عالمی میڈیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے: صدر مسعود

19 جون 2017

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر سیاسی انتشار اور افراتفری کے باعث مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج من مانی کرتی ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیات سے درخواست ہے کہ وہ عظیم تر قومی مفاد میں مضبوط اور مستحکم پاکستان کے لیے ملکر کام کریں۔ معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم پاکستان تحریک آزادی کشمیر کا ضامن ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم اور مسئلہ کشمیر کو کشمیری خود کسی بین الاقوامی فورم پر نہیں اٹھا سکتے یہ اختیار صرف پاکستان کے پاس ہے۔ جو ان عالمی اداروں کا رکن اور ان تک مکمل رسائی رکھتا ہے۔ پاکستان کی تمام حکومتوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے کام کیا۔ تمام تر مشکلات اور دباﺅ کے باوجود پاکستان مسئلہ کشمیر پر اپنے دیرینہ اور اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان کو تین جنگیں لڑنا پڑی ۔ اپنا ایک بازو کھو دیا۔ اس لیے کوئی کشمیر ی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی مرحلے پر پسپائی اختیار کی یا لا پرواہی کا مظاہرہ کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی طرف سے اسلام آباد میں آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے ارکان ایڈیٹرز صاحبان او رصحافیوں کے اعزاز میں دئیے گئے افطار ڈنر کے شرکاءسے خطاب اور بعد ازاں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قابض فوجیوں نے روزہ دار نوجوانوں کے قتل عام کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ سحری و افطاری کے اوقات میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کر کے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت کی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کشمیر ی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے سے باز رہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ حق خودارادیت کی جنگ میں فتح کشمیریوں کی ہو گی ۔ تحریک آزادی میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ عالمی میڈیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کشمیر کاز کو اجاگر کرنے پر پاکستان کے میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان آزادی کشمیر کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل اور کشمیر کی پاکستان کے بغیر بیرونی دنیا میں کوئی شناخت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سردار محمد مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بھائی بری طرح پس رہے ہیں۔ قابض فوج نے رمضان میں ظلم و ستم بڑھا دیا ہے۔ اب تک شہید ہونے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ جو اپنے تازہ لہو سے تحریک کی آبیاری کر رہے ہیں۔ ایک سوال پر صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیری پر امن طریقے سے اپنی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کے سوا پوری دنیا جانتی ہے کہ کشمیری نہتے ہیں۔ ان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہ ہے۔ دہشتگردی بھارتی فوج کر رہی ہے۔ کشمیری اس کی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ ایک اور سوال پر صدر مسعود خان نے کہا کہ بھارت فوجی میدان میں پاکستان کو مغلوب نہیں کر سکتا۔ وہ صرف میڈیا کے ذریعے ہی ہمیں شکست دے رہا ہے۔ ہمیں جدید ذرائع ابلاغ کو حکمت عملی سے استعمال کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سخت پابندیوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا نعرہ بلند ہو رہا ہے۔ اور شہیدوں کی تدفین سبز ہلالی پرچم میں کی جاتی ہے۔ جو کشمیری قوم کی پاکستان کے ساتھ لازوال محبت یگانگت اور اخوت کی مثال ہے۔ ایک سوال پر صدر ریاست نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو صرف پارلیمانی کشمیر کمیٹی یا اس کے چیئرمین تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے لیے کام کرنا ریاست کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پارلیمنٹ دفتر خارجہ اور دیگر ادارے اس حوالے سے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے ہر گز غافل نہیں ۔ عید کے بعد مختلف وفود یورپ اور امریکہ جائیں گے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موثر سرگرمیاں ہونگی ۔