محاذ آرائی اور چپقلش میں عوام کیوں پسے

19 اکتوبر 2016

سانحہ کار ساز میں شہداء کو سلام پیش کرنے کے لئے ’ اتوار 16 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی جانب سے’سلام شہدائ“ ریلی نکالی گئی ۔
بلا شبہ سانحہ کارساز میں 177پارٹی کارکنان و شہریوں کی شہادت ایک عظیم سانحہ تھا جنہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام کے مطابق ریلی صبح 10 بجے بلاول ہاﺅس سے شروع ہونی تھی۔ پیپلزپارٹی کے سینئررہنما و سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہناتھا کہ یہ ریلی تاریخی ہوگی اور پھر یہ ریلی تاریخی ثابت ہوئی۔ان غمزہ خاندان کے لئے جن کے 3 افراداسپتال پہنچنے سے قبل ایمبولینسوں میں دم توڑ گئے۔ ان لاکھوں شہریوںکے لئے جو گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے‘جنہوں نے 20 منٹ کا سفر 3 گھنٹے میں کیا۔ 10 کلو میٹرکا سفر طے کرنے کی بجائے اسے 80 کلو میٹر کا سفر کرناپڑا۔ ان آٹھ ہزار پولیس اہلکاروںکے لئے جو صبح سات بجے سے ڈیوٹی پر تھے اوررات گئے ان کی جان بخشی ہوئی ۔ ہزاروں لاکھوں شہری اس ”سلام شہدائ“ ریلی کی بدولت دن بھر بھٹکتے رہے‘ائیر پورٹ اور ریلوے اسٹیشن نہ پہنچنے والے سیکڑوں مسافروں کی فلائٹس اور ٹرینیں چھوٹ گئیں اور وہ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ سیکڑوں مریض اسپتال نہ پہنچ پائے ۔افسوس صد افسوس ، ےہ سب کیا دھرا حکومت کا ہے اور اس جمہوری دور حکومت میں عوام کس کس طرح ان منتخب اورسیاسی رہنماﺅں نمائندوں کے ہاتھوں یرغمال ، مجبور و بے بس ہیں۔ یہی حکمران اورہمارے لیڈرز ہیں جو عوام کے مفادات کی آڑ میں اپنی اپنی جنگ لڑرہے ہیں۔ کوئی مرے یا جیئے انہیں کسی سے کوئی غرض نہیں، وہ اپنا الو سیدھا کئے ہوئے ہیں۔ کہیں لفظی جنگ ہے اور کہیں مظاہروں اور دھرنوں کی سیاست‘ اور کہیں شہر بند کرنے کی دھمکیاں۔ اس سیاسی چپقلش اور محاذ آرائی میں پس بیچارے عوام رہے ہیں۔گزشتہ کئی دنوں سے ہمارے ملک میں یہ سیاسی چپقلش اور محاذ آرائی شدت پکڑتی جارہی ہے۔ حکمران جماعت بالخصوص وزیر اعظم میاں نواز شریف اورپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کے ‘ کارکنان بیان بازی کررہے ہیں اورکسی نہ کسی طور ایک دوسرے کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔ گزشتہ روز ریلی میں بھی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاوال بھٹو نے ©”دمادم مست قلندر“ کا نعرہ لگا دیا اور 27دسمبر کو لانگ مارچ کا علان کیا۔ اس صورت حال میں غریب عوام پستے ہیں‘ یہی غریب عوام اپنے سیاسی وابستگی اورجذبات کی بھینٹ ۔چنانچہ عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس صرف 2 آپشن ہیں ،وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوں یا تلاشی دیں ،انہوں نے اگر چوری نہیں کی اور تو خوف نہیں ہونا چاہیے وہ احتساب سے کیوں بھاگ رہے ہیں، ہمارے پاس اب سوائے سڑکوں پر آنے کے کوئی راستہ نہیں ، حکومتی دفتروں کو جانے والی سڑکوں پر بیٹھیں گے۔اسلام آباد میں عوام کا سمندر ہوگا اور صرف اپنی ذات کی فکر کرنے والے اسلام آباد دھرنے میں نہیں آئیں گے۔ دوسری جانب وزیر اعظم نوازشریف نے عمران خان پر بھی جوابی لفظی فائر کئے اور واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد بند نہیں ہونے دیں گے یہ کھلا رہے گا، ہم ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کررہے ہیں تاہم کچھ عناصر اسلام آباد کو بند کر کے ملکی ترقی میں رکاوٹیں کھڑا کرنا چاہتے ہیں جوکسی صورت قبول نہیں ۔اسی طرح مسلم لیگ کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ کسی میں ہمت ہے تو اسلام آباد بند کرکے دکھائے ۔ عمران خان کے اردگرد کرپٹ لوگ ہیں اگر کریک ڈاﺅن ہوا تو سب سے زیادہ گرفتاریاں کنٹینر سے ہونگی ۔اسی طرح بعض دوسری سیاسی جماعتوں نے محاذ آرائی جاری کی ہوئی ہے‘ جن کا پاکستان کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو ملکی و قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے مظاہروں و دھرنوں کی سیاست ترک کی جائے عوام کے حقوق کی پاسداری کی جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہوں یا ان کی کابینہ‘ اگر چہ عوام کے حقوق کے تحفظ کا ذکرکرتے ہوئے سنا گیا لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ گزشتہ دنوں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک نو تعمیر وارڈ کاافتتاح کیا۔ تاہم اس موقع پران کے اعزاز میں ہونے والے ہائی پروٹوکول اور سیکورٹی کا ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا جس میں دن بھر سیکڑوں مریض پھنسے رہے‘ جوکہ متعلقہ حکام کی بیورو کریسی سے الفت اور عوام کے حقوق کے استحصال کی مثال ہے۔ عوامی اورمنتخب نمائندے کو اس ا مرکا احساس ہونا چاہئے کہ وہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر پہنچے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں اور عوام کے حقوق کا خیال کریں۔