توہین عدالت کیس: عمران خان ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن میں جواب جمع کروانے میں ناکام

19 جون 2017 (13:47)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک مرتبہ پھر توہین عدالت کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جواب جمع کروانے میں ناکام رہے. جبکہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کے خلاف دائر درخواست متفقہ طور پر نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ زمین پر قبضہ کا معاملہ سول عدالت کے دائرئہ اختیار میں آتا ہے۔ اس لئے درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کرے جبکہ (ن) لیگ کے رہنما دانیال عزیز نے پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جواب جمع کروا دیا ہے۔ دانیال عزیز نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست کے ساتھ لگائے گئے اخباری تراشوں سے توہین عدالت ثابت نہیں ہوتی، وہ الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں۔ دانیال عزیز نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کی جائے۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ دانیال عزیز کا جواب تصدیق شدہ نہیں۔ اس لئے تصدیق شدہ جواب دوبارہ داخل کروایا جائے۔ الیکشن کمیشن نے دانیال عزیز کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پرسماعت 17 جولائی تک ملتوی کر دی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا خان کی سربراہی میںالیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے عمران خان، خورشید شاہ اور دانیال عزیز کے خلاف کیسوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کمیشن کو آگاہ کیا کہ توہین عدالت کیس میں عمران خان کی جانب سے جواب تیار کر لیا گیا ہے۔ تاہم عمران خان کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے جواب جمع نہیں کروایا جا سکتا۔ عمران خان کے وکیل شاہد کوندل کا کہنا تھا کہ عمران خان شہر میں موجود نہیں۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ گذشتہ سماعت پر بھی عمران خان کے وکیل نے جواب جمع کروانے کے لئے مہلت مانگی تھی۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے وکیل کی درخواست پر توہین عدالت کیس کی مزید سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کے وکیل کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر توہین عدالت کیس میں جواب جمع کروائیں جبکہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے خلاف سکھر کے رہائشی عبد الغفار نامی شہری کی جانب سے زمین پر قبضہ کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کی، درخواست میں کہا گیا تھا کہ خورشید شاہ کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر ان پر دباﺅ ڈال رہے ہیں اور سوسائٹی کے لیے ان کی زمین ہتھیانہ چاہتے ہیں جس پر عدالت نے متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کیے تھے اور پیر کے روز جب درخواست پر باقاعدہ سماعت ہوئی تو الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ زمین پر قبضہ کے حوالے سے درخواست الیکشن کمیشن میں نہیں بلکہ متعلقہ فورم پر دائر کی جائے چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ درخواست مسترد کی جا رہی ہے الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر خورشید شاہ کے خلاف درخواست مسترد کی ۔چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سول عدالت کا ہے الیکشن کمیشن متعلقہ فورم نہیں سول عدالت میں ان کے خلاف درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔