ڈگڈگی بجانے والا پگڑیاں اچھال رہے ہیں گھبرانے والے نہیں نوازشریف

19 اکتوبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ 2013 اور آج کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق ہے، 2013 میں حکومت سنبھالی تو کئی چیلنجز ملک کو درپیش تھے، دہشتگردی عروج پر تھی، لوڈشیڈنگ 16گھنٹے تک تھی اور معیشت کا پہیہ جام ہوکر رہ گیا تھا، ہم نے تین برس نیک نیتی سے کام کیا اور ترقی کی منازل حاصل کیں، قوم کے پیسہ کو امانت سمجھ کر خرچ کیا۔ انہوں نے کہا ہر دور میں کوئی نہ کوئی ڈگڈگی بجانے والا سامنے آجاتا ہے، ہم ان ڈگڈگی والوں سے گھبرانے والے نہیں، یہ لوگ آج بھی اپنا سارا وقت کنٹینر اور ناچ گانے میں گزارتے ہیں، ڈگڈگی بجانے والوں کو خیبر پی کے کی عوام ڈھونڈ رہی ہے، نیا پاکستان بنانے والا کہاں گیا، اسلام آباد بند کرنے والے سڑکیں ناپتے اور ہم سڑکیں بناتے جائیں گے، ہم لوگ گالی گلوچ کا جواب گالی سے نہیں دیتے نہ یہ ہمارا شیوہ ہے، وہ گالیاں دیتے رہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں ان کی باتوں کا جواب دینا بھی اپنی توہین سمجھتا ہوں۔ وہ مسلم لیگ ن کی مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ پارٹی انتخابات میں وزیراعظم محمد نوازشریف مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دیتا ہوں، کارکن مجھے گذشتہ 30سال سے منتخب کرتے چلے آرہے ہیں،کارکن پارٹی کا سرمایہ ہیں مجھے جان سے پیارے ہیں، انشاءاللہ کارکنوں کی امیدیں پوری کرنے کیلئے پوری جستجو کروں گا۔ ڈگڈگی بجانے والے آج بھی جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، لوگوں کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں، ڈگڈگی والوں کو ایک صوبے میں موقع ملا، کام کرکے دکھاتے، انہوں نے تو تمام وقت اپنا کنٹینر پر کھڑے ہوکر اور ناچ گانے میں گزار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سب کچھ برداشت کیا، صبر اور خاموشی اختیار کی، فضول اور تلخ باتوں کا کبھی جواب نہیں دیا، مسلم لیگ ن نے صرف اور صرف کام پر توجہ دی، دنیا کہہ رہی کہ پاکستان بدل رہا ہے، آج پاکستان دنیا میں تیزی سے ترقی کرنیوالے ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں آج مہنگائی کم ہوگئی ہے، پاکستان ان 5ممالک میں شامل ہے جن کی سٹاک مارکیٹ عروج پر ہے، 2013کے مقابلے میں سبزیوں کی قیمتیں بھی نیچے آچکی ہیں، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی، 2018ءتک بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے۔وزیراعظم منتخب ہوا تو بجلی کی کمی کی تھی، حکومت سنبھالی تو بجلی کا ایک کارخانہ لگانے کیلئے بھی پیسے نہیں تھے، بجلی کے کارخانے لگنے پر دوست ملک چین کے شکرگزار ہیں، 2018تک 10ہزار میگاواٹ اضافی بجلی قومی نظام میں شامل ہو جائے گی اور آئندہ چند برس میںکئی ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہو گی، عمران کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ وہ جس انداز میں کام کر رہے ہیں وہ 2018ءمیں کے پی کے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور وہاں بھی ہماری حکومت قائم ہو گی، ہم نے بجلی سستی کی ہے مزید سستی بجلی فراہم کرنا چاہتے ہیں، بجلی 18روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 10روپے پر آچکی ہے اور توقع ہے کہ بجلی کی قیمت آئندہ برسوں میں 7روپے یونٹ آجائے گی، شفافیت اور ایمانداری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے، توقع ہے کہ 2018تک وعدہ پوراکرنے میں کامیاب ہوجاﺅں گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ سندھ بھر میں تھر کے کوئلے سے 4ہزار میگاواٹ کے منصوبے لگ رہے ہیں، تھر کے کوئلے کو گذشتہ 70سال میں کسی نے استعمال میں نہیں لایا، ہم لاہور سے کراچی تک موٹروے بنارہے ہیں، لاہور،ملتان اور ملتان سے سکھر موٹروے بھی بنائیں گے، حیدرآباد سے سکھر موٹروے پرکام آئندہ تین ماہ میں شروع ہوجائیگا، تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کے علاقے میں ہم موٹروے بنا رہے ہیں، اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو چین سے ملارہا ہے، بلوچستان میں ایک ہزار کلومیٹر سڑکوں پر کام ہو رہا ہے اور سڑکوں کی تعمیر کا 80فیصد کام رواں سال مکمل ہوجائے گا، 45 جدید ہسپتالوں کا کام شروع کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سے روزانہ ہزاروں افراد مستفید ہوتے ہیں، منفی باتیں کرنے والوں کو غریب عوام کا کوئی درد نہیں، کراچی گرین لائن بس منصوبے پر 18ارب روپے خرچ کر رہے ہیں، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے پر 100ارب روپے خرچ کریں گے۔ ریلوے کا نظام جدید بنانے کیلئے ساڑھے پانچ سو ارب روپے خرچ کر رہے ہیں، پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ایئرلائن بنانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سڑکیں ناپنے والے وہیں کھڑے ہیں اور ہم ترقی کا سفر جاری رکھیں گے، احتجاج کرنے والے اسلام آباد جام کرنے کی باتیں کر رہے ہیں، پروا نہیں کون کنٹینر پر آتا ہے اور کتنی گالیاں دیتا ہے، ترقی، خوشحالی اور عوام خدمت کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی کونسل نے بھارتی افواج کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی مذمت اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے، دہشت گردی کے خاتمے، توانائی کے بحران پر قابو پانے، معیشت اور کراچی میں امن و امان کی بحالی کی حکومتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے حوالے سے قراردادوں کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ وزیراعظم کے مدمقابل امیدوار پرنس سربردار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے۔ پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر چودھری جعفر اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے چھٹے مرکزی کونسل کے اجلاس میں پارٹی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا۔ راجہ محمد ظفرالحق کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بلامقابلہ چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز‘ بلوچستان سے چنگیز مری‘ سندھ سے امداد چانڈیو‘ بلوچستان سے یعقوب ناصر، کے پی کے سے سرانجام خان اور سکندر حیات کو سینئر نائب صدر منتخب کرلیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید سیکرٹری مالیات، سینیٹر مشاہد اللہ خان بلامقابلہ سیکرٹری اطلاعات منتخب قرار پائے۔ جنرل کونسل کے اجلاس میں منظور کردہ ایک قرارداد کے مطابق باقی جماعتی عہدوں جن میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ بھی شامل ہے اس پر وزیراعظم پارٹی صدر کی حیثیت سے نامزدگی کریں گے۔ اجلاس میں پارٹی کے صدر کی حیثیت سے اظہار اعتماد کی قرارداد بھی منظور کر لی۔ وزیراعظم کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ دیکھیں ایک پارٹی ترقی کیلئے کام کر رہی ہے اور دوسری کو شاید اسی بات کا مینڈیٹ ملا ہے کہ کنٹینر پر ناچتے رہو، گالیاں بکتے رہو، ہم نے کبھی الزامات نہیں لگائے۔
نواز شریف
لاہور (فرخ سعید خواجہ) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر نوازشریف، چیئرمین راجہ ظفرالحق سمیت دیگر عہدیداروں کے بلامقابلہ انتخاب کے بعد آج مسلم لیگ (ن) پنجاب کے عہدیداروںکو بھی بلامقابلہ منتخب کرلیا جائیگا۔ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے صوبائی سیکرٹریٹ مسلم ٹاﺅن میں آئندہ تین سال کیلئے امیدواروں کے چناﺅ کیلئے کاغذات نامزدگی وصول کئے گئے، جانچ پڑتال آج صبح 9 بجے ہوگی، 10 بجے تک اعتراضات وصول کئے جائیں گے۔ پولنگ کیلئے ایک بجے دوپہر کا وقت مقرر کیا گیا ہے صوبائی الیکشن اتھارٹی کے پاس صدر کے عہدے کیلئے صرف ایک امیدوار وزیراعلیٰ شہبازشریف کے کاغذات موصول ہوئے ہیں جنہیں صوبائی وزیر ملک ندیم کامران، خواجہ عمران نذیر ایم پی اے اور سمیع اللہ خاں سابق ایم پی اے نے جمع کروایا جبکہ سینئر نائب صدر کے لئے چودھری جعفر اقبال کے کاغذات ذیشان ایم پی اے، میاں طارق، صلاح الدین پپی اور چودھری تنویر نثار گجر نے جمع کرائے۔ چودھری جعفر اقبال کے مقابلے میں بھی کوئی امیدوار نہیں آیا۔ کاغذات نامزدگی درست ہونے پر میاں شہباز شریف ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ پنجاب کے صدر اور چودھری جعفر اقبال سینئر نائب صدر منتخب ہوجائیں گے۔ میاں شہباز شریف اس سے پہلے پارٹی کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ مسم لیگ (ن) پنجاب کے سیکرٹری فنانس بھی رہ چکے ہیں۔ چودھری جعفر اقبال صوبائی وزیر قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور مسلم لیگ ن کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی صوبائی کونسل کا اجلاس آج بدھ کو دوپہر ایک بجے ایکسپو سینٹر میں ہوگا۔
صوبائی الیکشن