نااہلی ریفرنسز عمران خان جہانگیر ترین دھرنے والے دن 2 نومبر کو طلب غیر حاضری کی صورت میں الیکشن کمشن اپنا فیصلہ سنائے گا الیکشن کمشن

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد (ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) الیکشن کمشن نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے نااہلی ریفرنسز میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جہانگیر ترین کو اسلام آباد میں دھرنے والے دن 2 نومبر کو طلب کر لیا جبکہ نااہلی کی ایک اور درخواست پر سربراہ تحریک انصاف کو نوٹس جاری کردیا۔ سپیکر کی جانب سے بھیجے گئے نااہلی ریفرنسز سماعت کیلئے مقرر کر دیئے ہیں۔ کمشن نے دونوں رہنماﺅں کو 2 نومبر کو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا۔ الیکشن کمشن کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماﺅں پر الزام ہے کہ انہوں نے آف شور کمپنیاں چھپائیں اور ٹیکس چوری کی۔ معاملے کو مقررہ مدت میں نمٹانا چاہتے ہیں۔ لہٰذا عمران خان اور جہانگیر ترین دو نومبر دن دس بجے خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہو کر جواب داخل کریں۔ غیر حاضری کی صورت میں الیکشن کمشن اپنا فیصلہ سنائے گا۔ الیکشن کمشن نے لاہور اور اسلام آباد کے ضلعی الیکشن کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ نوٹسز دونوں رہنماﺅں کے گھر پہنچائے جائیں۔ سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے الیکشن کمشن کو عمران خان کے خلاف بھجوائے گئے نااہلی ریفرنس کی سماعت5 رکنی کمشن 2 نومبر کو کرے گا۔ جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس کی سماعت بھی دو نومبر کو ہی ہو گی، ان پر زرعی ٹیکس اور بنکوں سے غیر قانونی طور پر معاف کروائے گئے قرضوں کے بارے میں حقائق چھپانے کے الزامات ہیں۔ یہ ریفرنسز سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے الیکشن کمشن کو بھجوائے گئے تھے۔ دریں اثنا الیکشن کمشن نے عمران خان کو بیرون ملک فنڈنگ کی ایک اور درخواست میں باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اکبر اویس بابر کی درخواست کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی۔ چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں فل بنچ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ ہاشم علی بھٹہ نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست دائر کررکھی تھی۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان آرٹیکل باسٹھ اورتریسٹھ پر پورا نہیں اترتے۔ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ عمران خان نے کون سے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز وصول کئے ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ نہ لینے سے متعلق غلط سرٹیفیکیٹ الیکشن کمشن میں پیش کئے۔ ممنوعہ ذرائع سے فنڈز میں بیرون ملک سے سیاسی جماعت کے لئے فنڈز لینا بھی شامل ہے۔ وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ عمران خان کی سیاسی جماعت نے ممنوعہ ذرائع سے بیرون ملک سے فنڈز لئے۔ الیکشن کمشن میں تحریک انصاف کی اپنی دستاویزات میں کہا گیا ہے امریکہ میں غیرملکیوں نے پارٹی کے لئے فنڈز اکٹھے کئے۔ پی ٹی آئی بیرون ملک کے فنڈز پر چلنے والی سیاسی جماعت ہے۔ عمران خان نے الیکشن کمشن سے جھوٹ بولا جس پر وہ رکن پارلیمنٹ رہنے کے اہل نہیں۔ پی ٹی آئی کو دوہزار ایک سے دوہزارتیرہ تک انتیس لاکھ بانوے ہزار ڈالرز بیرون ملک سے پارٹی فنڈز کی مد میں موصول ہوئے۔ الیکشن کمشن نے کیس پی ٹی آئی پارٹی فنڈ سے متعلق کیس سے منسلک کر دیا گیا جبکہ کی باقاعدہ سماعت یکم نومبر کو ہو گی۔
الیکشن کمشن