گلابی گیند اور وکٹ کے بارے میں اندازے غلط نکلے، ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ٹف، جیت کے لئے محنت کرنا ہو گی: مصباح الحق

19 اکتوبر 2016

لاہور (نمائندہ سپورٹس+سپورٹس رپورٹر)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے چار سوویں ٹیسٹ اور گلابی گیند کے ساتھ پہلے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ میں جیت کو وہ یادگار لمحہ سمجھتے ہیں لیکن اس جیت کے لیے ٹیم کو سخت محنت کرنی پڑی۔ چونکہ پاکستانی ٹیم پہلی بار گلابی گیند کے ساتھ ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی، لہٰذا دونوں کے رویے کے بارے میں جو اندازے لگائے گئے تھے وہ مختلف ثابت ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ دبئی کی پچ عام طور پر دوسرے دن سپنرز کی مدد کرنا شروع کر دیتی ہے لیکن گلابی گیند اور نائٹ ٹیسٹ میں شام کو اوس پڑنے کی وجہ سے گیند کی سلائی کا پھول جانا یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ میچ بولرز کے لیے آسان نہ تھا۔ خاص کر اوس پڑنے کی وجہ سے پچ دوبارہ جڑ جاتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بولرز ویسٹ انڈین بیٹسمینوں کو جلد آؤٹ نہ کر سکے۔ اگرچہ ڈیرن براوو نے یاسر شاہ کے خلاف اچھی بیٹنگ کی لیکن اس کے باوجود یاسر شاہ قابل داد ہیں جنھوں نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔یہ بات ان کے لیے خاصی تکلیف دہ تھی کہ آپ تین دن تک حریف ٹیم پر حاوی رہیں اور پھر ایک سیشن میں حریف ٹیم کو ایڈوانٹج مل جائے۔ اگر پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں مزید پندرہ اوورز کھیل کر 400 رنز کی برتری حاصل کر لیتی تو ہو سکتا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کو جلد آؤٹ کر لیتے۔انھوں نے کہا جب حریف ٹیم کو بھی جیتنے کا موقع ملنے لگے تو آپ دباؤ میں آجاتے ہیں تاہم پاکستانی بائولرز نے سخت محنت کی اور اچھی بائولنگ کر کے ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کیا۔مصباح الحق کو امید ہے کہ ابوظہبی میں چونکہ ٹیسٹ میچ دن میں کھیلاجائے گا تو نہ صرف ان کے سپنرز بلکہ تیز بائولرز کو بھی مدد ملے گی خاص کر وہ ریورس سوئنگ کر سکیں گے جو ان کی خصوصیت ہے۔ ڈے نائٹ ٹیسٹ میں گیند اوس کی وجہ سے گیلی ہونے کی وجہ سے بائولر ریورس سوئنگ بھی نہیں کر سکے۔مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ انھیں اس میچ میں لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر کی کمی محسوس ہوئی۔دبئی ٹیسٹ میں تین تیز بائولر کھلانے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں جو میچ گلابی گیند کے ساتھ کھیلا تھا اس میں رات کے وقت سیم بائولرز بہت موثر ثابت ہوئے تھے لیکن دبئی ٹیسٹ میں تیزبائولرز کو اس طرح کی مدد نہیں ملی۔ محمد نواز اگرچہ ذوالفقار بابر کی طرح میچ ونر کا کردار تو ادا نہیں کر سکے لیکن انھوں نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔