پولیس کا محو خواب مزدوروں پر تشدد

19 اکتوبر 2016

صابر بخاری
bukhariaims@gmail.com
لاہور پولیس کے تمام تر دعووں کے باوجود تھانہ کلچر کو بدلنے کے دعوے ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے۔ پولیس کے کانسٹیبلان ، محرر‘ تفتیشی، ایس ایچ اوز پولیس سسٹم میں تبدیلی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے درمیان بڑی دیوارہیں۔افسران یا تو کچھ جانتے نہیں اگر جانتے ہیں تو تھانہ کلچر پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔خاص طور پر لاہور میں محنت مزدوری کیلئے مقیم مزدور طبقہ اور سادہ لوح افراد پولیس کا نشانہ ہیں۔پولیس با اثر افراد کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خانہ پری کیلئے ان مزدوروں کو مختلف جرائم میں پھنسا کر کریڈٹ لیتی نظر آتی ہے۔ اس واقعہ سے پولیس کے تھانہ کلچر اور جیلوں میں روا رکھے جانے والے اذیت ناک سلوک کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ چند روز قبل تھانہ مزنگ پولیس نے مزدوروں کے ایک کوآرٹر پر رات کے 12 بجے چھاپہ مار کر 8 مزدوروں کو بے پناہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ان میں سے تین مزدور جاگ رہے تھے جبکہ باقی نیند کی آغوش میںتھے۔ طاقت کے نشے میں بدمست ان پولیس والوں نے سب کو جگا کر بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ کیونکہ یہ ان کیلئے معمول کی بات تھی ان سے پوچھنے والا کون تھا اور نہ ان کے خلاف کوئی شکایت کر سکتا تھا چونکہ پولیس بعد میں ان کا منہ بند کرانے کے تمام گر اچھی طرح جانتی ہے۔یہ مزدور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان آٹھ افراد میں 2 بزرگ بھی تھے جو زمانے کی ستم ظریفیوں کے باوجود محنت مزدوری کرکے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے یہاں رہ رہے تھے ۔ ان میں ایک کمسن بچہ بھی شامل تھا۔ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس نے سب کے سامان کی تلاشی لی۔ پولیس کا موقف تھا کہ یہ لوگ جوا کھیل رہے تھے حالانکہ پولیس نے خود جا کر دیکھا کہ پانچ مزدور سو رہے تھے جبکہ تین مزدور جاگ رہے تھے وہ بھی جوا نہیں کھیل رہے تھے۔ پولیس نے محنت مزدوری سے کمائی ہوئی رقم سے 5900 روپے برآمدگی ڈال کر مقدمہ درج کر دیا اور باقی پیسے جیب میں ڈال دئیے اس پر ستم ظریفی یہ کہ اگلی صبح پولیس جب مزدوروں کو عدالت لے کر جانے لگی تو مزدوروں سے مزید رقم کا تقاضا کرنے لگی کہ اس کے بغیر وہ ملزموں کو عدالت نہیں لے جائے گی۔ ان مزدوروں نے ان سے ملنے آنے والے شخص سے کچھ پیسے ادھار لے کر تفتیشی کو دئیے تو وہ انہیں عدالت لے کر گیا۔اس کے علاوہ جو بھی انہیں ملنے آتا پولیس والے کبھی کھانا اور کبھی کچھ لانے کا کہتے۔ عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل بھیج دیا کہ اگلے روز ضمانت ہو گی۔ جیلوں کی اصلاحات کے تمام دعوے بھی ہوا میں اڑ گئے۔ ان مزدوروں کو جیل کے اندرکٹے درخت کی لکڑیوں کو اٹھانے پر لگا دیا گیا جس سے کئی مزدوروں کے کندھوں پر گہرے زخم آگئے اس کے علاوہ وہاں ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔یہ حشر ایک رات جیل گزارنے پر ہوا نجانے جو قیدی برسوں سے جیل میں قید ہیں ان پر کس قدر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں گے؟ آج بھی تھانے بک رہے ہیں غریب اور مزدور طبقہ پر پولیس ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے اور لاہور پولیس کے کرتا دھرتا صرف دعو¶ں تک محدود ہیں۔ ظلم کی داستان جب سی پی او کے نوٹس میں لائی گئی تو انہوں نے لاہور پولیس کے ایس پی سول لائن کو انکوائری کا حکم دیا۔ انہوں نے ڈی ایس پی کو انکوائری پر مامور کیا۔ پولیس نے تفتیشی افسر اور مزدور ملزموں کو بلایا۔ اس تفتیشی نے مزدوروں کو ڈرا دھمکا کر اور جہاں وہ مزدوری کر رہے تھے ان کے مالکان سے فون کرا کر ان سے لئے گئے پیسے واپس کر دئیے اور ان سے صلح نامہ لکھوا لیا۔ ان مزدوروں کو تو سی پی او کے حکم پر کچھ انصاف مل گیا اس کا پیسے واپس کرنا اس بات کی گواہی ہے کہ وہ کیساافسر ہے ایسے پولیس افسران کو نوکری کی موجودگی تک پولیس سسٹم میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔