خواتین کو بااختیار اورحالت بہتر بنانے کےلئے 2.7 ارب مختص کرنے کی تجویز

19 جون 2017

اسلام آباد (اے پی پی) حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کےلئے پانچ سالہ منصوبہ 2013-18 ءمیں 2.7 ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ سماجی تناظر میں تعلیم، روزگار اور معلومات تک رسائی ایسے اعشاریے ہیں جو خواتین کی مجموعی حالت زار کی عکاسی کرتے ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کا تصور ، گھریلو امور میں خواتین کی فیصلہ سازی، حرکیت ، اراضی کی ملکیت اور معاشرے میں اپنی مرضی کے مقام کےلئے کردار کی آزادی سے ماخوذ ہے۔ ملکی لیبر میں خواتین کی حصہ 22.7 فیصد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پیداواری عمل میں ان کا حصہ مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیبر فورس میں صنفی عدم مساوات کے نتیجے میں خواتین کی اقتصادی خودمختاری کے تصور کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔ دیہی معاشروں میں زراعت اور شہری علاقوں میں صنعتی لیبر فورس میں موجود خواتین کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں جس کی بنیادی وجہ تعلیم اور ہنر میں کمی کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق سے لاعلمی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آدھے سے زیادہ خواتین مردوں کے مقابلے میں60 فیصد کم آمدنی حاصل کرتی ہیں۔ خواتین لیبر فورس کی اکثریت غیر روایتی شعبوں میں کام کررہی ہیں اور انہیں بدستور قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے خواتین لیبر فورس کی استعداد کار میں بہتری کےلئے کئی نوعیت کے اقدامات کئے ہیں۔ خواتین کو تربیت کی فراہمی کےلئے کئی ادارے کام کررہے ہیں جبکہ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کےلئے پانچ سالہ منصوبہ 2013-18 ءمیں 2.7 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔