امریکہ کیساتھ تجارتی شراکت داری بڑھانا چاہتے ہیں‘ وزیراعظم نوازشریف

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم نوازشریف نے توقع ظاہر کی کہ ٹیفا معاہدہ کی کونسل کا اجلاس امریکہ اور پاکستان دونوں کے لئے ثمر آور ثابت ہوگا۔ امریکہ پاکستان کا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ہم اس شراکت داری کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ قریبی معاشی تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ پاکستان اور امریکہ دوطرفہ تجارت میں اضافہ کریں جو گزشتہ چند سال سے 5ارب ڈالر کے قریب ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ تین برسوں میں متعدد محاذوں پر غیر معمولی پیشرفت کی ہے۔ پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ حکومت کی کوششوں سے شرح ترقی 4.7فیصد ہوئی جس کے تسلسل سے ترقی ظاہر ہوتی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پروگرام سے بھی پاکستان کی جاندار پالیسیوں کا پتہ چلتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو حقوق دانش کے تحفظ کی ”واچ لسٹ“ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔توانائی کی فراہمی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔دریں اثناءپاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کا فریم ورک معاہدہ (ٹیفا) کے کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے پاکستان کے وفد کی قیادت کی جبکہ امریکی وفد کی قیادت تجارتی نمائندہ مائیکل فورمین نے کی۔خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان ٹیکسٹائل مصنوعات کی ترجیحی رسائی کا مستحق ہے۔مائیکل فورمین نے کہا کہ ٹیفا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے تعلقات آگے بڑھانے کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔امریکہ کے تجارتی نمائندے مائیکل فرومین نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ وزیر خزانہ نے انہیں حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے بارے میں بتایا۔ تجارتی نمائندے نے آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب تکمیل کی مبارکباد دی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ‘ دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے لئے قانون سازی کی ہے۔
نواز شریف/ امریکہ