سرحدیں محفوظ مگر

19 اکتوبر 2016

جب سے پا نامہ لیکس ہو ئی ہیں پاکستان میں عجیب و غریب واقعات رونما ہو رہے ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ایک با اختیار کمشن بنا دیتی جس کے اکائو نٹ ہیں وہ وہاں جا کر اپنی دولت کا حساب دے دیتے اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر ڈر کس با ت کا اگر چھپایا ہے تو اس کی justification دے دیں وہ حکمران ہیں ،سیاستدان یا کاروباری حضرات ہیںکیونکہ اگروہ یہ ثابت نہ کر سکے توشاہ ایران کی طرح ان کی تمام دولت مغربی ممالک ہڑپ کر لیں گے کہ یہ دولت کرپشن سے حاصل کی ہے اگر مانگیں گے توآپ کو جیل بھی جانا پڑے گااب کوئی دولت مند کیوں جیل جائے گاہاںالبتہ وہ دولت بھی نہیں چھوڑنا چاہتااگر کوئی حکمران ہو تووہ تُر ک کے پتے کھیلنے کی کوشش کرے گا دولت کو محفوظ کرنے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے وطن سے اگر پیار ہوتا تو کرپشن سے مال کیوں کماتااب وطن کو بیچ کر دولت محفوظ کرنے کی آخری کوشش کرے گا۔
پاکستان مخالف ممالک بھی اب یہ سمجھ بیٹھے ہیںکہ اب یہ آخری موقع ہے ۔ پاکستان کو کمزور کر کے اپنا کام نکالنے کا ۔معاشی طورپر وہ ہم کو پے در پے جھٹکے دے رہے ہیں سیاسی اعتبار سے گو مگو کی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے دہشت گرد ی کے ذریعے سے عوام کو خو ف زدہ کرنے کا کام فوج نے ناکام کر دیا ہے۔ الطاف کی تمام تر سازشوں کے باوجود مہاجر پاکستان کے خلاف نہیں جا سکا الطا ف کی محبت میں وہ پاکستان سے با غی نہ ہو سکا ۔ اچکزئی کی تمام تر ہرزہ سرائی کے با وجود وہ پاکستان کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اُٹھا سکتا۔با قی رہا اسپندیارفضل الرحمان وہ صر ف اپنے ڈالر کھر ے کررہے ہیں ان کی حیثیت اخباری بیانات سے زیادہ نہیں قوم نے اسلام برائے دہشت گرد ی کو بری طرح مسترد کر دیاہے۔
اُڑی واقع کی آڑ میں مودی نے جو جال بچھایا تھا وہ خو د اس میں پھنس چکا ہے وہ کبھی بھی پاکستان پر حملہ کرنے کی حما قت نہیں کر سکتاہندو صرف کمزور دشمن پر حملہ آور ہوتا ہے ۔وہ کبھی بھی اپنی کھر بوں ڈالر کی معشیت کو مودی کی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے گا اب دوبارہ رُخ سازشوں پر ہو گیاہے ۔پاکستان کے سیاستدان البتہ اپنی دولت کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانا چاہتے ہیں پاکستان رہے نہ رہے ان کو ا س سے کوئی غرض نہیں سب منصوبے نا کام ہونے کے بعد دوبارہ اسی قوت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس نے ان تمام سازششوں کو نا کام بنایا ہے ۔حافظ سعید یا مسعود اظہر نے پاکستان میں ایک بھی بندے کو قتل نہیںکیا اور نہ ہی بیرون ملک ان کے اوپر کو ئی کیس ہے ۔اور نہ اندرون ملک کوئی ان پر مقدمہ ہے ۔الطاف حسین جس نے ہزاروں کو قتل کیا مروایاتشدد پسند تکریریں کرتاہے ا س کے ساتھی کہہ رہے ہیں یہ را کاایجنٹ ہے اس کے اوپر پاکستان میں قتل کے سینکڑوں مقدمات درج ہیں ہمارے سیکرٹری خارجہ عزیز بلکہ امریکہ عزیزدنیا کو یہ باور نہیں کرا سکے کہ اس دہشت گرد کو بر طانیہ نے کیوں پناہ دی ہوئی ہے کلبوشن کی گرفتاری اور سرگرمیوں پر زبان نہ کھول پائے مودی جو بار بار کہہ رہا ہے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا اس کے متعلق لب کشائی نہیں کر رہے ہماری حکومت کھل کے کیوں نہیں کہہ رہی کہ جب کشمیری عورتوں، بچوں ،بزرگوں اور نوجوانوں کو اندھا کر دیا جائے گا شہید کر دیا جائے گا تو ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں اگر مودی دیدہ دلیری سے بد معاشی پر اُترا ہوا ہے تو ہم کیوں بھیگی بلی بن گئے ہیں۔ شو سینا اور مکتی بائنی کس کی تنظیمیںہیں جب تک کشمیر پر ظلم جاری رہے گا اس وقت تک ایک نہیں کئی حافظ سعیدیا مسعود اظہرپیدا ہوتے رہیں گے ۔ کشمیریوں نے اگر اپنے خون سے مسئلہ کشمیر کو اُجا گر کیا ہے یا تو ہمیں اس پر فیصلہ کن مو قف اختیار کرنا ہے جنگ ہوتی ہے ہو جائے ہندو کو اگر ڈر نہیں تو کلمہ گو کو کیا خوف ۔ دراصل یہ وہ خدمات ہیں جن کی بنیاد پر دولت کو بچانے کی آخری کوشش ہو رہی ہے ۔امریکہ خواب کو باور کرانا مقصود ہے فوج یہ نہیں کر رہی گویا حافظ سعید مسعود اظہرکی تنظیموں کو جو کشمیرکے مظلوموں کی داد رسی کر رہی ہے اور مودی کو پرشان کر رہی ہیں ان کو ہم تو ختم کرنا چاہتے ہیں فوج اس میں رکاوٹ ہے ۔ حالیہ بھارت میں منعقدہ برکس کانفرنس میں مودی نے مکمل کوشش کی کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر کے خلاف کرارداد پاس کرائی جائے لیکن چین نے اس کوشش کو نا کام بنا دی اب یہ ثابت ہو گیا کہ سرل کی خبر کے تانے بانے مودی سے ہی ملتے ہیں فوج کو چاہیے کہ ان کو فری ہینڈ دیے دیں تا کہ ان کی تسلی ہو جائے ۔
پوری بیس کروڑ عوام کشمیری جدوجہد میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہے حا فظ سعید یا مسعود اظہر کشمیریوں کے دل کے دھڑ کن ہیں ۔ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو پولیس ان کے خلاف کروائی کرے مقدمہ درج کرے عدالتیں انصاف د یں گی۔ لیکن اگر صرف مودی کو خوش کرنا ہے تو پھر فو الفور وزیر خارجہ ،مشیران خارجہ اور سیکر ٹری خارجہ کو استعفا دے دینا چاہیے ۔ وہ بھارت میں جاکر یہ عہدے حا صل کر لیں پاکستان میں یہ ممکن نہیں کہ اب سا زشیں بے نقا ب ہو چکیں ۔ چہروں سے پردے ہٹا نے کا وقت آ ن پہنچا۔