حامل افرادکو کبھی سیاسی اقتدار نہیں دینا چاہیے کیونکہ جب وہ اقتدار پر موجود ہوتے ہیں تو کبھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے ۔اس فلسفے کا سچ آج پاکستان میں واضح طورپر دکھائی دے رہاہے ،جب اس ملک کے وزیراعظم اپنے ذاتی اور خاندانی و تجارتی مفادات کے حصول کے لیے ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کو نظر انداز کررہے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت ایک سوچ حکومتی حلقوں میں چل رہی ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت کو نظر بندیا گرفتار کرکے 2نومبر کے اسلام آباد بندکرنے کے احتجاج کو روک دیا جائے ،میری نظر میں یہ غیر دانشمندانہ سوچ ہے عام طور پر بیوروکریسی میں بیٹھے لوگ ہی حکومت کو ایسے الٹے سیدھے مشوروں سے نوازتے ہیں کہ ایسے سیاسی احتجاجوں کو انتظامی طریقہ کار سے روکا جائے اس کے علاوہ نواز لیگ میں خود بھی اسی قسم کی سوچ رکھنے والے ناعاقبت اندیش لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو اقتدار کے نشے میں مست حکومتی ڈنڈے سے اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جہاں حکومتوں نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین پربے جا سختیاں کیں اور جیل بھرومہم چلائی مگر ایسی حکومتوں کی تمام تر کوششیں ناکام ہوئیں اور یہ ہی نہیں کئی دفعہ ایسی مغرور حکومتوں کو اپنے اقتدار سے ہی محروم بھی ہونا پڑا ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب بھی کچھ اسی قسم کا معاملہ چل نکلا ہے،عمران خان نے واضح طورپر یہ کہہ دیاہے کہ 2نومبر کے روز اسلام آباد بند کرنے پر ان کے خلاف کوئی پکڑ دھکڑ ہوئی تو ساری حکومت جائیگی بہتر یہ ہی ہوگا کہ وزیراعظم تلاشی دیں یا استعفٰی دیں ۔ میں سمجھتاہوں کہ اگر پی ٹی آئی کی جا نب سے اسلام آباد کی ممکنہ بندش کو لاٹھی ،گولی اور گرفتاریوں سے روکنے کی کوشش کی گئی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو اس کا رد عمل جہاں ان کے جنونی کارکنوں سے ملے گا وہاں پاکستان کے عوام جو اس وقت بھوک اور افلاس کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں وہ بھی اس قسم کے عمل کو حکومتی غنڈہ گردی تصور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں ایسے میں پھر جو حکومت اور اس کے نااہل وزیروں کے ساتھ ہوگا اسے میں اس تحریر میں بیان کرنے سے قاصر ہوں ،کرام تشدد کے ذریعے پی ٹی آئی کی تحریک کو کسی بھی حال میں ختم نہیں کیا جاسکتا مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومتی ڈنڈے کا استعمال حکومت کو بہت نقصان پہنچاسکتاہے اور پھر یہ نہ ہو کہ حکومت کے پاس بعد میں کف افسوس ملنے کے کچھ نہ باقی بچ سکے!! ۔ ہم نے دیکھا کہ جن ممالک میں پانامہ لیکس کے مسائل پیدا ہوئے ان ملکوں میں عوام کے دباﺅ کے باعث ان مسائل کا سیاسی حل تلاش کرلیا گیاہے ماسوائے پاکستان کے جہاں 7ماہ گزرنے کے باجود بھی پانامہ لیکس کا مسئلہ جوں کا توں کھڑا ہے جہاں وہ پہلے دن کھڑا تھا اور یہ مسئلہ وزیراعظم اور ان کے ناعاقبت اندیش ساتھیوں کے مشوروں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جو اس بات کو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا قانون ان پرکسی بھی حال میں لاگو یا نافذ نہیں ہوسکتااور یہ کہ وہ اس ملک کے مال ودولت کی لوٹ مار میں کسی بھی ادارے یا عوام کے آگے جواب دہ نہیں ہوسکتے ۔
جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے بیانات میں بارہاکہابھی ہے کہ ذاتی خاندانی اور قومی مفادات کو آپس میں گڈ مڈ نہ کیا جائے قومی مفادات کو ہرقسم کے معاملات پر ترجیح ہونی چاہیے !! ایسے میں باقی کام تو پھر شریف برادران کا ہی رہ جاتاہے کہ وہ اگر بے قصور ہیں تو خود کو احتساب کے لیے پیش کیوں نہیں کردیتے؟مزید براں وہ یہ جواز میڈیا میں پیش کردیتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے ساتھی قومی مفادات کے ساتھ کھیل رہے ہیں یعنی ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنا اور سب سے بڑھ کر ملکی اداروں کو اونے پونے داموں بیچ دینا ملک خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اس میں بسنے والی قوموں پر کسی احسان عظیم سے کم نہیں ہے مگر ان لوٹ مار کا حساب مانگنا کسی بھی لحاظ سے ملکی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے ؟ ان باتوں کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یا تو میں غلط ہوں یاپھرشریف برادران غلط ہیں اس کا فیصلہ اس تحریر کو پڑھنے والے باآسانی کرلیں گے ۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم صاحب کی چیرہ دستیوں کی سیاست نے قومی سیکورٹی کے


حوالے سے ایک خبر نکال کر پاکستان کی بہادر افواج کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے یہ ایک ایسا خطرناک قدم ہے جسے دیکھتے ہوئے جو استعفیٰ انہیں7 ماہ قبل پانامہ میں نام آنے کے بعد ہی دیدینا چاہئیے تھاوہ استعفیٰ اب اس متناذعہ خبر پر چاہئیے۔ نہیں تو اس خبر کی تلافی اس طرح کی جائے کہ اس ملک کا ہر شخص ہی مطمین ہوجائے اس معاملے پر بات چیت قومی سلامتی کے معاملات کو زیر بحث لانے کے مترادف ہے، میڈیا کی خبروں کے مطابق جو الزامات اس خبر میں قومی سلامتی کے اداروں پر لگائے گئے ہیںاس کی زد میں حکومت ہی آتی ہے جن کے پاس اب وقت بہت کم ہے ، دوستو میں اس خبر پرتفصیلاً گفتگو کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں کہ اور نہ ہی میں اپنا اگلا آرٹیکل جیل میں لکھنا چاہتاہوں مگر اتنا ضرور ہے کہ جو حق سچ کی بات ہے اسے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بولنے اورلکھنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ افسوس توہمیں اس ملک کے وزیراعظم پر کرنا چاہیے جو سمجھتے ہیں کہ دنیا کا مال ودھن سب ان کو آخرت میں بچا لے گا ی حقیقت میں جن لوگوں نے بھی یتیموں اور مسکینوں کا مال لوٹا وہ دنیا میں بھی مجرم ٹھرے اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا ۔انہیں اس بات کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے کہ اس ملک کے اقتدار اور کرسی پر وہ ہمیشہ فائز رہیں گے۔ اس سلسلے میں میری حکومت کو یہ رائے ہے کہ حکومتی اقتدار عوام کے فلاح وبہبود کے لیے ہے یہ کسی بھی طاقتور شخص کی جاگیر نہیں بن سکتا،یہ اقتدار حکمرانوںکو صرف اس دن کے لیے دیا جاتاہے کہ وہ اس کرسی پر بیٹھ کر عوام کی خدمت کرنے کے ساتھ انصاف کا بول بالا کریں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے پاس چوائس اور راستے کم ہوتے جارہے ہیں بہتر ہوگاکہ وہ خود ہی اپنے آپ کو عوام کے عدالت میں احتساب کے لیے پیش کردیں۔