تحریک انتفادہ کے سو دن

19 اکتوبر 2016

مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد ابھرنے والی تحریک کے 100 دن پورے ہوچکے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین ماہ کے دوران 120کشمیری شہید اور 12 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ بدترین بھارتی مظالم کے باعث سیکڑوں معصوموں کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔ کتنے ہی ایسے جوان و بوڑھے اور بچے ہیں، جن کے جسموں کو آزادی کی قیمت پر پیلٹ گن کے چھروں سے چھلنی کیا گیا۔ بھارتی افواج نے ظلم کی ایک نئی داستان رقم کرتے ہوئے دنیا کی تاریخ کے طویل ترین کرفیو کا بھی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ یہ مقبوضہ کشمیر کی سو دن کی مختصر کہانی ہے۔ کیا ان سو دن کی جہدِ مسلسل سے مظلوم کشمیری عاجز آگئے ہیں، کیا انہوں نے غلامی قبول کرلی، یا پھر بھارتی تسلط کو تسلیم کرلیا؟ ہرگز نہیں۔سلام ہے کشمیر کے ان غیور مسلمانوں پر وہ اپنا خون پیش کرکے، جوانیاں لٹاکر، بھوک و افلاس کی صعوبتیں جھیل کر بھی ڈٹے ہوئے ہیں، جھکے ہیں، نہ بکے ہیں۔ اگر اہل کشمیر کے شہداءکے جنازے اٹھتے ہیں تو وہ بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوئے۔ جب کشمیری اس قدر سخت حالات کے باوجود اپنے دیرینہ مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے، تو پاکستان کو بھی مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے اپنے اصولی موقف میں لچک نہیں دکھانی چاہیے۔ حکومت مسئلہ کشمیر پر واضح پالیسی اپنائے، جس میں کسی قسم کی کمزوری کو دخل نہیں دینا چاہیے۔ اپنے اصولی موقف کے تناظر میں ہی مقدمہ کشمیر کو آگے بڑھاکر اس کا پرامن حل نکالا جاسکتا ہے۔ ( علی حسن، کراچی)