مارچ اپریل میں مردم شماری کرانے کی حکومتی رپورٹ مسترد حتمی تاریخ دی جائے سپریم کورٹ

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ میں مردم شماری میں تاخیرسے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت،عدالت نے مردم شماری کرانے کی حتمی تاریخ اور فریم ورک طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی ہے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ بڑا سنجیدہ معاملہ ہے مردم شماری کے عدم انعقاد سے عدالت کو تو نہیں مگر عوام کو فرق پڑتا ہے جن لوگوں کا مفاد ہے وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ سسٹم جوں کا توں رہے معاملات اسیے ہی چلتے رہیں ، مردم شماری کرانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جو پوری نہیں کی جارہی ،عدالتی احکامات کے ساتھ یہ ہی کچھ ہوتا رہا تو عدالتوں کے بارے میں یہی تاثر جائے گا کہ یہ صرف باتیں ہی کرتی ہیں کام نہیں کرتیں۔ بروز منگل چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تین رکنی بنچ نے حکومت کی جانب سے مردم شماری نہ کرانے سے متعلق سوموٹو کیس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل فار پاکستان اشتر اوصاف علی عدالت میں ہوئے انہوں نے عدالت میں پیش رفت رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت چاہئے تو یہاں ہی اس کا جائزہ لے لے یا کمیٹی روم میں بریففنگ دے دیتے ہیں کہ کتنا کام ہوگےا اور کتنا رہ گےا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کےا ایسی کاغذی کارروائیوں سے مسئلہ ہو جائے گا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارچ اپریل 2017ء میں مردم شماری کروادیں گے ، چیف جسٹس نے مردم شماری مارچ، اپریل 2017 میں کرانے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے قرار دےا کہ سب بے کار ہے 1998ءکے بعد مردم شماری ہونی تھی مگر 10سال گزر گئے اب کےا آئندہ 18سال میں مردم شماری کروائی جائے گی ؟پیرورک تےار کرنا کوئی مسئلہ نہیں چاہے سپریم کورٹ کے باہر دو ٹرک لاکر کھڑے کردیں‘ خالی جمع تفریق سے کچھ نہیں ہوتا ہمارا صرف ایک مقصد اور سوال ہے مردم شماری کیوں نہیں ہو رہی‘ حکومت کی یہ آئینی ذمہ داری ہے جو پوری کی جائے‘ مردم شماری سے متعلق حکومتی رپورٹ متاثر کن نہیں ایسی کوئی رپورٹ نہیں آئی جس میں فکسڈ ڈیٹ اور فریم ورک موجود ہو، مردم شماری وقت پر نہ ہوئی تو 2018 کے الیکشن کیسے ہونگے؟ جن لوگوں کا مفاد ہے وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ معاملات یونہی چلتے رہیں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ وہ وزیراعظم و دیگر متعلقہ لوگوں سے ملے ہیں یہ معاملہ پاکستان کے مستقبل سے متعلق ہے مارچ اپریل 2017ءمیں مردم شماری کرادی جائے گی ہماری غلطی ضرور ہے مگر مردم شماری نہ ہونے میں ہماری کوئی بد نیتی شامل نہیں ،مردم شماری میں تاخیر کی موجودہ حکومت ذمہ دار نہیںسابقہ حکومتوں کا بھی قصور ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تاخیر کا ملبہ موجودہ حکومت پر بھی نہیں ڈالیں گے، مردم شماری میں تاخیر کی ذمہ دار ماضی کی حکومتیں بھی ہیں، موجودہ حکومت کو بھی ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں، کام کی نیت ہو تو منصوبہ کا افتتاح پہلے ہوتا آن گراﺅنڈ کام شروع ہوجاتا ہے جبکہ بعد میں پی سی ون بنتا ہے، ایسے منصوبے پھرعدالتوں میں چیلنج اور کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،پہلے مردم شماری کیلئے 2016 کی تاریخ دی گئی، پھر فوج کی عدم دستیابی کو جواز بنا لیا گیا ہے، یہ بات تو ٹھیک ہے فوج کا لیٹر بھی فائل میں موجود ہے مگرقانونی طور پر مردم شماری کیلئے فوجی اہلکاروں کا ساتھ ہونا ضروری نہیں، پورے ملک میں مردم شماری ایک دن میں کرانے کی کوئی پابندی قانون میں موجود نہیں ، اگر مارچ اپریل میں مردم شماری ہوگی تو ممبران اسمبلی کی سیٹوں میں اس حساب سے ترامیم کیسے ہوں گی‘ 2018ءکا الیکشن سرپر آجائے گا اور الیکشن کے بعد کہا جائے کہ مردم شماری ہوئی نہیں لہذا سسٹم کو جوں کا توں چلنے دےا جائے بعدازاں عدالت مردم شماری کرانے کی حتمی تاریخ اور لائحہ عمل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیئے ملتوی کردی ہے۔
مردم شماری