صرف اورصرف پاکستان کا مفاد (1)

19 اکتوبر 2016

ویسے تویہ صحابی رسول حضرت سلمان فارسی کا دیس ہے اورپھران کے بعدخیام ،سعدی،حافظ،شیرازی ،فرووسی،طبرسی،طوسی ،شہیدمطہری،ڈاکٹرشریعتی ،امام خمینی اوراب امام خامنہ ای کا دیس،شاہ خراسان حضرت امام علی رضا اوران کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ المعروف معصومہ قم کا دیس ،جہاں ان کی فکری ،نورانی اورروحانی حکومت صدیوں سے قائم ہے ،امریکہ اورمغرب کی آنکھوں میںآنکھیں ڈالے کئی دہائیوں کامسلسل سفراقتصادی پابندیوں اورعالمی قدغنوں کے ساتھ طے کرنے والے ایران کے بارے میںشاید عالمی طاقتوں کایہی خیال تھا کہ اس کی معاشی سانسوں پہ شدت سے دباﺅ کے باعث اس کا دم اتنا گھٹ جائے گا کہ یا تواس کے انقلاب کی موت ہوجائے گی یا عالم نزاع میں ہانپتے کانپتے زندگی کی بھیک مانگنے پاﺅں میں پڑا ہوگا مگرایران کی مدبرقیادت اورخاص طورپرصدرروحانی کے بااعتماد ساتھی ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے مذاکرات کی میزپرکچھ لواورکچھ دوکی پالیسی کی بنیادپرسفارتی جنگ ایسی خوبصورتی اوروقارسے جیتی کہ نسلیںمثالیں دیں گی، عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے اثرات توہم نے ایران کی نوجوان نسل،طلبہ ،طالبات اورعام شہریوں کے ساتھ تبادلہ خیال میں دیکھ بھی لئے،اپنے ملک اورقوم کیلئے کچھ کرنے کی چھلکتی ہوئی خواہشوںسے لبریزیہ لوگ اس معاہدے کومغرب اورامریکہ میں تعلیم اورحصول روزگارکیلئے بھی بہترین ذریعہ سمجھتے ہیںاوراپنی معیشت وقومی ترقی کیلئے بھی،ایران کے تیل کے کاروباراورمنجمد اثاثوں کی بحالی اس کے علاوہ سود مند ہوگی، ہمارے لئے یقینا یہ امرباعث تعجب تھا جب بتایا گیا کہ ایران نے جدیدترین سائنسی،طبی،آئی ٹی ،نینواوردیگرشعبوں پرمحیط ٹیکنالوجی کے حصول پرہی پیش قدمی نہیں کی بلکہ تہران کا امام خمینی ایئرپورٹ ،میٹروبس سروس ،یہ روڈ ،وہ منصوبہ ،یہ بلڈنگ،وہ عمارت ،تہران میں پلوں اورسڑکوں کے جال وغیرہ وغیرہ سب انقلاب کے بعد کی تخلیق ہےں،تہران سے قم کی طرف بچھائی جانے والی تیزترین ٹرین کی پٹڑی پرہوتا ہوا کام توہم نے بہ چشم خود دیکھا،یہ وہی انقلاب ہے جس کے بعد ایران نے کئی دہائیوں کی عالمی پابندیوں اورآٹھ برس کی جنگ برداشت کی جوصرف بظاہرایک ملک کے ساتھ تھی اس جنگ نے قبرستانوں کو شہیدوں اورشاہراہوں کوان شہداسے منسوب ہزاروں ناموں سے بھردیالیکن جذبے میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی ،آگے بڑھنے ،تعمیرنواوراب ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین دوستانہ تعلقات کے استحکام کی تعمیرنوکے جذبے،یہی جذبہ قوموں کی معراج ہوا کرتاہے۔
ایران کے مختلف اخبارات اورخبررساں اداروںکے دفاترمیں مردوں سے زیادہ تعداد میںخواتین دنیا بھرکی متعدد زبانوں میں کام کرتی نظرآئیں ،اسلامی حجاب کہیں بھی خبرکی تلاش ،ایڈیٹنگ اورکمپوزنگ میں مانع نظرنہیں آیا،میڈیاانڈسٹری میں مردوں سے کئی گنازیادہ خواتین کی موجودگی کے سوال پرمعلوم پڑا کہ خواتین صرف میڈیا کے دفاترہی نہیں زندگی کی ہرشعبے میںایئرپورٹ سے لے کرفٹ پاتھوں تک اشیاءضروریہ فروخت کرتی ،دفتری امورسرانجام دیتی اورگھرگرہستی سنبھالتی مردوں کے شانہ بشانہ ہی نہیں کئی قدم آگے بڑھ کرکام کررہی ہیں،ایرانی نیوزایجنسی کے ایک شعبے کے سربراہ نے ازراہ تفنن مگر بجاطورپر کہا کہ جوصنف آپ کے سیاہ کوٹ سے باریک سیاہ لمبا بال تلاش کرسکتی ہے خبرکی تلاش اورآرائش کیلئے اس سے بہترکوئی اورانتخاب ہوہی نہیںسکتا،ایران میں ایران سپید کے نام سے نابیناﺅں کیلئے نکالے جانے والااخبارمتاثرکن تھا، اس اخبارکا ایڈیٹربھی نابیناہے اوراس کے شعبے میں کام کرنے والاسارے کا سارا سٹاف خواتین پرمشتمل ،ان کا کہنا تھا کہ ہم نابیناﺅں کوقومی ،ملکی اورعالمی امورسے بے خبرنہیں رکھ سکتے۔
ایک ملاقات میںڈپٹی منسٹرآف کلچراینڈاسلامک گائیڈنس پریس انفارمیشن حسین انتظامی نے بتایاکہ ایران میں دوسوکے لگ بھگ اخبارات ،سات ہزارمیگزین ،سپورٹس کے پندرہ اخبارات ،اقتصادیات کے بارہ اخبارات اوراسی طرح سیاحت اوردیگرمخصوص موضوعات پربیسیوں علاقائی اخبارات وجرائد باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں،ایران پاکستانی میڈیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات،تعاون اورمعاہدے چاہتا ہے ان کی خواہش تھی کہ ایران پاکستانی میڈیا سے استفادہ کرے اورپاکستانی میڈیا کوایرانی میڈیا کے طریقہ کارسے باخبرہونے کے ساتھ ساتھ خبروںکاتبادلہ ہوناچاہئے ان کی گفتگوکا محورپاک ایران دوستانہ تعلقات کا استحکام اورتعلق کوحکومت سے حکومت ہی نہیںعوام سے عوام تک مزید بڑھانا اورمستحکم کرنا رہا ۔اسی طرح مشہد مقدس میں حرم امام رضاؓکے ڈائریکٹرجنرل محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ مشہد میں زیارت کیلئے کسی ایک نہیں بلکہ تمام مکاتب فکرکے لوگ آتے ہیں ،انہوں نے کہا پاکستان ہمارادوست ہے اورپاکستانیوں کے دشمن کوہم اپنا دشمن سمجھتے ہیںانہوں نے کہا ایران عراق جنگ میں پاکستانیوں کی اخلاقی مدد اورمحبت کوکبھی فراموش نہیں کرسکتے،یہ پاکستان میں بھی سفارتی ذمہ داریاں اداکرتے رہے ہیںان کا کہناتھا کہ پاکستان میں ان کا قیام زندگی کا خوبصورت دورتھا، زیارت پریقین رکھنے والوں کیلئے زیارت یقینا عبادت کا درجہ رکھتی ہے لیکن یہ انسانیت کومتحد کرنے کا عمل ہے یہاں پور ی دنیا سے لوگ آتے ہیں اوران کوسہولیات فراہم کی جاتی ہیں لیکن پاکستانی زائرین کی رہنمائی کیلئے اردو بولنے والے ڈیسک اوررہنمااوردیگرسہولیات موجودہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھرسے ہرسال پچیس سے ستائیس ملین لوگ زیارت کیلئے آتے ہیں جن میں دولاکھ کے لگ صرف پاکستانی زائرین ہوتے ہیں انہوں نے کہاپاکستانی زائرین کی سیکورٹی کیلئے پاکستانی حکومت کے شکرگذارہیں،پتہ چلا حرم یونیورسٹیاں ،ہسپتال اورڈسپنسریاں بھی چلارہاہے۔مشہد کے ڈپٹی میئرنے بتایا کہ مشہد شہرکوپہلی باردوہزارپانچ میں کلچرل کیپیٹل آف مسلم ورلڈ قراردیا گیا ہے اب اسے دوبارہ یہ اعزازدوہزارسترہ عیسوی میں مل رہاہے اس سلسلے میں پاکستان سمیت دنیا کے آٹھ ممالک میںتقریبات منعقدکی جائیں گی انہوں نے بتایا دوہزاراکیس میں اسلام آباد کویہ اعزازحاصل ہوگا۔نیشنل سیکورٹی کونسل کے ترجمان کیہان خسروی اورایرانی وزارت خارجہ کی میڈیاڈپلومیسی ڈیپارٹمنٹ ،ایشیا پیسفک کے سربراہ مہدی اخوچکیان نے الگ الگ ملاقاتوں میں کہا کہ ایران کی پہلی ترجیح ہمسایہ ممالک سے خوشگواراوردوستانہ تعلق ہے انہوں نے کہا چاہ بہاراورگوادرکی بندرگاہوں سے خطے میں اقتصادی ترقی اورخوشحالی ہوگی ان کی بنیاد پرنفرتوں کا کاروبارکرنے والوں کواصل حقائق کا علم نہیں، انہوں نے کہا یہ سسٹرپورٹس ہیںدشمن پورٹس نہیں،پاکستان کے ساتھ گہرے ووستانہ تعلقات اولین ترجیح ہیں او ران تعلقات میںخنہ یا دراڑ ڈالنے کی کوشش کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے،انہوں نے اس بات پرافسوس کا اظہارکیا کہ افغانستان،عراق ،شام ،یمن ،بحرین جیسے مسلم ممالک میں حالات خراب کرنے کے بعداسرائیل بے پرواہ ہوکرفلسطینیوںپرظلم ڈھارہاہے جبکہ اس سے پہلے وہ خوف کا شکارتھامسلم دنیاکے باہمی تنازعات کاسب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کوہے، انہوں نے کہا مسلم دنیا کے مسائل کا واحد حل اتحاد اوراسرائیل کی سازشوں سے باخبررہناہے۔ایران کیلئے پاکستان کس قدراہمیت کا حامل ہے اس با ت کا ادراک اس امرسے ہوا کہ پاکستان کیلئے تعینا ت کئے جانے والے سفیرمہدی ہنردوست کومعمول کے پروٹوکول، صرف صدریانائب صدرسے ملاقات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈرنے خود ملاقات کا موقعہ دیا اورتاکید کی کہ پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات کی حفاظت کرنا اورواقعی ایرانی سفیرجن کیلئے اپنے رہبرکے حکم کی اطاعت سرکاری مجبوری بھی ہے اورروحانی اطاعت بھی پاکستانی اورایرانی میڈیا ،تاجروں اورزندگی کے دیگرشعبوں کوآپس میں جوڑنے کی ذمہ داری بحسن وخوبی نبھارہے ہیں۔دورہ ایران سے پہلے خیال تھا کہ ایرانی شاید کسی ایک فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتے ہیںلیکن ان سے مل کے احساس ہوا کہ ان سب کا مذہب اورفرقہ ایک ہی ہے اوروہ ہے صرف اورصرف ایران،کاش ہم بھی صرف اورصرف پاکستان اوراس سے محبت اوراس کے مفاد کومذہب اورفرقہ قرارد ے سکیں۔