2 نومبر کو کیا ہوگا؟

19 اکتوبر 2016

اگر ماضی کے دھرنوں سے ہونے والے نقصان پر ان کے خلاف قانونی کاروائی ہوئی ہوتی ۔انہیںجرمانیں اور سزائیں دی جاتیں تو دوبارہ کوئی جماعت اسلام آباد کا رخ نہ کرتیِ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ حق تو ہے کہ وہ جلوس نکالے ،جلسے کرے ، لیکن کسی ملک کے دارالخلافے کو بند کرنے کی اجازت نہ تو اس ملک کا آئین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی قانون.... یہ اعلان کرنا کہ ہم دو نومبر کو اسلام آباد کو بند کر دیں گے ۔ یہ بیان کھلی دہشت گردی ذمرے میں آتا ہے اس بیان کے بعد قانون کو حرکت میں آ جانا چائیے ۔ماضی میں اگر قانون حرکت میں آتا تو انہیں اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔ ماضی میں دھرنے والوں نے پاکستان ٹی وی اسٹیشن میں نہ صرف توڑ پھوڑ کی تھی بلکہ کہا جاتا ہے کہ قومی نشریات کو روک دیا گیا تھا ،دھرنوں میں سپریم کورٹ جانے والے راستے بند رکھے ۔ ججز وکلا چور دروازے سے جاتے آتے رہے ۔ اگر ججز اس پر ایکشن لیتے تو قانون کا مزاخ نہ ہوتا ۔ماضی کے دھرنوں میں قانون سویا رہا جب دہشت گردوں نے پشاور میں خون کی ہولی کھیلی تو ان کا ڈارمہ اپنے اختتام کو پہنچا ۔ماضی کے دھرنوں میں آئین اور قانون کا مذاق اڑایا گیا ۔اس وقت اگر قانون حرکت میں آتا تو آج یہ دونوں کزن اور ان کے ساتھی جیلوں میں ہوتے لیکن اس دوران اور آج تک قانون سویا ہوا ہے لہذا ایک بار پھر یہ قانون کا مذاق اڑانے کا ارادہ کر تے دکھائی دیتے ہیں ۔ آئین اور قانون ان کو جلسوں کی احتجاج کی اجازت تو دیتا ہے لیکن قانون اور آئین دوسروں کی آزادی کو سلپ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔غیر آئنی طریقے سے حکومت کا خاتمہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ماضی میں ہمیشہ سیاسی جلسوں میں سیاسی تقریریں کی جاتی تھیں اور یہ جلسے دن کو ہوتے تھے مگر اب ایسا نہیں رہا ۔یہ سیاسی جماعت جلسے رات میں کرتی ہے ۔ عوام کو جلسے میں لانے کےلئے مراثیوں کی خدمات حا صل کرتی ہے ۔ جب تک یہ ایسا نہیں کرتے تھے لوگ ان کے جلسے میں نہیں جاتے تھے ۔ کچھ مراثی اپنے آپ کو فنکار کہلا کر زیادہ پیسے وصول کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اکثر فلم سٹوڈیو ،اسٹیج شو اور ثقافتی پروگراموں میں دکھائی دیتے تھے لیکن اب یہ سیاسی جلسوں میں پر فارم کرتے دکھائی دیتے ہیں لہذا ایسے عوام جن کو یہ گانے بجانے والے پسند ہیں وہ ان کو سننے اور دیکھنے کےلئے لوگ دور دور سے آتے ہیں ۔فنکارخود ڈانس کرتے ہیں اور وہاں پر موجود لیڈر ان اور ہجوم بھی ڈانس کر نے لگتا ہے ۔ ماضی میں فلم کے پوسٹر شہر بھر میں لگائے جاتے تھے تاکہ لوگ فلم کو زیادہ سے زیادہ دیکھنے آئیں ۔ اب یہی طریقہ اپنے جلسے میں ان فنکاروں کے پوسٹر اور نام لکھ کر آویزاں کر تے ہیں ۔ ان گلوگاروں کی لائف پرفارمس دیکھنے کےلئے لوگ کھچے چلے آتے ہیں ۔حکومت اگر اسی دن انہی فنکاروں کا شو مینار پاکستان کرا دیتی تو عوام وہاں کھچے چلے آتے ۔ اب بھی اگر اسی فارمولے پر حکو مت عمل کرے تو ان کے جلسوں سے ہوا نکا لی جا سکتی ہے ۔ ماضی میں سیاست دان جلسوں میں ایشو پر بات کرتے تھے مگر اب یہ جماعت سیاسی باتیں کم جوگت بازی ،گالم کلوچ زیادہ کرتی ہے ۔ راوپنڈی کی تانگہ پارٹی کے لیڈر جو نا کام نجومی ہیں۔ آگ جلاﺅ مارو مر جاﺅ کی باتیں کرتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس ماضی میں رہنے کو نہ گھر تھا مگر اب یہ حویلی کا مالک بن کر اپنے آپ کو رئیس خان شو کرتا ہے ۔ اگر ریشم کے کیڑے پالنے والا حویلی اور جائدادیں بنا سکتا ہے تو پھر کارخانے کامالک کیوں نہیں ؟برطانیہ میں فلیٹ خرید سکتا ۔ کاش یہ شور مچانے سے قبل اپنے ما ضی میں جھانک لیا کرے انہیں کوئی احساس نہیں کہ ملک حالت جنگ میں ہے ۔ فوجی جواں شہید ہو رہے ہیں اور یہ جلسے کے نام پر ڈھول کی تاپ کر ڈانس کر تے رہے اور تالیاں بجا تے رہے ۔ کبھی الیکشنوں میں دھاندلی کا شور اور کبھی کرپشن کی بانسری بجانے لگتے ہیں ۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر آپ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے مخلص اور سچے ہیں تو پہلے اپنی جماعت سے کرپٹ لوگوں کا خاتمہ کرں ۔آپ نواز شریف مخالفت کی آگ میں جل رہے ہیں کہ یہ ملک کا وزیراعظم کیوں ہے اور میں کیو ں نہیں ۔ ایک فرد کے خلاف جنگ کر نے کے بجائے آپ کرپٹ نظام کے خلاف اعلان جنگ کریں ۔ اس کےلئے قانون سازی میں اپنا کردار ادا کریں ۔کیا نواز شریف کو گھر بھیجنے کے بعد کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ بھائی ایسا نہیں ہو گا ۔کرپشن ہر ادارے میں ہے ۔لہذا ہم سب کو اس کے خلاف لڑنا ہو گا ۔ اس ملک کی جیسے کرپشن مہلک بیماری ہے اسی طرح غربت اور ا قانون سازی ،صحت جیسی بیماریوں کا خاتمہ بھی بہت ضروری ہے ۔ آپ الیکشن میں کیوں حصہ لیتے ہیں تاکہ عوام آپ کو ووٹ دیں اور اسمبلی کے ممبر بنیں اور اسمبلی میں بیٹھ کر قانون سازی میں حصہ لیں ۔ جو نظام میں خرابیاں ہیں ان کے خلاف اسمبلی میں آواز اٹھائیں ۔ جھنوں نے آپ کو ووٹ دیا اور اسمبلی میں بھیجا ۔آپ ان کو سڑکوں پر لا رہے ہیں ۔ مان لیتے ہیں اسلام آباد کے بند ہو جانے سے حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ پھر کیا اس ملک کے ادارے بھی ٹھیک ہو جائیں گے ۔ کیا آپ خود ہی ڈنڈے کے زور پر وزیراعظم بن کر حکومت چلانا شروع کر دیں گے ۔ یہ خواب تو ہو سکتا ہے مگر ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ بغیر الیکشن کے آپ اقتدار میں نہیں آسکتے ہاں غیر جمہوری حکومت آ سکتی ہے ۔ جیسے ماضی میں بھی آتی رہی ہیں ۔ اگر ان کے آ جانے سے ادارے ٹھیک ہو سکتے تو عوام ماضی کے آمروں کو گھر نہ بیجتے ۔ پاکستان میں یہ سچ ہے کہ سیاسی لیڈروں کی کمی ہے مگر سیاسی فنکاروں کی کمی نہیں ہے۔ہم اس سے بہت خود کفیل ہیں۔