مسئلہ فلسطین اور امت مسلمہ
رمضان المبارک کا آخری جمعہ دنیا بھرکے مسلمانوں کی طرف سے مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت کیلئے رکھا گیا ہے۔ ارض فلسطین کے مظلوم مسلمان گزشتہ ایک صدی سے جبر و تسلط کی چکیوں میں پس رہے ہیں ۔ عالمی طاقتوں نے نہایت چالاکی اور سفاکی سے فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کا بندوبست کر کے ارض مقدس کے باسیوں سے انکی اپنی ہی زمین چھین لی ہے۔فلسطین کے مسئلہ پر 1948ء اور 1967ء میں دو بڑی جنگیں ہو چکی ہیں ۔لیکن امریکا اور مغربی طاقتوں نے تمام اصول و قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسرائیل کے قیام اور وسعت کیلئے بھر پور ساتھ دیا ہے۔گزشتہ چھ دہائیوں سے جب بھی اسرائیلی حکومت داخلی مسائل سے دوچار ہوتی ہے تو وہ اپنے مسائل غزہ یا جنوبی لبنان میں منتقل کرنے کی کو شش کرتی ہے۔ اسے عرب ممالک کی بد قسمتی کہیے کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد عرب ممالک کے حصے بخرے کیے گئے اور ودسری جنگ عظیم کے بعد فلسطین میں یہودی آبادی کاری کی راہیں ہموار ہوگئیں۔
فلسطینیوں کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ تقریباڈیڑھ ملین کے قریب فلسطینی اسرائیل میں رہ رہے ہیں اور وہ اپنے ساتھ برتے جانیوالے امتیازی سلوک اور ناروا رویوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں ۔ اگرچہ وہ اسرائیلی شہریت کے حامل ہیں تاہم انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ دوسرے وہ فلسطینی ہیں جو غزہ اور مغربی کنارہ بشمول یروشلم میں آباد ہیں اور اسرائیلی قبضہ کا سامنا کر رہے ہیں۔ تیسرا گروہ ان فلسطینیوں پر مشتمل ہے جو دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی واپسی کیلئے جد و جہد کر رہے ہیں تاکہ اپنے علاقے میں آباد ہو سکیں ۔جب تک فلسطینیوں کو انکے حقوق نہیں مل جاتے اور آزاد فلسطین کا قیام عمل میں نہیں آجاتا ، آزادی کی یہ جد جہد جا ری رہے گی۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اسرائیل صیہونیت کی نمائندگی کرتا ہے جو در حقیقت مغربی نظریہ اور مغربی سیاسی ایجنڈاہے۔یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب یورپ میں یہودیوں کا ہولوکاسٹ کیا گیا تو اس وقت یہودی نہ صرف فلسطین بلکہ دیگر عرب ممالک میں بھی رہ رہے تھے اور انکے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کیا جاتا تھا ۔ چنانچہ اصل مسئلہ فلسطین پر اسرائیل کا غیر قانونی قبضہ ہے۔ اس کی کھلی جارحیت کیخلاف جدوجہد کرنا یقینا فلسطینیوں کا بنیادی حق ہے۔ جغرافیائی طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں کوئی رابطہ نہیں ہے۔
1967 ء سے قبل غزہ کی پٹی مصر کے زیر انتظام تھی اور مغربی کنارہ اردن کے زیر انصرام تھا مگر ان دونوں کے بیچ کوئی جغرافیائی رابطہ نہیں تھا۔اسی لیے آج غزہ میں لاکھوں لوگ دنیا سے الگ تھلگ اور کٹے ہوئے ہیں۔ وہ اسرائیلی محاصرے میں ہیں اور ان سے قیدیوں جیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ موجودہ صورتحال انتہائی کرب ناک ہے ۔ اسرائیل کی نہایت مضبوط اور جدید ہتھیاروں سے لیس فوج معصوم فلسطینی شہریوں ، بچوں اور خواتین پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ اس تنازعے کا اصل شکار کون رہا، مگر بد قسمتی سے جب اسرائیل اور فلسطین کی بات آتی ہے تو عالمی برادری دوہرے معیارات اختیار کرتی ہے۔ایک نرالی منطق یہ پیش کی جاتی ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف ایف سولہ طیارے عمارتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب ہاتھ سے بنے ہوئے راکٹ اسرائیل کی جانب پھینکے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے نہ کوئی اسرائیلی ہلاک ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی زخمی۔ فیا للعجب!اس وقت جو کچھ ارض مقدس پر ہورہا ہے وہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ر یاستی دہشت گردی کا بد ترین اظہار ہے جس کا شکار معصوم شہری بن رہے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس ساری صورتحال میں اصل مسئلہ حماس، الفتح یا اور کوئی فلسطینی پارٹی نہیں ہے بلکہ وہ معصوم شہری ہیں جن کا خون ارزاں ہے۔
اگر مغربی میڈیا کی بات کی جائے تو وہ فلسطینیوں کے درد کو بیان نہیں کر رہا کیونکہ اسرائیل کی یہودی لابی تمام بڑے میڈیا ہاؤسز پر مکمل طو ر پر قابض ہے۔ اسرائیل اور یہودی تمام دنیا میں ڈبل ایم یعنی (Media and Money) کو کنٹرول کرنے میں بہت آگے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے آپ کو مظلوم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسی لئے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو ترجیح دی جاتی ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ او آئی سی کے ستاون اسلامی ممالک کے کنٹرول میں کون سا میڈیا ہے جوکہ مغرب پر اثر انداز ہو نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں تک انسانی حقوق کے اداروں کی بات ہے تو وہ دوہرے معیارات کے حامل ہیں۔ انسانی حقوق کے تمام ادارے فلسطین میں حقائق دیکھ رہے ہیں اور وہ اسرائیلی جارحیت کے چشم دید گواہ ہیں چاہے وہ چیک پوسٹوں پر ہونے والا تشدد ہو، وہ قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہو، عورتوں ، بچوں اور طلباء پر ڈھائے جانے والے مظالم ہوں ، غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیل کی جانب سے کی جانیوالی سنگین خلاف ورزیاں ہوں، اس سب کے با وجود مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو ابھی تک جتنی بھی قراردادیں فلسطین کیلئے منظور کی گئی ہیں وہ سب کی سب قراردادیں کسی الماری کی زینت ہیں ۔ مسئلہ فلسطین کا واحد حل مسلم دنیا کی قیادت کے پاس ہے جس کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ جب تک پوری مسلم قیادت اپنے دل و جذبات کے ساتھ عملی طور پر فلسطین کی مدد نہیں کرتی، مسئلہ فلسطین کے یقینی حل کی طرف کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی ۔
